Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Zindagi ik paheli by Afsheen Naeem - Aesthetic Novels Zindagi ik paheli by Afsheen Naeem - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Digest Novels

Zindagi ik paheli by Afsheen Naeem

Email :46

Genre: Caring hero, Mature writing style, Happy Ending…
Status: Complete.

Sneakpeak

“میں کانوں سے سنتی ہوں۔۔” بغیر مڑے بولی۔ “میں دل سے سنتا ہوں اور دل کی سنتا ہوں۔”
“تو پھر چپ کر کے سنتے رہو۔۔“ ” چار سال تک چپ کر کے سنتا ہی رہا ہوں ۔“اب بولنے کی باری ہے ۔”
” تم مجھ سے خفا ہو کہ میں چلا کیوں گیا؟؟”
” میں تم سے خفا تھی کہ تم لوٹ کر واپس کیوں نہیں آئے۔” اور اب وہ اس کے وہ اس کے مقابل ہوا۔
اس کی ٹھوڑی کا تل ویسے ہی چمک رہا تھا جیسے چار سال پہلے چمکتا تھا۔
” میں اب تم سے خفا ہوں تم نے دیر کیوں کر دی؟؟”اب پر زور دیا۔
” میں سمجھا تھا تمہاری شادی۔۔۔”
” میں ان دو ماہ کی بات کر رہی ہوں۔ ان چار برسوں کا ذکر جانے دو۔ بڑا لمبا حساب  کتاب کھلتا ہے تمہاری طرف
تفصیل سے کریں گے۔ اس وقت تم یہ بتاؤ، چار برس بعد آئے۔ اپنے کالج کی جوائنگ دینے اور منہ اٹھا کر واپس چلے گئے۔
پھر دو ماہ کوئی خیر خبر ہی نہ دی۔“ “اصل میں میری اماں جی سکتے میں چلی گئی تھیں۔ وہ جن آپا جی پر تکیہ
کر کے ساری عمر معاملات چلاتی رہیں ان کو پولیس پکڑ کر لے گئی۔ بس بڑی مشکل سے اماں کو ہم واپس زندگی کی طرف لائے ہیں۔۔۔“
” ہوں بتایا تھا رانی نے مجھے کافی کچھ۔۔۔” چند پل خاموشی کی نذر ہوئے۔
” تم نے میری کتاب دیکھی؟؟” اس نے کتاب رخشی کے سامنے کی۔
” دیکھی بھی خریدی بھی اور پڑھ بھی لی۔۔۔” ” محبت گلاب سی!!” اس نے زیر لب دہرایا۔
” اس کا انتساب دیکھا تم نے۔۔۔ ” ” ہوں۔۔۔” وہ ہنسی۔
” گل کے نام جو گلوں میں اک گلاب ہے۔۔۔” ” جانتی ہو، یہ گلاب کون ہے؟؟“
“جانتی ہوں۔۔ اور تم جانتے ہو تم اک بار پھر ناحق دیر کر رہے ہو۔۔۔”
“نہیں، اب کی بار دیر نہیں ہوگی۔ اگلے ماہ میری دونوں بہنوں کی شادی ہے۔ میری چچی کے لڑکوں سے۔۔۔“
“چچی کے لڑکوں سے.۔ چچا کے لڑکوں سے نہیں۔۔” وہ ہنس دی۔
“چچا تو کبھی کے اللہ کو پیارے ہوئے۔ چچی ہی ہیں اب تو۔۔” “اچھا۔۔۔”
” تو میں سوچ رہا ہوں کہ اماں اکیلی کیسے رہیں گی۔۔ ان کے لیے بہو لے جاؤں۔ ذرا دل بہلا رہے گا۔”
“صرف اماں کے دل کی فکر ہے؟”
” نہیں، اپنے دل کی بھی فکر ہے!!” وہ شوخ ہوا ۔ ” بس۔۔۔” وہ شرارتی ہوئی ۔
“نہیں۔ ایک دل اور بھی ہے۔ اس کی بھی بڑی فکر ہے مجھے۔“
” وہ یقینا تمہاری بہن کا ہوگا۔۔۔”
” نہیں تمہارے ابا کا۔۔۔” وہ ہنسا۔
” ہمارے ابا میاں!!!” رخشی نے تصحیح ضروری سمجھی۔
” ہاں ہمارے ابا میاں۔۔۔” وہ اس کا ہم خیال ہوا۔

Click below 👇

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts