
Published in Kiran digest Oct 2009
Pages_20
Short contract marriage based story hai
Heroin Anabia czn ki shadi attend krny out of Country ati hai jahan uski phupho ka beta bht awara sa hota nashay k leye ghr mai chori krta sath heroin k kaghzat b le jata phupho ki sadmay se death hojati
Hero Areeb Muslim hai mother 2nd marriage kr chuki hain bht rude hai wo heroin se paper marriage krta.Happy ending hai
SneakPeak
انابیہ نے دروازہ زور سے بند کیا اور تیز سانسیں لیتے ہوئے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی۔
“آپ کو کوئی حق نہیں بنتا میرے فیصلے کرنے کا!” اس کی آواز کانپ رہی تھی مگر لہجہ مضبوط تھا۔
اریب نے آہستہ سے اپنی کلائی کی گھڑی اتاری اور ٹیبل پر رکھ دی، جیسے وہ خود کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“فیصلے؟” وہ تلخی سے ہنسا، “یہ سب تم نے خود چنا ہے انابیہ… وہ کاغذی شادی بھی!”
انابیہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، مگر اس نے فوراً پلکیں جھپک کر آنسو روک لیے۔
“میں نے چنا؟ یا حالات نے مجبور کیا؟” اس نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، “آپ کو تو صرف ایک deal چاہیے تھی نا…”
اریب چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔ کمرے میں صرف گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔
“ہاں چاہیے تھی…” وہ دھیمی آواز میں بولا، “مگر میں نے تمہیں اس حالت میں دیکھنے کا نہیں سوچا تھا۔”
انابیہ کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔
“تو اب کیا کریں گے آپ؟” اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “contract ختم کریں گے؟ یا…”
اریب اس کے قریب آیا، اتنا قریب کہ اس کی سانسیں محسوس ہو رہی تھیں۔
“یا… اسے حقیقت بنا دیں؟”
انابیہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر پہلی بار سنجیدگی کے ساتھ کوئی اور احساس بھی تھا… شاید نرمی۔
“یہ کھیل نہیں ہے اریب…” وہ سرگوشی میں بولی۔
“مجھے بھی اب کھیل نہیں لگ رہا…” اس نے آہستہ سے جواب دیا۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی، مگر اس خاموشی میں پہلی بار ایک عجیب سا سکون تھا… جیسے دو اجنبی دل آہستہ آہستہ ایک حقیقت کو قبول کر رہے ہوں۔
Tap below 👇







