Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Yaar E Bewafa By Wahiba Fatima  - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Web Novels

Yaar E Bewafa By Wahiba Fatima 

Email :4988

Yaar E Bewafa By Wahiba Fatima

Insta Id Wahiba.fatima_
Description
(کہانی ہے ضد اور انتقام کی۔ ایک ‘عورت’ کی ضد اور انتقام کی۔ کہانی ہے ایک شوہر کی جس نے اندھے انتقام کی خاطر اپنی بے قصور معصوم بیوی پر تہمت لگائی اور پھر اس کی بہت بڑی سزا بھگتی۔

SneakPeak

“اپنی پارسائی ثابت کرو لڑکی۔” نورکزئی خاندان کے بزرگ نے بارعب لہجے میں کہا تھا۔ لیکن وہ خاموش تھی سمندر کی اوپری سطح کی طرف خاموش۔لیکن اس کے زیرِ سطح جانے کیا کیا طوفان اٹھ رہے تھے۔ کوئی کیا جانے۔
“یہ گستاخ بے حیا لڑکی اپنی پارسائی ثابت نہیں کر سکی ہے، اب کیا انصاف کیا جائے، وہ بزرگ پر جلال سے طیش و اشتعال انگیز لہجے میں بولے تھے۔ جب احرار مبشر نورزئی آگے بڑھا تھا۔
“ٹھیک ہے مجھے کوئی انصاف نہیں چاہیے، کیونکہ یہ میری بیوی ہے اور نورزئی کبھی اپنی بیوی نہیں چھوڑتے تو یہ جیسی بھی ہے مجھے قبول ہے، میں اسے اپنا لوں گا، بس یہ اور اس کا خاندان سر جھکا کر بھرے جرگے میں مجھ سے معافی؟”
“میں نبیہ احرار مبشر اپنا جرم قبول کرتی ہوں، اس کا سرد ترین لہجے میں کہا گیا جملہ جرگے میں موجود سب کو سن کر گیا تھا حتی کے احرار مبشر کو بھی جو بے یقینی سے پھٹی پھٹی نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔
“یہ کیا کہہ رہی ہو نبیہ۔” اس کا بھائی شامیر خانزادہ حلق کے بل چلایا تھا۔ مگر اسے تو جیسے متعلق پرواہ نہیں تھی جو سر اٹھائے جرگے کے بزرگوں کے سامنے سرد و سپاٹ لہجے میں اپنا جرم قبول کر بیٹھی تھی۔ شاہ میر خانزادہ اس کی جانب لپکا اور اسے تھپڑوں ، مکوں اور ٹھوکروں کی زد میں رکھ لیا۔ عجیب ڈھیٹ تھی جو زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھی مار کھا رہی تھی۔ روتی یا بلکتی نہیں تھی۔
“شاہ میر خانزادہ اپنے ہاتھوں پیروں کو لگام ڈالو، اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں اپنی بیوی کے قتل کے بدلے میں تم سے ونی لوں گا تمھاری بیٹی کی صورت۔”
احرار مبشر کی دھاڑ نے پورے مردان خانے کو ہلا ڈالا تھا۔ شاہ میر خانزادہ کے ہاتھ بھی دس سالہ بیٹی کا نام سن کر وہیں تھم گئے تھے۔
جبکہ ادھر احرار کے سرخ و سفید رنگت پر غضب کا قہر تھا۔ سینے میں آگ کے بھانبھڑ جلے اٹھے دل کیا اس بے وقوف کو جا کر جھنجھوڑ ڈالے جو اپنی ضد اور اپنے پلٹ وار کے چکر میں اپنی اور اس کے بچے کی جان داؤ پر لگا رہی تھی۔ ( اس نے کہا تھا وہ ایسا وار کرے گی کہ احرار مبشر کی روح تک کانپ اٹھے گی اس نے سہی کہا تھا۔ کانپ اٹھی تھی)
“میں نے اپنے شوہر سے بے وفائی کی ہے، میری کوکھ میں حرام اور ناجائز بچہ ہے، اس نے لرزتے کانپتے کھڑے ہوتے پھر سے کہا۔ شاید جان چکی تھی کہ جرگے میں جرم قبول کرنا اپنے لئے موت مانگنا ہوتا ہے۔
“یہ کیا کہہ رہی ہے بے حیا لڑکی، اگر یہ تیرے شوہر کا نہیں تو کس کا حرام خون ہے، نام بتا اس کا؟ پھر تیرے ساتھ اس کو بھی سنگسار کیا جائے گا۔”
“اس کا نام حارث عبداللہ ہے، میرے ساتھ پڑھتا تھا، مر گیا ہے وہ، آپ لوگوں کو اپنے ہاتھ اس کے خون میں رنگنے کی ضرورت نہیں، صرف میں اور یہ حرام بچا ہے، میں شرمندہ ہوں، اور ساری عمر اس گناہ کا کفارہ ادا نہیں کر سکتی اسی لئے اپنے شوہر سے بے وفائی کے بدلے اس جرگے سے اپنے اور اس بچے کے لیے موت کی سزا مانگتی ہوں،(جس بچے کا باپ اسے زمانے بھر کے سامنے ناجائز اور حرام ثابت کر دے اس کا مر جانا بہتر) آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دی جاؤں، تاکہ پھر کوئی بیوی اپنے شوہر سے بے وفائی نا کرے۔” ( تاکہ پھر کوئی شوہر اپنی بیوی کی عزت اچھالنے کی حماقت نا کرے)
وہ یہ کیا کہہ رہی تھی؟ بھرے مجمعے میں احرار مبشر نورزئی کو جیتے جی درگور کر رہی تھی۔ وہ جانتی تھی جرگے کا اصول تھا جو مجرم اپنا جرم قبول کرتے اپنے لیے جو سزا مانگتا تھا اسے ہر صورت وہی سزا دی جاتی تھی۔ احرار مبشر جانتا تھا وہ کہہ رہی تھی کہ اسے یوں عبرت کا نشان بنایا جائے کہ آئندہ کوئی بھی شوہر اپنی بیوی پر تہمت لگانے سے پہلے ہزار بار سوچے۔

Sneakpeak-II

” مجھے انصاف چاہیے، میری منکوحہ بدچلن ہے، رخصتی تو پانچ دن بعد ہونی ہے ناں تو اس سے پوچھیں کس کا حرام اور ناجائز گند اپنی کوکھ میں ڈالے پھر رہی ہے، پوچھیں اس سے، کس کے ساتھ منہ کالا کر کے اپنے شوہر کی عزت اور غیرت کا جنازہ نکالا ہے۔”
بھرے پڑے تین خاندانوں کے جرگے میں اس کی سرد و سپاٹ آواز گونجتی وہاں سب کو ساکت و جامد کر گئی تھی۔ بھرے مجمعے میں پن ڈراپ سائلنس چھا چکی تھی۔ جبکہ جس کے بارے میں بات ہو رہی تھی وہ براؤن فراک کے اوپر سیاہ چادر لیے حیرت، غم، صدمے اور بے یقینی کی شدت سے پھٹی پھٹی نظروں سے اس شخص کی جانب دیکھ رہی تھی جس نے اس کا ہاتھ تھام کر ایک ایک سیڑھی قدم قدم چڑھا کر اسے محبت کی آسمان تک چڑھایا اور وہاں سے ذلت و رسوائی کی اندھی کھائیوں میں اوندھے منہ دھکا دے دیا تھا۔
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو احرار مبشر نورزئی، وہ بیوی ہے تمھاری شاہ میر خانزادہ کی بہن، اس لئے سوچ سمجھ کر اپنے منہ سے الفاظ نکالو، نہیں تو یہاں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی، شاہ میر کی دھاڑ خان حویلی کے پورے مردان خانے میں گونجی تھی۔
“یہ رہی تمھاری بہن کی پریگننسی رپورٹ، لیکن یہ بچہ میرا نہیں، اگر میرا نہیں تو اس سے پوچھو کس کا گند ہے، اس نے اطمینان سے کہتے ایک روپورٹ اپنے ہاتھ سے دور اچھالی تھی۔ جسے دیکھ شاہ میر کا سانس تک تھم گیا تھا۔ تب وہ تیزی سے اس کی جانب پلٹا تھا۔
“گڑیا یہ آدمی جو تمھارا شوہر ہے وہ کچھ کہہ رہا ہے، وہ تم پر تہمت لگا رہا ہے، تم سن نہیں رہیں یا بہری ہو گئی ہو، اس کی بات کا جواب دو، کہو کہ یہ سب جھوٹ ہے، تم تو اپنے کردار پر بات کرنے والوں کا منہ نوچ لیتی ہو ناں، تو آج بھی اس بات کو جھٹلا دو، کہو کہ یہ سراسر الزام ہے، غلیظ بکواس ہے اور کچھ نہیں، کہو،
شاہ میر خانزادہ نے اسے جھنجھوڑ ڈالا تھا۔ مگر وہ جس کے چہرے پر دھوکے کی تاریکی اور سیاہ بختی چھائی ہوئی تھی۔ اپنی بے تاثر نگاہیں اٹھا کر اپنے بھائی کو دیکھا تھا۔ اور جب بولی تو اپنے خاندان کو بے موت مارتے ان کی عزت جیتے جی قبر میں اتار گئی۔
“یہ سچ کہہ رہے ہیں بھائی، میں ماں بننے والی ہوں، لیکن انھیں کے بچے کی، یہ مجھ پر تہمت لگا رہے ہیں کیونکہ یہ انھیں کا بچہ ہے، اس نے سپاٹ لہجے کہا تھا۔ شاہ میر کا ہاتھ گھوما۔ ایک زناٹے دار تھپڑ لاڈلی بہن کا سر گھما گیا جبکہ وہ ظالم نورزئی اب پرسکون سا کھڑا یہ تماشہ دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
“اپنی بہن سے پوچھو کیا ثبوت ہے اس کے پاس کہ یہ میرا بچہ ہے، اس نے کہتے اپنی محبت ، اپنی محبوب بیوی کے سر سے رہی سہی چادر بھی کھینچتے اسے بھرے مجمعے میں ننگے سر رسوا کر دیا تھا

۔۔۔۔

completed
Our Insta ID:@aestheticnovels.online
Follow our web page.

Click below

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts