Novel name _Hum per kia ilzam saje ga ” published in Khwateen digest April 2026
Writer _ Asia Raees Khan
Pages _33
Review by Ali Abdullah
“ہم پر کیا الزام سجے گا”
خواتین اپریل 2026ء
تحریر: آسیہ رئیس خان
تبصرہ نگار: علی عبداللہ
آسیہ رئیس خان قاری کے ذہن پر ضرب لگانا بہت اچھے سے جانتی ہیں ۔۔
کہانی میں اتنے خوبصورت پیغامات دینا اور وہ بھی اس طرح کے ان پیغامات کا بوجھ کہانی کے حسن کو متاثر نہ کرے آسان نہیں لیکن آسیہ رئیس خان اس ہنر سے بخوبی واقف ہیں۔۔۔۔
بطور انسان ہمیں اپنی زندگی کا ہر فیصلہ لینے کا مکمل حق ہوتا ہے اور کسی بھی انسان کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی بھی فیصلے کو بنیاد بنا کر ہمارے مستقبل کا تعین کرے ۔۔۔
لیکن بعض دفعہ اپنے ہی ان فیصلوں کو وجہ بنا کر دوسرے انسان کی زندگی کو اپنے اختیار میں لینا چاہتے ہیں۔۔۔
جیسے ناظمہ نے کیا۔۔۔۔
مسفرہ نے اکثم کو رشتے سے انکار کیا تھا اور اس کو مکمل حق تھا لیکن ناظمہ نے اس بات کو جس طرح اپنے حق میں استعمال کیا اور مسفرہ کو کئی سالوں تک نہ ختم ہونے والے گلٹ کا شکار بنایا بہت تکلیف دہ ۔۔
دیکھا جائے تو ہمارے ارد گرد کتنے ہی ایسے کردار ہوتے ہیں جو دوسروں کو شرمندہ اور پچھتاتے دیکھ کر خوش ہوتے رہتے ہیں کیونکہ یہ بات ان کی تسکین کا سبب بنتی ہے۔۔۔۔
لیکن ضروری امر یہ ہے کہ اپنے حق کے لیے کھڑا ہوا جائے۔۔۔۔
جیسے مسفرہ نے وقت پر صحیح فیصلہ کیا ۔۔۔۔
اکثم کا کردار بہت بہت خوبصورت ۔۔۔۔
مسفرہ کہ انکار کو اس نے اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا اور نہ ہی خود ترسی کا راستہ اپنایا لیکن دل پر کس طرح قابو پا سکتا تھا۔۔۔۔
وہ دل جو مسفرہ کے ساتھ کے لیے ہمکتا تھا۔۔۔۔
وہ دل جسے صرف مسفرہ کی خوشی عزیز تھی۔۔۔۔
کہانی میں یہ پیغام بھی بہت اچھے سے دیا گیا کہ کبھی بھی خود ساختہ گلٹ کے حصار میں مقید ہو کر اپنے آپ پہ ظلم نہ کریں اور نہ ہی کسی کو خود پر حاوی ہونے دیں۔۔۔۔۔
کیا ہوگا مسفرہ اور اکثم کی اس کہانی کا انجام ؟
جاننے کے لیے پڑھیے” ہم پر کیا الزام سجے گا”۔۔۔
Tap below 👇🏽
















