Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Digest Novels

Mere Raah Ka Roshan Sitara ho Tum by Sana Zafar

Email :45977

Genre : Hate to love , Rich Hero, Poor and Religious Heroine , Innocent and powerful character of heroin which turns the hero in Noble person and He falls in love with her madly.💔 Forced Circumstances Romance | Emotional Romance | Marriage of Convenience | Drama | Social Romance | Slow-Burn Love

Story Introduction

حالات کی ماری ایک لڑکی گناہ اور رسوائی سے بچنے کے لیے ایک سنگدل شخص کے سامنے نکاح کی شرط رکھ دیتی ہے۔ وہ چند گھنٹوں کے اس نکاح کو اپنی آخری پناہ سمجھتی ہے، مگر کیا یہ عارضی رشتہ واقعی عارضی رہ پائے گا؟ یا قسمت ان دونوں کے درمیان محبت کی ایک ایسی داستان لکھنے والی ہے جس کا آغاز مجبوری سے ہوگا اور انجام محبت پر؟

SneakPeak


“اب یہ ناز و انداز چھوڑو اور میرے صبر کا مزید امتحان مت لو سمجھی ہٹاؤ اس تمبو کو اپنے اوپر سے۔” اس نے ہاتھ بڑھایا تو وہ ایک دم ہی پیچھے ہٹ گئی لیکن چادر کا کونا اس کے ہاتھ میں آ چکا تھا۔
“ٹھیک ہے اگر تمہیں اپنی ضد پوری کرنا ہی ہے تو تو۔” اس نے روتے ہوئے تھوک نکلا۔
“تو میری ایک شرط ہے۔”
“شرط۔”وہ استہزائیہ ہنسا۔
“اب یہ قیدی و بے بس چڑیا مجھ سے شرطیں منوائے گی۔”
“مت ہنسو اس طرح اس میں بھی میرا کوئی فائدہ نہیں ہے نقصان ہی نقصان ہے بس میں گنہگار نہیں کہلوانا چاہتی میں زانیہ بن کر زندہ نہیں رہ سکتی۔” وہ بلک بلک کر رو دی۔
“ہاں ہاں بکو بہت واعظ سن چکا ہوں تمہارا۔”
“تم تم۔”بہت سسک پڑی کہ اتنی بڑی بات کہنے کی ہمت کہاں سے لاتی ۔
“تم چند گھنٹوں کے لیے ہی صحیح مجھ سے نکاح کر لو۔”ایک بم تھا جو اس نے اس کے سر پر پھوڑا تھا۔
“قانونی نہ صحیح شرعی نکاح تاکہ روز قیامت میں اپنے رب کے حضور سر اٹھا سکوں۔”
“یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔” اس کے ارد گرد جیسے دھماکے ہو رہے تھے۔
“اگر تم مجھ سے نکاح کر لو گے تو میں اس حرام کاری سے بچ جاؤں گی تم اپنی ہوس پوری کر کے مجھے اسی وقت طلاق دے دینا میں اسی وقت چلی جاؤں گی چپ چاپ اپنی ہر رسوائی کو گلے لگا لوں گی لیکن گناہ گار تو نہ کہلواؤں گی۔

Click Below 👇🏻

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts