بہن یا بیٹی کی شادی صرف اس لیے جلدی میں نہ کریں کہ دنیا کے سوالوں سے بچ سکیں۔ یاد رکھیں، نکاح کسی مسئلے پر پردہ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ ایک پوری زندگی کی ذمہ داری ہے۔
اگر کوئی شخص آپ کی بیٹی کے لیے مناسب نہیں، اس کے مزاج، کردار اور رویے کے بارے میں واضح خدشات موجود ہیں، تو صرف معاشرے کے دباؤ سے اسے اپنی بیٹی کے لیے منتخب کرنا انصاف نہیں۔ آپ وقتی طور پر دنیا کے سوالوں سے تو بچ جائیں گے، مگر ممکن ہے اپنی بیٹی کی پوری زندگی کے دکھ کے ذمہ دار بن جائیں۔
جب بعد میں وہی بیٹی ذہنی اذیت، بے سکونی یا ظلم کا شکار ہوتی ہے اور اس کے عزیز و اقارب انصاف کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، تو سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس رشتے کی بنیاد رکھتے وقت تحقیق، سمجھ بوجھ اور انصاف کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا گیا؟
بات کسی کے معیار کو کم یا زیادہ سمجھنے کی نہیں، بات اپنی بیٹی کی زندگی کو سمجھنے کی ہے۔ شادی صرف نکاح کی مہر ثبت کر دینے کا نام نہیں؛ یہ دو انسانوں، دو خاندانوں اور ایک پوری زندگی کا فیصلہ ہے۔
آخر کب تک بیٹیاں صرف معاشرے کے خوف، لوگوں کے سوالات اور جلد بازی کی قیمت ادا کرتی رہیں گی؟ آخر کب تک والدین صرف یہ سوچ کر اپنی بیٹی کا رشتہ کر دیں گے کہ “لوگ کیا کہیں گے”؟
یاد رکھیں، بیٹی کا غیر شادی شدہ رہ جانا کوئی ناکامی نہیں۔ غلط انسان کے ساتھ پوری زندگی گزارنے پر مجبور کر دینا اس سے کہیں بڑا ظلم ہے۔
اپنی بیٹی کے لیے رشتہ چنتے وقت صرف گھر، نوکری، دولت یا ظاہری حیثیت نہ دیکھیں؛ کردار، مزاج، رویہ، ذمہ داری اور انسانیت کو ضرور دیکھیں۔
کیونکہ بیٹی صرف بیاہنے کی ذمہ داری نہیں، ایک امانت ہے۔ اور امانت کے بارے میں فیصلہ جلد بازی سے نہیں، پوری سمجھ داری اور انصاف سے کیا جاتا ہے۔



