Novlet name _ Akeli rat k khali dar ” published in Kiran digest November 1997
Writer _ Samra Bukhari
Pages _28
Heart touching see nice family and hai with mature writing must read 🌹🌹
Kahani Kalsoom ki hai jo maa bap ki ikloti beti hoti.Walid Malik Gulrez k han mulazim hota jiski achanak death ho jati.Malik Gulrez ayyash sa hota wo Kalsoom aur uski maa ko apni hawaili bula leta.Apni bv ko kehta meri maa ki khidmat kare gin.
When Gulrez’s wife becomes suspicious of his intentions, she sends Kalsoom to her friend’s house where she needs a maid to look after her children. Sumair is the owner’s brother who starts liking Kalsoom. Read what happens next.
Heart touching ending hai
SneakPeak
باپ کے جنازے کے بعد جب گھر کے چولہے ٹھنڈے ہونے لگے تو ملک گلریز نے ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر کلثوم اور اُس کی ماں کو اپنی حویلی بلا لیا۔
“آخر تم لوگ اکیلی عورتیں ہو… وہاں کیسے گزارا کرو گی؟” اُس نے نرم لہجے میں کہا تھا۔
شروع شروع میں سب ٹھیک لگا مگر جلد ہی کلثوم کو اُس حویلی کی دیواروں سے عجیب خوف آنے لگا۔ ملک گلریز کی نظریں اکثر اُس پر ٹھہر جاتیں، ایسی نظریں جن سے وہ گھبرا کر اپنی چادر اور مضبوطی سے لپیٹ لیتی۔
ایک رات گلریز کی بیوی نے اُسے راہداری میں کھڑے کلثوم کو گھورتے دیکھ لیا۔ اُس عورت کے دل میں خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔ اگلی صبح اُس نے خاموشی سے کلثوم کی ماں کو بلایا۔
“میں تمہاری بیٹی کو یہاں مزید نہیں رکھ سکتی… گلریز بدل چکا ہے۔ میری ایک دوست ہے، اُسے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک لڑکی چاہیے۔ وہاں کلثوم محفوظ رہے گی۔”
یوں کلثوم ایک نئے گھر آ گئی۔
وہاں زندگی حویلی جیسی خوفناک تو نہیں تھی مگر ذمہ داریاں بہت تھیں۔ دو چھوٹے بچوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اُس کی سانس پھول جاتی، مگر اُن بچوں کی معصوم ہنسی اُس کی تھکن چرا لیتی۔
اور پھر اُس نے پہلی بار سمیر کو دیکھا۔
وہ گھر کی مالکن کا چھوٹا بھائی تھا۔ سنجیدہ مزاج، کم بولنے والا… مگر اُس کی نظریں کلثوم پر کبھی بےادب نہیں ٹھہرتی تھیں۔
کلثوم نے پہلی بار کسی مرد کی آنکھوں میں عزت دیکھی تھی۔
“آپ اتنا کام اکیلے کیسے کر لیتی ہیں؟”
ایک دن سمیر نے باورچی خانے کے دروازے سے ٹیک لگائے پوچھا۔
کلثوم چونک گئی۔
“عادت ہے…” اُس نے مختصر جواب دیا۔
“یا شاید مجبوری؟” سمیر کی آواز میں عجیب نرمی تھی۔
وہ اُس دن پہلی بار خاموش ہوئی تھی… کیونکہ کچھ سوال انسان کے دل کے زخم چھیڑ دیتے ہیں۔
وقت گزرتا گیا اور سمیر کو احساس ہونے لگا کہ کلثوم صرف ایک ملازمہ نہیں، بلکہ ایک ٹوٹا ہوا مگر بےحد خوبصورت دل رکھنے والی لڑکی ہے۔ وہ اُس کی خاموشیوں کو پڑھنے لگا تھا۔
مگر کہانی آسان نہیں تھی…
جب ملک گلریز کو پتا چلا کہ کلثوم اُس حویلی سے نکل چکی ہے تو اُس کی انا کو ٹھیس پہنچی۔ وہ اُسے واپس لانے کے بہانے ڈھونڈنے لگا۔
کلثوم پھر خوفزدہ ہو گئی تھی۔ اُسے لگا شاید قسمت اُسے کبھی سکون نہیں دے گی۔
لیکن اِس بار وہ اکیلی نہیں تھی۔
“اب آپ کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں…”
سمیر نے اُس کی کانپتی انگلیوں پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔
“کیونکہ اب آپ کی حفاظت میری ذمہ داری ہے۔”
کلثوم کی آنکھوں میں پہلی بار خوف نہیں… آنسوؤں کے ساتھ سکون اترا تھا۔
شاید محبت واقعی وہ پناہ ہوتی ہے جہاں ایک تھکا ہوا دل آخرکار چین سے سانس لیتا ہے۔
Tap below 👇


