“Dard-e-Gar” by Ume Maryam
Age Difference, Forced marriage, multiple Love stories, bewafai, nafrat, rude, caring Hero & soft nature heroin based Urdu Novel written by Umme Maryam
It is a poignant short story that explores themes of love, loss, and human emotions. While I don’t have the specific details of the story, here’s a general outline of what such a narrative might entail:1. Emotional Depth: The title “Dard-e-Gar” (which translates to “pain” or “heartache”) suggests that the story delves into the emotional struggles of the characters.
2. Human Relationships: The narrative likely explores complex relationships, possibly romantic or familial, and the associated emotional turmoil.
3. Character Development: Ume Maryam’s storytelling might focus on character development, revealing the inner lives and struggles of her protagonists.
4. Cultural Context: As an Urdu story, it may incorporate cultural and societal elements specific to the context in which it is set.
Possible Plot Points
– Love and Loss: The story might revolve around a character experiencing deep heartache due to a lost love or separation.
– Internal Conflict: Characters may grapple with their emotions, leading to introspection and personal growth.
– Social Commentary: Depending on the author’s intent, the story could touch on societal issues, using the personal struggles of the characters to highlight broader themes.
Conclusion
“Dard-e-Gar” by Ume Maryam would likely be a moving exploration of human emotions, offering readers a chance to reflect on their own experiences with pain and heartache. The story’s impact would come from its relatable characters and poignant narrative. If you’re looking for more specific details or a summary of the story, I’d be happy to help with that.
اس ناول کے اہم کردار ہیں حجاب، ابوداٶد اور عون (حجاب کا بھائی)
حجاب چار بھاٸیوں کی اکلوتی بہن ہے، سب سے چھوٹی بھی ہے اس لیے لاڈلی بھی بہت ہے۔ عون اس کا سب سے بڑا بھاٸی ہے۔ جو اس کی سب سے زیادہ فکر بھی کرتا ہے اور جس سے حجاب سب سے زیادہ پیار کرتی ہے۔ ابو داؤد دراصل عون کا یونیورسٹی فیلو رہ چکا ہے اور اب حال ہی میں دونوں یونیورسٹی فیلوز دوبارہ ایک دوسرے کی زندگی میں داخل ہوتے ہیں۔
اس سے زیادہ اس کہانی کے بارے میں کچھ نہ جانا جاۓ تو بہتر ہے۔
کچھ لکھاریوں کے ناول ہم اس لیے شوق سے پڑھتے ہیں کہ ان کا انداز تحریر بہت اعلی ہوتا ہے جبکہ کچھ کے اس لیے پڑھتے ہیں کہ ان کے ناولوں میں کہانی اور پلاٹ بے حد دلچسپ ہوتا ہے خواہ انداز تحریر ذرا کمزور ہی کیوں نہ ہو یا اردو زبان پہ مکمل عبور حاصل نہ ہونے کی وجہ سے گراٸمر میں غلطیاں ہوں۔ ام مریم کے ناولوں کا پلاٹ اکثر اوقات بے حد دلچسپ ہوتا ہے۔ ان کا ایک ناول ایسا بھی ہے جس میں اردو گرائمر اور انداز تحریر بھی بہت اچھا ہے ”اگر وہ مہرباں ہوتا“۔
جب میں نے یہ ناول پڑھنا شروع کیا تو شروع میں مجھے کچھ خاص نہیں لگا لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے کرداروں سے اٹیچمنٹ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس ناول میں تینوں کرداروں کا پوائنٹ آف ویو دیا گیا ہے۔ اگر ذہن میں یہ رکھ کر پڑھا جائے کہ یہ ایک انتقام کی کہانی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ کسی انسان کا برائی سے اچھائی تک کا سفر ہے تو بہت سی باتوں پہ آپ کو اعتراض نہیں ہو گا۔ بہت اوریجنل پلاٹ لگا مجھے۔ یہ مکمل طور پر پرسنل گروتھ اور پرسنل ڈیویلپمنٹ پہ مبنی ناول ہے سو ہاں آپ کو شروع کے حصوں میں ایک آدھ کردار اچھا نہیں لگے گا اور یہی لکھاری کا مقصد بھی ہے۔ یہ نہیں کہ اس ناول میں رومینس نہیں یا لو سٹوری نہیں۔ یہ سب بھی ہے۔ لیکن اس کا نام دردگر ہے تو مطلب اس میں دردگر بھی ہے۔
sneakpeak
” آج کی رات مجھے معاف کر دیں ابو داؤد! میری طبیعت بالکل ٹھیک نہیں ہے پلیز پلیز ! ” میں ان کے سامنے ہاتھ جوڑ ک با قاعدہ اونچی آواز میں رونے گئی ۔ابو داؤد کا چہرہ جانے کس احساس کے تحت بے تحاشا سرخ پڑ گیا۔آنکھیں لہو چھلکانے لگیں۔
” بکواس بند کرو ۔ اس بدتمیزی کے جواب میں شوٹ کر ڈالوں گا تہیں ۔” شدید غیض سے ان کی آواز پھٹ گئی تھی ۔ میں سہم کر چپ ہوگئی ۔ وہ کتنی دیر تک گہرے گہرے سانس بھر کے جیسے اپنے طیش پر قابو پاتے رہے تھے ۔ اور میں دھک دھک کر تے دل کے ساتھ خود کو ان کی وحشت کا نشانہ بنانے کے لیے ہمتیں مجتمع کرتی رہی ۔ ” سو جاؤ۔ مجھے لگ رہا ہے اگر میں نے تمہیں چھولیا تو تم صدے سے فوت ہو جاؤ گی۔ اور میں اتنی آسان موت تو نہیں چاہتا تمہارے لیے ”
تمہارے لیے ۔۔













