Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Khayalat ka Khonkhawar Saya Writer Asfand Yar Waheed - Aesthetic Novels Khayalat ka Khonkhawar Saya Writer Asfand Yar Waheed - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Web Novels

Khayalat ka Khonkhawar Saya Writer Asfand Yar Waheed

Email :11017

khayalat ka khoonkhar Saya (novella ناولیٹ)
Writer: Asfandyar Waheed(well known the author of Bairbel urdu novel)
Genre: Love, Horror based psychological thriller and full of suspense with mystery

اسلام علیکم!

میں اسفندیار وحید ہوں۔ میرا تعلق پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے ہے۔جسے شہرِاقبال بھی کہا جاتا ہے۔ میں میڈیکل کا سٹوڈینٹ ہوں۔ میں ایک استاد بھی ہوں اور اب میں ایک راءتر بھی بن چُکا ہُوں۔ کچھ ہی قبل میرا پہلا ناول بیربل دا رائٹر اوراق پبلیکیشنز سے شائع ہُوا ہے۔ اُمید ہے کہ آپ میرے کام کو ضرور سراہیں گے اور اسے دوسروں تک پہنچائیں گے۔
Insta Id: a.r_wahid07
Follow me here for more….
Sneakpeak

اُس بَلا نے پیچھے درخت سے اُڑتے ہُوئے آئے اوندھے پرے سیف پر چھلانگ لگائی۔ سیف کو کس کر جکڑا اور گیٹ پار اندر پھینکا۔ سیف بےجان وجود سا کراہتا رہا۔ اُس بلا نے گیٹ سے اُڑ کر دوبارہ سیف پر چھلانگ لگائی۔ اُسے کالر سے پکڑا اور اُٹھا کر دُور اُس میدان میں موجود درخت کے اُوپر پھینکا۔ طوفان جیسی تیزی ہواؤں کے چلتے چلے گیٹ مکمل اندر کو کُھل گیا۔ پیرےدار درخت بھی آنکھیں پھاڑے جاگ گئے۔

گیٹ پر کھڑی سُنبل یہ منظر دیکھے پھٹی کی پھٹی آنکھوں سا شاکڈ ہو گئی۔وہ چیختی ہُوئی سن دماغ سی سٹپٹا گئی۔ اُس کی آنکھیں اُڑتے سیف کا تعاقب کرے اُس درخت پر جا ٹھہریں۔ سیف اُس درخت سے پرے نیچے گہرائی میں جا گرا۔ جہاں سے بچنا یا واپس آنا ناممکن تھا۔ سُنبل کی ساری اُمیدیں آفس میں رکھی رِنگ باکس کے اندر ہی قید رہ گئیں۔ سیف نے اپنا نام آخری مرتبہ سُنبل کی پُکار میں سنا۔”نہیں۔، سیف۔۔۔۔!“

Insta id: a.r_wahid07

SneakPeak

گیٹ پر کھڑی سُنبل یہ منظر دیکھے پھٹی کی پھٹی آنکھوں سا شاکڈ ہو گئی۔وہ چیختی ہُوئی سن دماغ سی سٹپٹا گئی۔ اُس کی آنکھیں اُڑتے سیف کا تعاقب کرے اُس درخت پر جا ٹھہریں۔ سیف اُس درخت سے پرے نیچے گہرائی میں جا گرا۔ جہاں سے بچنا یا واپس آنا ناممکن تھا۔ سُنبل کی ساری اُمیدیں آفس میں رکھی رِنگ باکس کے اندر ہی قید رہ گئیں۔ سیف نے اپنا نام آخری مرتبہ سُنبل کی پُکار میں سنا۔”نہیں۔، سیف۔۔۔۔!“

Tap 👇

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts