Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Horizon By Maha Ch Episodic Novel - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Web Novels

Horizon By Maha Ch Episodic Novel

Email :6730

Title: Horizon

Writer’s name: Maha Amir

Genre: Social commentary, Mental health, Self assessment, Friendship, Love
Trope: Academic Rivals. Childhood Love

Type: Completed

Insta: mahaamir__

Description:

Horizon revolves around social norms that have been presented to us from childhood as religious beliefs.

Beliefs so strong that they have the power to destroy our identity and mental health.

This is a story of two characters. Halima, a girl from a dysfunctional family who is struggling with an identity crisis and is running after her own self-worth. And Haider, who has lost himself in love. Will they ever find each other again?

SneakPeak-1

تمہاری کوئی گرل فرینڈ؟“ ایک طرف سے آواز آئی۔” وہ تو سلیمان ہے۔“ کسی کے کہنے پر سب کے قہقے بلند ہوئے۔ ”شٹ اَپ“ سلیمان کے چڑے انداز پر حیدر بھی ہنس دیا۔ ”اچھا میں پوچھتا ہوں۔“حیدر کے سامنے بءٹھے لڑکے نے کہا۔ ”ایسا کوئی راز ہے جسے جاننے کا تمہیں بہت تجسس ہو؟” سب کی سوالیہ نظریں اب حیدر پہ ٹِکی تھیں۔ اُسے چند سال پہلے کا وہ منظر یاد آیا۔”ہاں میں نے جب اُسے آخری بار دیکھا تھا تو اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ مجھے اُن آنسوؤں کی وجہ جاننی ہے۔“ عجب محویت میں سرگوشی کی گئی جو اتنی مدھم تھی کہ شاید ہی کوئی سمجھ پایا ہو مگر اُس کے بائیں جانب بیٹھی نورے کو باسانی سنائی پڑی تھی۔

SneakPeak-2

حلیمہ نے اب اس سب کے متعلق عیسیٰ سے بات کرنے کی ٹھانی تھی اور خوش قسمتی سے وہ اگلی شام ہی مل گیا۔ حلیمہ اوپری فلور سے نیچے آ رہی تھی کہ سیڑھیوں کے بیچ میں ہی عیسیٰ اُسے مل گیا۔ اُسے دیکھتے ہی حلیمہ کا کل شب کا اٹکا ہوا سانس بحال ہوا تھا۔ عیسیٰ کے ہونے سے اُسے ڈھارس محسوس ہوئی تھی۔ اُسے یقین تھا کہ وہ اُس کا ساتھ ضرور دے گا، وہ ہمیشہ سے دیتا آیا تھا۔

حلیمہ کو دیکھتے ہی عیسیٰ کے چہرے پر ایک تابندہ مسکراہٹ آئی۔ ”میں تمہیں ہی لینے آ رہا تھا۔“عیسیٰ کی آواز میں سرشاری کھلی ہوئی تھی۔

”ہاں؟“

”ممی نے کہا تھا کہ تمہیں ڈریس دلوا دوں۔نکاح کے لیے۔“ اُس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی مگر حلیمہ کے چہرے کے تاثرات بدل گئے تھے۔

”مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔“ حلیمہ کے الفاظ نے عیسیٰ کی مسکراہٹ پل بھر میں غائب کر دی تھی۔ وہ ٹکٹکی باندھے حلیمہ کو دیکھنے لگا جو اُلجھن کے مارے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی۔

”کیوں؟“

”میرا دل نہیں مان رہا۔“ گردن جھکائے جواب آیا۔

”اُس خواب کی وجہ سے؟“ حلیمہ نے جھٹ سے گردن اٹھاتے عیسیٰ کے سپاٹ چہرے کو دیکھا۔ دونوں کے بیچ عجیب نظروں کا تبادلہ ہوا تھا۔

”تم ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہی ہو حلیمے! کیا تمہیں معلوم بھی ہے کہ وہ شخص وجود رکھتا بھی ہے یا نہیں؟ تو پھر کیوں اُس خواب کے سہارے جی رہی ہو؟“ حلیمہ کو اُس کی آواز انجان محسوس ہوئی تھی، ہر تاثر سے عاری۔

”میں ’کسی‘ کی وجہ سے انکار نہیں کر رہی۔“کسی پر زور دیتے ہوئے حلیمہ نے سخت لہجے میں کہا تھا۔

”دیکھو عیسیٰ تم میرے بہت اچھے دوست ہو مگر شادی بہت بڑی کمٹمنٹ ہے اور مجھ پر یہ مسلط کی جا رہی ہے۔ میں دل سے کبھی اسے تسلیم نہیں کر پاؤں گی۔“ حلیمہ نے مدھم آواز میں اُسے سمجھانا چاہا۔ عیسیٰ خاموش سا اُسے تکتا گیا۔

”عیسیٰ، پلیز! تم منع کر دو سب کو۔“ عیسیٰ کی آبروئیں تن گئیں۔

”تم پاگل ہو گئی ہو حلیمہ؟ دو تین دن میں عید ہے، میں کہاں سے منع کر دوں؟“وہ یکدم بپھرا۔

”مگر میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میں نے کبھی تمہارے بارے میں ایسا نہیں سوچا۔ مجھے اپنے اور تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرنی۔“ حلیمہ کے کہنے پر عیسیٰ نے گہرا سانس کھینچا۔

”حلیمہ! میں پہلے ہی ایک بار شادی ڈیلے کروا چکا ہوں۔ سب نے سوچ رکھا تھا کہ تمہاری ڈگری پوری ہوتے ہی شادی کر دیں گے مگر میں نے یہ کہہ کر روکا تھا کہ حلیمہ ابھی اپنی آرگنائزیشن میں بزی ہے، اُس پر اس وقت مزید بوجھ نہ ڈالیں۔“ عیسیٰ نے گویا احسان جتایا تھا۔ حلیمہ اس انکشاف پر حیرت زدہ تھی۔ اُسے اس بات کی کبھی بھنک بھی نہ پڑی تھی ۔اُسے یہاں اس قدر غیر اہم سمجھا جاتا تھا۔

”میں جانتی ہوں عیسیٰ کہ تمہارے مجھ پر بہت احسانات ہیں، مگر میں ان کا بدلہ شادی کی صورت میں نہیں اتار سکتی۔“حلیمہ نے اُسے بے چارگی سے دیکھتے ہوئے منت کی تھی۔

”تم خود کیوں نہیں انکار کر دیتی حلیمہ؟“

”تم جانتے ہو میری یہاں کوئی نہیں مانے گا۔“ حلیمہ کی بات پر عیسیٰ کے چہرے پہ عجیب سے تاثرات نمودار ہوئے تھے۔ وہ بہت دیر اُسے دیکھتا رہا، حلیمہ کو اُس کی نظروں کی تپش سے اُلجھن ہونے لگی۔

”شادی تمہیں نہیں کرنی تو انکار میں کیوں کروں حلیمہ؟ میرے کندھے پر بندوق رکھ کر کیوں چلا رہی ہو؟“ عیسیٰ نے ایک سیڑھی چڑھتے ہوئے اُن کے بیچ کا فاصلہ کم کیا۔ حلیمہ کا رنگ فق ہو گیا تھا۔ اُس کے پرفیوم کی خوشبو اب حلیمہ کوبیزار کر نےلگی۔

”اتنا حوصلہ ہے تم میں حلیمہ تو خود انکار کرو اور ساتھ انکار کی وجہ بھی بتانا… وہ خواب والا شخص۔“ اُس نے حلیمہ کے کان کے قریب ہو کر زہریلی سرگوشی کی اور اُس بات پر حلیمہ کا پارہ یکدم چڑھا تھا۔

”ایسا کچھ نہیں ہے!“اُس نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

”شش!“ عیسیٰ نے انگلی اونچی کرتے اُسے چپ ہونے کا اشارہ کیا۔

”تم نے اُسے سوچا ہے حلیمہ، تبھی تمہیں میرے بارے میں سوچتے تکلیف ہو رہی ہے۔“ عیسیٰ نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تھا۔ حلیمہ دم بخود اُسے دیکھتی رہ گئی۔ ایک لمحے کو اُس کے تمام الفاظ کہیں غائب ہو گئے تھے۔

”مگر تم نے کہا تھا کہ تم میرے لیے ہمیشہ موجود ہو گے۔”“مفاہمت کی آخری کوشش کی گئی۔ عیسیٰ نے تنزیہ ہنستے کندھے اُچکا ئے۔

“Guess I’m a walking contradiction too.”

(لگتا ہے کہ میں بھی چلتا پھرتا تضاد ہوں۔(

حلیمہ پر ایک گہری نظر ڈالتا ہوا وہ جا چکا تھا۔ آج حلیمہ کو معلوم پڑ گیا کہ اُس کے دل نے کبھی عیسیٰ کے حق میں گواہی کیوں نہ دی تھی۔ یہ وہ شخص تھا جس کے سامنے وہ ایک بکھری تھی، جو اُس کی ہر کمزوری سے واقف تھا۔ اُس کا ہمراز، اُس کا سہارا۔۔۔ اور آج وہی شخص اُس کی ہر کمزوری اور راز کو اُسی کے خلاف استعمال کر تے اُسے بے سہارا کر گیا تھا۔ عیسیٰ غلط کہہ رہا تھا، حلیمہ کے انکار کی واحد وجہ وہ خواب ہرگز نہ تھا، وہ ان لوگوں میں نہیں رہنا چاہتی تھی جہاں اُس کی اپنی ذات ثانوی ہو۔

Completed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts