Novel name _ Mere khuwab” published in Kiran digest August 2008
Writer _ Maryam Mah Munir
Pages_30
Childhood nikah based family story hai check karen 🌹♥️
Heroin Sanobar ka hero Majeed se bachpen mai hi nikah kardiya jata hai.Heroin ke walid ke dost ka beta aur parosi bhi hotay.Nikah ke bad heroin ke walid ki death ho jati aur aur hero ki family dusre shehar shift kar jati.
Hero study ke silsilay mai out of Country chala jata aur wahan ja ke wo mazeed es rishte ko qaim nahi rakhna chahta aur parents ko es rishte ko khatam karne ka kehta hai.Heroin hero ke ghar reh ke uski behan ke sath university admission leti hai.Halki phulki family story hai read karen Happy ending hai ♥️♥️
SneakPeak
“ڈیڈ پلیز میں یہ بچپن کے نکاح کو نہیں مانتا۔”
“لیکن تمہارا نکاح۔”
“فور گاڈ سیک ڈیڈ۔ فضول کا لیکچر مت دیجئے گا اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میری جان طلاق کے تین الفاظ سے چھوٹ سکتی ہے تو اٹس اوکے میں اگلے ہی ہفتے بنوا کر بھیج دوں گا اپ کو بائے میل مل جائیں گے ڈیورس پیپر۔”
“بکواس بند رکھو مجید میری یہ تربیت۔”
“پلیز ڈیڈ جب آپ نے نکاح کیا تھا تو پوچھا تھا؟آپ کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔”
“لائف از نوٹ آ جوک۔ ماں باپ نے جس کے پلے چاہا باندھ دیا جس کو جانتے بھی نہیں بچپن میں دیکھا ہاں جھلک یاد ہے لیکن کیا زندگی ایسے گزاری جا سکتی ہے۔”ثنا اللہ صاحب بیٹے کی بات پر خاموش سے ہو گئے تھے۔
“تم صنوبر کو ایک مرتبہ دیکھ لو تم کہو تو اس سے بات کرو بہت اچھی ہے۔تمہاری زندگی اچھی ثابت ہوگی مجھے پورا یقین ہے۔”ثنا اللہ صاحب نے اپنے طور پر اس کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
“تم بدل گئے ہو۔”ثنا اللہ صاحب پہ ہی بنانا رہ سکے تھے۔
“لیو اٹ ڈیڈ آپ یہ بتائیے کہ میں ڈائیورس پیپر کب بھیجوں۔؟”
“اب یہ نہ کہیے گا کہ اس لڑکی کو یو کے بھیج دیتا ہوں۔”
“میں تمہیں فورس بھی نہیں کروں گا اب تو تمہارے آگے درخواست ہی کر سکتا ہوں اگر بوڑھے باپ کے لیے اتنا کر سکو۔” اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گئے تھے۔
“بولیے سوچ کر بتاؤں گا۔”
“تم صنوبر کو طلاق نہیں دو گے۔”
“یومین اس کا دم چھلا میری جان کے ساتھ لگا رہے گا۔”مجید کی آواز ایئر پیس پر ابھری تھی جو ثنا اللہ صاحب کے کانوں کے پردوں سے ٹکرائی۔
Link






