
Novel name_ Shaam ki mundair se” published in Shua digest December 2025
Writer _ Mawra Talha
Pages _32_
Age difference+ After nikah nice heart touching see family story hai with mature writing must read 🌹🌹
Heroin Sodah hero Wali k tayaa ki beti hai jiske parents ki death k bad uske chacha apne ghar le ate.Hero Wali unka beta hai🥰Heroin us se 8 saal bari hai dono ka bachpen sath guzerta hai hero use bari behan ki tarah izzat deta hai.
Heroin k mamoo ka beta Shujah heroin ko pasand karne lagta hai achi nature ka nahi wo heroin ko Wali aur uske walid ko qatal karne ki dhamki de k majboor kr k Sodah se engagement karwata hai.
Hero naraz ho k hostel chala jata use Shujah pasand nahi wo Apni Apiya( heroin) k leye khood acha sa dulha talash karna chahta hai🙂
Aagay kia hota kuyn hero ghar chor k beroon mulk chala jata read karen…Ab hero 4 saal bad walid ki death pe ghar Wapis aya hai..
Happy ending hai ♥️♥️
…………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………..
مصنفہ: ماورا طلحہ
اشاعت: شعاع ڈائجسٹ دسمبر 2025
سودہ کم عمری میں یتیم ہوجاتی ہے تو اس کے چچا اسے اپنے گھر لے آتے ہیں اسی گھر میں سودہ کا چچا زاد ولی بھی ہوتا ہے، جو اس سے آٹھ سال چھوٹا ہے۔ دونوں کا بچپن ایک ساتھ گزرتا ہے اور والی ہمیشہ سودہ کو بڑی بہن جیسی عزت دیتا ہے۔
وقت کے ساتھ سودہ کے ماموں زاد شجاع کی نظر اس پر پڑتی ہے۔ شجاع کی طبیعت سخت اور اچھے اخلاق سے عاری ہوتی ہے۔ جب سودہ اس کے رشتے سے انکار کرتی ہے تو وہ اسے ڈرا دھمکا کر نہ صرف اس سے منگنی کروا لیتا ہے بلکہ ولی اور اس کے والد کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دیتا ہے۔
یہ حالات ولی کو اندر تک توڑ دیتے ہیں۔ وہ غصے اور دکھ میں گھر چھوڑ کر پہلے ہاسٹل چلا جاتا ہے اور پھر بیرونِ ملک چلا جاتا ہے۔ اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ—سودہ—کے لیے کوئی اچھا اور باعزت رشتہ ڈھونڈے، لیکن تقدیر کچھ اور ہی لکھ چکی ہوتی ہے۔
چار سال بعد والد کی وفات پر والی واپس آتا ہے اور اس کی واپسی کے ساتھ ہی کہانی ایک نئے رخ پر مڑتی ہے—جہاں ان دونوں کے درمیان وہ جذبات جنہیں کبھی نام نہیں دیا گیا تھا، آہستہ آہستہ سامنے آنے لگتے ہیں۔
کہانی کا انجام نہایت خوبصورت، پرسکون اور ہنسی خوشی ہوتا ہے
…………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………….
SneakPeak
”التجائیں کی تھیں کہ ان دونوں پہ ایسا ظلم نہ کریں۔ ہم دونوں کے ساتھ ایسا نہ کریں چچا جان۔
ہمارا رشتہ بہت معتبر ہے، بہت پاکیزہ۔ اسے رسوا نہ کریں۔ مجھے میری ہی نظروں میں مت گرائیں۔ میں اس کا سامنا نہیں کر پاؤں گی ۔ پہلی بار پہلی بار چچا جان نے اس کی بات ٹالی۔
” تم دونوں پاگل ہو چکے ہو۔ میں دشمن نہیں ہو تمہارا، سب سمجھتا ہوں ۔ یہ بہترین فیصلہ ہے جس کے ثمرات آج نہیں تو کل تم دونوں کو سمجھ میں آجائیں گے۔ تم لوگ ایک دوسرے کے لیے کامل ہو، ایک دوسرے کے لیے بنائے گئے ہو۔ وہ تمہارے ساتھ کسی کو برداشت نہیں کرتا تم بھی اسے کسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکو گی ۔ “وہ اپنی بات پرڈٹے رہے۔
”میں آٹھ سال بڑی ہوں چچاجان۔”
یہ بات میرے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتی۔ دنیا میں ایسے بہت سارے رشتے ہوتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ سالوں کا فرق دیکھ رکھا ہے۔“
” وہ مجھے اپیا کہتا ہے ۔“ اس کے پاس انکار کرنے کی کئی وجوہات تھیں ۔
”سب کزنز پہلے بہن بھائی ہی ہوتے ہیں۔ یہ میرا آخری فیصلہ ہے سودہ ۔ مان جاؤ اور اسے گھرآنے دو ورنہ وہ ایسے ہی درد در بھٹکتا رہے گا۔“
اس دن کے بعد سے ان دونوں کا سامنا نہیں ہوا۔ وہ گھر کے نہ جانے کسی کونے میں چھپ گئی کہ کہیں دکھائی ہی نہ دیتی۔
وہ شاید اپنے نئے روپ کا نتیجہ دیکھنا چاہتا تھا، اسی لیے نگا ہیں اس کی متلاشی تھیں مگر وہ خود کو اوجھل کر گئی تھی بالکل ویسے ہی جیسے نکاح کے بعد ۔۔۔
Click on three dots to download the novel
Below 👇












