Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Digest Novels

Ana Ke Gunbad e Bedar Complete by Samra Bukhari

Email :429

صنف: معاشرتی، رومانوی اور جذباتی ناول (Social Romantic / Emotional Fiction)
اس میں خاص طور پر:
معاشرتی پہلو: نکاح، سسرال، عزتِ نفس اور معاشرتی رویے۔
رومانوی پہلو: میاں بیوی کا رشتہ اور جہاد کا رویہ۔
جذباتی/نفسیاتی پہلو: لڑکی کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ، بے بسی، خودداری اور اچانک بدلتی ہوئی کیفیت۔
خاندانی ڈرامہ: گھر والوں کا ردِعمل اور رشتوں کے درمیان کشمکش۔

Introduction

کہانی ایک جذباتی اور کشیدہ خاندانی صورتحال کے گرد گھوم رہی ہے۔ ایک طرف کرداروں کے درمیان ماضی کی تلخیوں، غلط فہمیوں اور شکووں کا اثر موجود ہے، جبکہ دوسری طرف گھر کے ماحول میں ایک ایسی بات سامنے آ رہی ہے جو سب کے جذبات کو مزید الجھا دیتی ہے۔
مرکزی کردار ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے اپنے دل کی کیفیت، تکلیف اور شکایات بیان کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایک کردار کو یہ احساس ہے کہ اس کی بات اور جذبات کو صحیح طرح سمجھا نہیں گیا۔ گفتگو میں اعتماد، رشتوں کی مضبوطی، ماضی کی یادیں اور اپنوں کے رویوں کا ذکر آتا ہے۔
ایک مقام پر گفتگو اتنی جذباتی ہو جاتی ہے کہ کردار اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہوئے ماضی کے واقعات اور اپنی تکلیف بیان کرتا ہے۔ اس کے جواب میں دوسرا کردار اسے سمجھانے اور حوصلہ دینے کی کوشش کرتا ہے کہ ہر رشتہ صرف ظاہری حالات سے نہیں بلکہ خلوص، اعتماد اور ساتھ نبھانے سے قائم رہتا ہے۔
بعد میں منظر میں گھر کے دوسرے افراد اور ایک لڑکی سے متعلق حالات بھی سامنے آتے ہیں، جس سے کہانی میں مزید تجسس پیدا ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ حصہ رشتوں کی کشمکش، جذباتی گفتگو، غلط فہمیوں اور چھپے ہوئے احساسات کو نمایاں کرتا ہے اور آگے آنے والے کسی اہم انکشاف کی بنیاد بناتا ہے۔

SneakPeak

”دوٹکے کی چھوکڑی۔۔۔“اسکے الفاظ اسکے کانوں میں ہتھوڑے برسارہےتھے۔
”مجھے اس وقت کیا کرنا چاہیے۔ کیا اپنا دکھ انہیں دکھا دوں۔“ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگوں۔ کیا میں ان ہے کہہ دوں، مجھے جہاد کے یوں چلے جانے پر کوئی دکھ نہیں یا پھر یہ کہہ دوں کہ اس نے میرے بارے میں جو زبان استعمال کی ہے اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر وہ کچھ نہیں کہہ سکی اور اس کی آنکھوں سے ایک آنسو بھی نہیں ٹپکا۔ اس کا چہرہ بھی سپاٹ رہا مگر اس کے ہونٹ سفید ہو رہے تھے اور ہاتھ پاؤں بے حد ٹھنڈےتم گھبراؤ نہیں بیٹا! وہ غصے کا تیز ہے۔ یونہی بہت کا کچھ پک گیا مگر اسے لوٹ کر یہیں تمہارے پاس آنا ہے۔ تم اس کے نکاح میں ہو اور نکاح کوئی مذاق نہیں ہے۔ تم اس گھر کی ہونے والی بہو ہو ۔ جہاد یہاں سے لڑ جھگڑ کر چلاگیا تو یہ اس کا بچپنا ہے، بے وقوفی ہے اور اس تمہاری حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑا۔” تو پھر یہ دل اس قدر شرمسار کیوں ہے چا؟ اور یہ سر اوپر اٹھاتے مجھے وقت کیوں ہو رہی ہے میں کسی کا بھی سامنا کرنے سے خوف زدہ کیوں ہوں؟۔ وہ یہ سوال کرنا تو چاہتی تھی مگر کر نہیں سکی ۔وہ باتیں کرتے رہے۔”تم اب جاؤ اپنے کمرے میں جا کر سو جاؤ۔“ قدم زمین پر رکھتے اسے لگا تھا، زمین ساکت نہیں ہے؟جھول رہی ہے مگر یہ بھی اس نے کسی سے نہیں کہا۔ وہ بمشکل اپنے کمرے میں آئی مگربستر تک نہیں پہنچ سکی گر پڑی۔ اسے سخت پیاس محسوس ہوئی تھی اور اسے لگا تھا، اس کے گلے میں کچھ اٹک گیا ہے پھر اسے کچھ یاد نہیں۔ذہین اسٹوڈنٹ اچھی پلیئر با اعتماد ڈیٹر والدین کی لاڈلی، ٹیچرز کی چہیتی بھی وہ دل سے ہنستی تھیں۔ مقابل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts