Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Digest Novels

Phool mehakti rahon per by Roheela Khan

Email :1237

Novel name_ Phool mehakti rahon per ” published in Kiran digest February 1999

Writer_ Roheela Khan


Pages _20

Eid based +Emergency nikah based family story hai check 🌹🌹

Hero faisal job k silsilay mai mamoo k ghar rehne ata hai.Hero ki mumani ka rawaiya us se achaa nahi.Heroin Afsheen mamoo ki beti hai🥰Jis se hero ki nahi banti🙂Mamoo k bamar hone pe dono ka emergency mai nikah hojata.Aagay kia hota read karen 🌹 Happy ending hai ♥️♥️

Sneak peak

تم انتہائی سے زیادہ بد تمیز بد مزاج اور فضول لڑکی ہو اتنی سی عمر میں تم کاٹ کھانے کو دوڑتی ہو کل تو تم مجھ پر اور میری ماں پر ڈنڈا لے کر کھڑی ہو جاؤ گی۔”
ہاں ہاں تمہاری اماں تو جیسے بڑی معصوم ہے ۔ خوب پتہ ہے مجھے اماں نے ایک ایک بات بتائی ہے . مجھے پورے خاندان کے بارے میں۔ “ اس کی چھوٹی کی ناک غصے سے سرخ ہو رہی تھی۔
کیا ہے بات ؟ بولو جواب دو ؟۔ “وہ جوش کھا رہا تھا۔
زبان نہ کھلواؤ میری۔ ” اس نے دیدہ دلیری سے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
تمہاری زبان تو پہلے ہی اچھی خاصی کھلی ہوئی ہے اور اب میں تم جیسی لڑکی کے ساتھ کوئی تعلق رکھنا نہیں چاہتا ۔جا رہا ہوں میں یہاں سے اب میرا اس سے ہر قسم کا رشتہ ختم ” اس نے غصے سے بیگ اٹھایا اور اس میں سامان بھرنا شروع کر دیا ۔
دیکھے۔“ وہ کچھ گھبرائی۔
کہاں جا رہے ہو تم؟۔ وہ چیخی۔
تمہیں اس سے مطلب ” اس نے اس کی جانب دیکھے بغیر ہی کہا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا وہ دوڑتی ہوئی نیچے چلی گئی ، اس کا ہی کتنا ہی بیگ تھا جلد ہی پیک ہو گیا۔
کدھر اور کہاں جاتا ہے؟۔ اس کا دماغ بالکل کام نہیں کر رہا تھا اسے تو بس اس گھر سے اس وقت ہی جاتا تھا اپنا سامان اٹھائے وہ نیچے اترا تو نیچے اسکے نکل بڑے ماموں جان منتظر نظر آئے شاید اس نے ان کے کان بھر دیے تھے، وہ خاصے پریشان دکھائی دے رہے
تھے۔”فیصل بیٹا کہاں جا رہے ہو ۔ اس وقت ؟؟
”بس ماموں جان مجھے ۔ روکیے گا نہیں بہت برداشت کر لیا میں نے اب نہیں ہوتا۔ “ اس نے ان کی جانب دیکھے بغیر ہی جواب دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts