Novel name: Nano (نانو (
Introduction of Writer:
I’m Biya choudhary. I’m a new writer. It is my first novel. I’m from Sahiwal. I’m studying Bachelor in Women College in Islamic Studies.
Instagram ID:
@novesthetic_vibes & @biya_aesthetics
Description:
“یہ ایسی کہانی ہے جس میں کوئی منفی چیز نہیں ہے ، لیکن یہ اپنے اندر جذبات ، احساسات اور یادوں کو سموئے بیک وقت خوش اور اُداس کرنے والی داستان ہے۔ یہ ایسی کہانی ہے جو ہر انسان کو اپنی زندگی سے کہیں نہ کہیں متعلقہ لگے گی۔”
Sneakpeak:
“ہان آپ کو جھمکے اتنے اپنے ہیں!؟”
عالیہ نے ڈبی سے جھمکے نکالتے پوچھا۔
“نہیں مجھے جھمکے نہیں پسند!”
اس نے نفی میں سے ہلاتے کہا۔
“اچھا! پھر آپ مجھے جھمکے ہی کیوں تحفے میں دیتے ہیں!؟”
اس نے حیرت سے پوچھا۔
“کیونکہ جھمکے تم پر حسین لگتے ہیں۔ جب تم یہ پہن کے ان کے سہارے بالوں میں لگاتی ہو تو بہت خوبصورت لگتی ہو!”
اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔
عالیہ کے گال گلابی پڑ گئے ۔ وہ سر جھکا کر جھمکوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگی۔ اور وہ اب بھی اسے دیکھ رہا تھا ۔
Two interesting scene:
1
وہ سب اس وقت انارکلی بازار میں کھڑے تھے۔
“لاہور! تم کتنے حسین ہو!”
عالیہ کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ وہ سب انارکلی کی جگ مگ کرتی رونق کو گردنیں گھما گھما کر دیکھ رہے تھے۔ آہل ،زاہل ، زيام ،اسد اور عمر کے لیے تو یہ عام سی بات تھی ۔ جبکہ باقی سب تو یہاں کی رونقیں دیکھ کر مسحور ہورہے تھے۔
2
وہ سب مصروف سے چاندنی چوک میں اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے جب برہان نے چپکے سے عالیہ کی کلائی پکڑی اور اُن کے بیچ سے نکالتے ایک طرف جانے لگا۔
“کیا ہوا ! ہم کہاں جارہے ہیں!؟”
عالیہ نے ہڑبڑاتے ہوئے کہا۔
“ارے ہان بھائی! کہاں لے کر جارہے ہیں ہماری بہن کو!؟”
اس سے پہلے برہان کوئی جواب دیتا پیچھے سے زاہل کی آواز آئی۔
“افففف! تمہاری بہن میری منکوحہ لگتی ہے اس لیے منہ بند کرکے دوسری طرف کرلو”
اس نے رخ موڑتے جواب دیا۔ اور عالیہ کو لیے ایک جیولری والی ریڑھی کے پاس چلا گیا۔
آہل نے زاہل کی اتری شکل دیکھتے دانت نکالے اور باقی سب کو مخاطب کرکے کہنے لگا۔
“گول گپے کھائیں!؟”
سب نے حامی بھری تو وہ اور عالیان گول گپے لینے چلے گئے۔
•Episodic vise










