“Dhal Gaya Hijr Ka Mausam” by Asma Saleem ek romantic aur emotional kahani hai jismein judai, mohabbat, intezar aur rishton ki uljhanon ko khoobsurti se bayan kiya gaya hai. Kahani mein mohabbat karne wale dil halaat aur ghalat fehmiyon ki wajah se ek doosre se door ho jate hain, lekin sachchi mohabbat unhein dobara milne ki raah dikha deti hai. Hijr ka lamba mausam aakhirkaar mohabbat ki bahaar mein badal jata hai.
………….
Genre: Army based, Family Story, After Marriage Romantic Novel, Digest Novel
…………
Story line
یہ کہانی ایک ایسے گھرانے کی ہے جہاں چار بھائی، ان کے ابو اور دادا رہتے ہیں، لیکن گھر میں کوئی عورت نہیں۔ اس وجہ سے گھر کے کام کاج کا برا حال ہے اور سب گھر والے ایک عورت کی کمی محسوس کرتے ہیں۔
گھر کا بڑا بیٹا شہمیر آرمی میں ہے اور سیاچن کے محاذ پر تعینات ہے۔ ایک دن وہ فون کرکے سب کو بتاتا ہے کہ اس نے شادی کر لی ہے اور اس کی بیوی جلد گھر آنے والی ہے۔ یہ خبر سنتے ہی پورے گھر میں خوشی اور جوش پھیل جاتا ہے اور سب اس نئی بہو کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔
اسی دوران سویرا نام کی ایک لڑکی اس گھر میں پناہ لینے کے لیے آتی ہے۔ گھر والے اسے شہمیر کی بیوی سمجھ لیتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سویرا بھی اس غلط فہمی کو دور نہیں کرتی، بلکہ خاموش رہتی ہے۔
رفتہ رفتہ سویرا گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہے۔ وہ گھر کو بکھرنے سے بچاتی ہے، سب کے کام کرتی ہے اور گھر کے افراد بھی اس سے محبت اور انس محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یوں وہ اجنبی ہوتے ہوئے بھی اس خاندان کا اہم حصہ بن جاتی ہے۔
لیکن اصل مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب شہمیر واپس آتا ہے۔ اسے سویرا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا اور اسی دوران وہ اپنی اصل بیوی سارا سے بھی ملتا ہے۔
اب کہانی میں بڑا راز کھلتا ہے:
سویرا کون ہے؟ وہ شہمیر کے گھر پناہ لینے کیوں آئی تھی؟ سارا اصل میں کہاں تھی؟ شہمیر کو سویرا کی حقیقت کیسے معلوم ہوتی ہے؟ اور جب گھر والوں کو پتا چلتا ہے کہ جس لڑکی کو وہ بہو سمجھ رہے تھے وہ دراصل شہمیر کی بیوی نہیں، تو ان کا ردِعمل کیا ہوتا ہے؟
یہی کہانی کا اصل سسپنس ہے۔ آخر میں تمام غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اور کہانی ہیپی اینڈنگ کی طرف جاتی ہے۔
Click Below 👇🏻












