
Jo ishq mai beeti wo ishq hi janay by Naila Tariq
Story Name: Jo ishq mai beeti wo ishq hi janay
Writer Name: Naila Tariq
Genre: hate to love trope, siblings bond, Self-Sacrifice, age difference, family system, funny, digest novel, HAPPY ENDING
SneakPeak
“سانپ کی طرح کینچلی بدلنا تو کوئی تم سے سیکھے۔ میری آنکھوں کے سامنے محبت کے راگ ختم نہیں ہوتے تمہارے۔ اور جب آنکھ سے اوجھل ہوتے ہو تو مجھ سے زیادہ برا کوئی نہیں ہوتا تمہارے لیے ۔“ اس کے زہر خند لہجے پر عارش کے تاثرات بدلے تھے۔۔
“ہاں، سچ کہا تم نے کبھی کبھی تو واقعی مجھے بھی یہ لگتا ہے کہ تم سے زیادہ برا کوئی نہیں۔ کیونکہ ایک تم ہی ہو جو مکمل مجھے اپنے بس میں کر چکی ہو۔ میرے سارے اختیارات اپنی مٹھی میں لے چکی ہو۔ مجھ سے راضی ہوتی ہو تو اس طرح کہ سانس بھی لینا مشکل کر دیتی ہو اور ناراض ہوتی ہو تو اس طرح کہ جینا دوبھر کر دیتی ہو۔۔۔” بجھے لہجے میں بولتا وہ شکایتی نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا جس کے تیور مزید بگڑ رہے تھے۔
“تمہاری آنکھوں سے اوجھل ہو کر بھی میں ویسا ہی ہوں جیسا کہ اس وقت تمہارے سامنے ہوں۔ میں تمہارے قریب رہوں یا ڈمدور مگر میرے دل میں تمہاری محبت کا سمندر کبھی خشک نہیں ہو سکتا اور اسے تمہاری محبت کی بارشوں کی محتاجی بھی نہیں مگر چاہت ضرور ہے۔”
“میں اب تمہارے راگ نہیں سننے والی۔ فون پر جس لہجے میں تم نے مجھ سے بات کی تھی، اس کے بعد تم مزید میری آنکھوں میں مٹی ڈالنے کی کوشش مت کرو۔ میں لعنت بھیجتی ہوں تمہاری محبت پر کیا ہے یہ محبت، بس چند گھنٹوں یا دنوں کا خبط ۔ اس کے بعد دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے سب۔۔۔”
“ایک لفظ اور مت کہنا تم !!” سرخ چہرے کے ساتھ عارش نے اس کی بات کائی تھی۔
” جس جذبے سے تم عاری ہو، سے انجان ہو، اس کے بارے میں اتنی بے ہودہ بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے تمہیں۔ میں کتنی بار کہوں تم سے، مجھے محبت کے قابل تم نہ سمجھو مگر میری محبت کی بے قدری مت کیا کرو، مت شک کیا کرو میری نیت پر، میرے جذبوں پر ۔ مگر تم مجھ پر رحم نہیں کر سکتیں۔ کیونکہ تمہارے پاس احساس نام کی کوئی چیز کم از کم میرے لیے نہیں ہے۔۔۔”
Click below 👇












