اولاد کی تربیت کرتے وقت اس بات کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ ہم انہیں کیسا ماحول فراہم کر رہے ہیں اور ان کے جذبات و احساسات کے ساتھ کس قدر حساس اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ بچے ایک نرم مٹی کی مانند ہوتے ہیں، جس قالب میں انہیں ڈھالا جائے وہ ویسے ہی بن جاتے ہیں۔ اگر ہم ان کے دلوں میں نفرت، تلخی، محرومی اور منفی رویوں کا زہر بھریں گے تو وہی زہر ایک دن ان کے قول و فعل میں جھلکے گا۔ اور اگر ہم محبت، خلوص، برداشت، احترام اور مثبت سوچ کی آبیاری کریں گے تو وہی بچے مستقبل میں معاشرے کے لیے خوشبو بکھیرنے والا شہد بن جائیں گے۔
اولاد کی تربیت محض نصیحتوں یا سختی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا مسلسل عمل ہے جس میں والدین کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے اردگرد دیکھتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ گھر کا ماحول مثبت، پُرسکون اور اخلاقی اقدار سے بھرپور ہو۔ والدین کا لہجہ، رویہ، باہمی احترام اور مسائل کو حل کرنے کا انداز بچوں کی شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔
بچوں کے جذبات کا خیال رکھنا، ان کی بات سننا، ان کی غلطیوں پر انہیں ذلیل کرنے کے بجائے سمجھانا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ایک مضبوط اور پراعتماد شخصیت کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد باکردار، بااخلاق اور ذمہ دار انسان بنے تو ہمیں ان کی تربیت کے دوران اعلیٰ اخلاقی اقدار اور بلند معیارِ کردار کو ہر حال میں ملحوظِ خاطر رکھنا ہوگا۔
یاد رکھیے، ہم جیسا بیج بوئیں گے ویسی ہی فصل کاٹیں گے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اولاد کی تربیت میں محبت، مثبت ماحول اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو اپنا شعار بنایا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک بہتر، مہذب اور روشن معاشرے کی تشکیل کر سکیں۔
Share your Views about this Column in the Comment Box.












