Rihanna Aftab is a remarkable writer she has written many stories in Urdu that are just novels now she is currently working as a drama writer. We highly appreciate her efforts toward Urdu literature to download this novel go down and click on the download button.
• Original Publication: Monthly Kiran Digest (March 2005)
• Length: Short social novel (around 30 pages)
• Themes: Forced marriage, kidnapping-based romance, revenge/ego elements, and post-marriage romance
• The Characters: The heroine is Kashish Zawar, a university student, and the hero is Yalmaz Haider, who falls for her (she is friends with his sister).
• The Conflict: Yalmaz sends a marriage proposal, but Kashish’s parents reject it because they only marry within their family. Misunderstandings and rejections pile up, and Kashish’s family starts doubting her character due to a misunderstanding involving her friend.
• The Twist: After multiple rejections, an angry Yalmaz kidnaps Kashish and forces her into a Nikkah, dropping her back to her parents’ home the next day. The rest of the story explores their life and growing feelings after this forced marriage.
……..
Forced Marriage, Family Based, Romantic Novel, Forced NIKAH, Digest Novel
Genre: رومانس، ڈرامہ، فیملی فکشن، جبری نکاح، سلو برن رومانس
خلاصہ:
کشش زوار ایک خوددار یونیورسٹی طالبہ ہے، جو یلماز حیدر کی بہن کی قریبی دوست ہے، مگر یلماز خاموشی سے اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
وہ کشش کے گھر شادی کا پیغام بھیجتا ہے، لیکن خاندانی روایات کے باعث اسے سخت انکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
غلط فہمیوں اور مسلسل رد کیے جانے کے بعد یلماز ایک انتہائی قدم اٹھا کر کشش سے زبردستی نکاح کر لیتا ہے۔
یہ زبردستی کا رشتہ کشمکش، غصے اور پچھتاوے سے گزرتے ہوئے آہستہ آہستہ اعتماد، قربت اور محبت کی طرف بڑھتا ہے۔
کہانی کا خلاصہ
کشش زوار ایک خوبصورت، خوددار اور یونیورسٹی کی طالبہ ہے، جس کی زندگی اپنے معمول کے مطابق گزر رہی ہوتی ہے۔ وہ یلماز حیدر کی بہن کی اچھی دوست ہے، مگر اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ یلماز کب اس کی معصومیت، سادگی اور شخصیت کا اسیر ہو چکا ہے۔
یلماز، کشش کو دل سے چاہنے لگتا ہے اور اپنی محبت کو رشتے کا نام دینے کے لیے اس کے گھر باقاعدہ شادی کا پیغام بھیجتا ہے۔ مگر کشش کے والدین صاف انکار کر دیتے ہیں، کیونکہ ان کے خاندان میں صرف اپنے خاندان کے اندر ہی شادیاں کرنے کی روایت ہے۔ یلماز کی محبت اور نیت جاننے کے باوجود وہ اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتے۔
ایک کے بعد ایک انکار، غلط فہمیاں اور حالات یلماز اور کشش کے درمیان فاصلے بڑھاتے جاتے ہیں۔ اسی دوران کشش کی ایک دوست سے متعلق پیدا ہونے والی غلط فہمی اس کے خاندان کو بھی اس کے کردار پر شک کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کشش خود کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے، مگر حالات مسلسل اس کے خلاف ہوتے جاتے ہیں۔
بالآخر مسلسل مسترد کیے جانے اور غصے میں یلماز ایک انتہائی سخت قدم اٹھاتا ہے۔ وہ کشش کو اغوا کرکے زبردستی اس سے نکاح کر لیتا ہے اور اگلے ہی دن اسے واپس اس کے والدین کے گھر چھوڑ آتا ہے۔
اب ایک طرف کشش کے لیے یہ نکاح ایک زبردستی مسلط کیا گیا رشتہ ہے، جبکہ دوسری طرف یلماز کے دل میں اس کے لیے موجود محبت، غصے، پچھتاوے اور بے بسی کے جذبات ایک دوسرے سے الجھنے لگتے ہیں۔
ایک زبردستی کے نکاح سے شروع ہونے والا یہ رشتہ آگے چل کر کس طرح محبت، اعتماد، قربت اور جذبات میں بدلتا ہے؟ کیا کشش کبھی یلماز کو معاف کر پائے گی؟ اور کیا یلماز اپنی محبت کو زبردستی کے بجائے کشش کی مرضی اور اعتماد حاصل کرنے میں بدل سکے گا؟
یہ کہانی محبت، غلط فہمیوں، خاندانی روایات، زبردستی کے نکاح، پچھتاوے، جذباتی کشمکش اور آہستہ آہستہ پیدا ہونے والی محبت کے گرد گھومتی ہے۔
👇👇👇👇👇
SneakPeak
کشش زوار۔۔۔! تمہیں اپنا نہ بنایا تو اپنا وجود ہی صفحہ ہستی سے مٹا دوں گا۔۔ یہ وعدہ رہا تم سے۔۔۔!”
“آخر کر لیا نہ وہی جو وہ چاہتا تھا۔۔!” کشش کیا یلماز جو کہہ رہا ہے وہ درست ہے۔۔ کیا تم نے اس سے نکاح کیا ہے۔۔۔!؟؟”
نکاح نامہ آپ کے سامنے ہے۔۔ اس میں کل کی تاریخ درج ہے۔۔ پھر بھی ۔ بھی سوال !؟؟ کیسی فتح مندی تھی۔۔ وہ مسکرا کر مسلسل انہیں انہیں : چڑا رہا تھا،،، کشش جواب دو۔۔۔!” پپا کل جب بھیا مجھے چھوڑ کے۔۔۔!” صرف یہ بتاؤ نکاح ہو چکا ہے۔۔ !؟؟ کوئی فائدہ نہیں انہیں کچھ سنانے کا میں ایک گھنٹے سے انہیں سمجھا رہا ہوں۔۔ کل ہم نے گو نے گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا ہے۔۔۔!” وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھے گئی۔۔
وہ کہانی کا کتنا غلط انداز دکھا رہا تھا۔۔ وہ یہ ثابت کر رہا تھا کہ اس عمل میں وہ برابر کی شریک ہے۔۔ اس کا دل کیا اس کے خوبصورت چہرے پر تھپڑوں کی بارش کر دے۔۔ سرے عام کوڑے لگائے اسے سنگسار کر دے
” پاپا نکاح ہو چکا ہے لیکن۔۔۔!” بس۔۔ آپ اپنی بہو کو لے جا سکتے ہیں حیدر صاحب ۔۔۔!”















