Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Gar mere raho by Farhat Shaukat - Aesthetic Novels Gar mere raho by Farhat Shaukat - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Digest Novels

Gar mere raho by Farhat Shaukat

Email :3

Published in Kiran digest Oct 2009

Pages_20

Short contract marriage based story hai

Heroin Anabia czn ki shadi attend krny out of Country ati hai jahan uski phupho ka beta bht awara sa hota nashay k leye ghr mai chori krta sath heroin k kaghzat b le jata phupho ki sadmay se death hojati

Hero Areeb Muslim hai mother 2nd marriage kr chuki hain bht rude hai wo heroin se paper marriage krta.Happy ending hai

SneakPeak

انابیہ نے دروازہ زور سے بند کیا اور تیز سانسیں لیتے ہوئے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی۔
“آپ کو کوئی حق نہیں بنتا میرے فیصلے کرنے کا!” اس کی آواز کانپ رہی تھی مگر لہجہ مضبوط تھا۔
اریب نے آہستہ سے اپنی کلائی کی گھڑی اتاری اور ٹیبل پر رکھ دی، جیسے وہ خود کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“فیصلے؟” وہ تلخی سے ہنسا، “یہ سب تم نے خود چنا ہے انابیہ… وہ کاغذی شادی بھی!”
انابیہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، مگر اس نے فوراً پلکیں جھپک کر آنسو روک لیے۔
“میں نے چنا؟ یا حالات نے مجبور کیا؟” اس نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، “آپ کو تو صرف ایک deal چاہیے تھی نا…”
اریب چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔ کمرے میں صرف گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔
“ہاں چاہیے تھی…” وہ دھیمی آواز میں بولا، “مگر میں نے تمہیں اس حالت میں دیکھنے کا نہیں سوچا تھا۔”
انابیہ کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔
“تو اب کیا کریں گے آپ؟” اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “contract ختم کریں گے؟ یا…”
اریب اس کے قریب آیا، اتنا قریب کہ اس کی سانسیں محسوس ہو رہی تھیں۔
“یا… اسے حقیقت بنا دیں؟”
انابیہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر پہلی بار سنجیدگی کے ساتھ کوئی اور احساس بھی تھا… شاید نرمی۔
“یہ کھیل نہیں ہے اریب…” وہ سرگوشی میں بولی۔
“مجھے بھی اب کھیل نہیں لگ رہا…” اس نے آہستہ سے جواب دیا۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی، مگر اس خاموشی میں پہلی بار ایک عجیب سا سکون تھا… جیسے دو اجنبی دل آہستہ آہستہ ایک حقیقت کو قبول کر رہے ہوں۔

Tap below 👇

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts