Short Summary کہا نی کا آغاز ہو تا ہے جنت اور شا ویز سے۔۔۔جنت کا رشتہ لینے جہانگیر اور اسکی فیملی والے آ تے ہیں مگر شا ویز ہمیشہ کی طر ح ہر رشتے وا لے کو بھگا دیتا تھا۔۔۔اماں بی اسکی اس عا دت سے بہت تنگ آ جاتی ہیں۔۔جہانگیر کی فیملی والے اسکی بدتمیزی کو برداشت کرتے ہیں مگرجہا نگیر کے کہنے پہ جنت کے لیے ہا ں کر دیتے ہیں۔۔ شا ویز کی بعد میں اچھی خاصی کلاس لگتی ہے اور اماں بی وجہ پو چھتی ہیں کہ آخر کیوں تم اس بچی کے سا تھ ایسا کر تے ہو؟؟؟ جو اب میں وہ یہ ہی کہتا ہے کہ جنت کے قا بل نہیں لگا اسے لڑ کا۔۔۔۔جنت کو بہت غصہ آ تا ہے کہ اگر مجھ سے محبت کر تا ہے تو کیوں نہیں ان کو بتا دیتا۔۔۔اماں بی اور ند یم(با پ) شا ویز کو وارننگ دیتے ہیں کہ اب ایسا کچھ کیا تو اسکی خیر نہیں۔ سمعیہ (ماں) شا ویز کو اسکے ما موں کے ہاں فیصلہ آ باد بھجوا دیتی ہیں کہ انکا علاج کے لیے پیسے دے آ ؤ انکوضر ورت ہے۔۔۔اسی دوران جنت کی جہا نگیر کے ساتھ منگنی ہو جا تی ہے۔۔۔شا ویز جب وا پس آتا ہے تو وہ اپنی ماں سے خوب لڑ تا ہے کہ وہ جنت سے شا دی کر نا چا ہتا ہے۔۔۔وہ چپ تھا صر ف اس لیے کہ جنت اس سے محبت نہیں کر تی۔۔”میں نے سو چا کہ جب اسے مجھ سے محبت ہو جا ئے گی تو ہی سب گھر وا لوں سے بات کر وں گا“ تبھی اسکی ماں اسے سمجھا تی ہے کہ اب ایسا ممکن نہیں اسے بھو ل جا ؤ تم نے دیر کر دی۔۔۔جنت کی ماں کی شا دی کبیر خان سے ہو ئی ہو تی ہے۔۔۔شادی کے بعد اسے انگلینڈ میں جا ب آ فر ہو تی ہے۔۔کبیر کے جا نے کے بعد جنت پیدا ہو تی ہے اور اسکی ماں (شاہینہ) مر جاتی ہے اس کے گھر وا لے جنت کو اسکے ننھیال وا لوں کو سو نپ دیتے ہیں۔۔۔اور کبیر کو بتا دیتے ہیں کہ اسکی بیوی اور بیٹی دنوں چل بسے۔۔۔یہ خبر سنتے ہی کبیر کبھی پاکستان نہ آ نے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔کبیر کے گھر وا لوں کی سا زش نا کام ہو جا تی ہے۔۔۔وہ چا ہتے تھے کہ کبیر دوسری شادی کر لے گا پا کستان آ کر۔ اگر اسکو بتا یا جا ئے گا کہ اسکی بیٹی اور بیوی مر گئیں۔ جنت اور مہر و دونوں یو نی میں اکٹھے پڑ ھتی ہیں۔۔جنت بی ایس سی میں اور مہر و کامرس میں۔۔۔ سجیل جو کہ را حت کابھا ئی ہو تا ہے یو نی میں لکچر ار کے طور پر آ تا ہے جنت نہ چا ہتے ہو ئے بھی اسکی دیوانی ہو جاتی ہے۔۔۔مری کے ٹر پ کے دوران دونوں ایک دوسر ے کہ قر یب آ جا تے ہیں اور سا تھ رہنے کا ایک دوسر ے سے وعدہ کر تے ہیں۔ لا ہو ر آ کر اپنے ایگز امز دیتی ہے تو بعدمیں اسے علم ہو تا ہے کہ ایگز امز کے بعداسکی شادی کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔۔ سجیل اپنے بھا ئی را حت سے بات کر تا ہے تو وہ اسے سمجھاتا ہے کہ تمھارا اور اسکا رشتہ نہیں ہو سکتا۔۔۔اور اسے اپنی اور جنت کی خا لہ کی کہا نی بتا تا ہے کہ کیسے وہ گھڑسواری کر تے ہو ئے گری اور وہ اسے ہسپتال لے کر گئے۔۔۔صبح صبح جب گھر آ ئے تو کسی نے یہ الز ام لگا دیا کہ یہ دونوں بد کر دار ہیں۔ اماں بی نے اسی وقت تا بینہ سے کہا کہ وہ را حت کے ساتھ جا سکتی ہے مگر یہ بھول جا ئے کہ اسکی کو ئی ماں بھی ہے۔۔تا بینہ کہ یہ منظور نہیں تھا اس نے را حت کہ سا تھ جا نا ٹھیک نہیں سمجھا بلکہ یہ کہا کہ اسکی ماں اسکا یقین کر ے اسکے لیئے یہ اہم ہے۔۔۔مگر اماں بی کوئی بھی بات سننا ہی نہیں چاہتیں۔۔اماں بی اسے اس کے حصے کی زمین اور کا غذ اس کے منہ پہ ما رتی ہیں۔۔حو یلی کے کو ا ٹر میں اسے رہنے لے لیئے جگہ دے دی جاتی ہے کہ وہ جیے یا مرے ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔تا بینہ وہاں رہنا منظور کر تی ہے مگر را حت کے ساتھ نہیں جا تی۔۔را حت کو اسی وقت نو کر ی سے نکال دیا جاتا ہے۔۔۔ سجیل جنت سے سا ری بات کر تا ہے۔۔۔۔دونوں تا بینہ خا لہ اور راحت بھا ئی کو آپس میں ملو انے کا پر وگر ام بنا تے ہیں تا کہ انکی آپس کی غلط فہمی دور ہو۔۔۔ اگلی صبح را حت انکل ایک بار پھر اماں بی کی عدالت میں پیش ہو تے ہیں اور ان سے جنت کا ہا تھ ما نگتے ہیں۔۔۔انہیں یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہو ا وہ ایک غلط فہمی تھی۔۔۔اصطبل کے ما لک کو سا منے لا یا جاتا ہے تو وہ ساری حقیقت بتاتا ہے کہ را حت نے اس را ت صر ف تا بینہ کی جان بچا ئی تھی۔۔اس نے بہت مرتبہ سچ بتانا چاہا لیکن اسکی کسی نے ایک نہیں سنی۔۔تب اماں بی کو بھی احساس ہو تا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال اپنی بیٹی کو اسکے نا کر دہ گنا ہ کی سز ا دی۔۔۔مگر وہ سجیل اور جنت کے رشتے کے لیے را ضی نہیں تھی کیوں کہ جنت اور جہا نگیر کی منگنی ہو چکی تھی۔ انہوں نے سجیل کو اکیلے میں بلایا اور اسے کہا کہ وہ را حت اور تا بینہ کی شادی اسی صورت میں کر یں گی جب وہ جنت کو بھول جا ئے گا۔وہ زبان دے چکی ہیں جہانگیر کی فیملی کو۔۔۔سو اگر بھا ئی سے محبت کر تا ہے تو اپنی محبت کو قر بان کر نا ہو گا۔۔۔اسے ایموشنل بلیک میل کر تی ہیں۔ را حت اور تا بینہ کی شادی ہو جاتی ہے۔۔۔۔سب خوش ہو تے ہیں۔۔۔جنت پر امید ہو تی ہے کہ اب جنت اور سجیل کو ایک ہو نے سے کو ئی روک نہیں سکتا مگر سب اسکا وہم تھا۔ سجیل اس سے بات ختم کر دیتا ہے۔۔۔وہ بار بار رابطہ کر تی ہے مگر وہ اگنور کر تا ہے۔مگر پھر ایک دن مہر سے اسے ساری حقیقت معلوم ہوجاتی ہے۔(جو کچھ اماں بی اور سجیل کے درمیان طے ہوا)۔۔سو وہ اس کے گھر رات کے وقت جاتی ہے اور اسے کہتی ہے کہ میری محبت کیا ایسی تھی جو تم نے بھیک میں دے دی؟؟؟ وہ سجیل کی بہت منت سماجت کرتی ہے مگر تھک ہار جاتی ہے۔آخر کو سجیل کو اذیت دینے کے لیے رشتے کے لیے ہاں کر دیتی ہے۔اسے تب یاد آتا ہے کہ اسے شاہ ویز کی بددعا لگ گئی جس نے اس سے کہا تھا کہ تم نے مجھے میری محبت نہیں دی اللہ کرے تمہیں تمہاری محبت نہ ملے۔۔ جہانگیر کو سجیل کے متعلق شاویز کی زبانی علم ہوتا ہے۔اور وہ جنت کے باہر آنے جانے پہ نظر رکھتا ہے۔اپنی مہندی کے دن وہ سجیل کو منانے کی آخری کوشش کرنے کے لیئے اسکے گھر جاتی ہے اور ٹھیک اسی وقت شاہویز کو اسکے اور مہر کے پلان کے بارے میں معلوم ہوجاتا ہے سو وہ ساری بات جہانگیر کو بتاتا ہے۔ جہانگیر اسکی بات کا یقین نہیں کرتا لیکن اسکی بات کو رد کرنے کے لیئے اسکا پیچھا کرتا ہے اور وہ سجیل کے گھر ہی اسکی منت سماجت کرنے جاتی ہے۔ اسے محبت کی بھیک مانگتی ہے مگر بے سود۔۔ جب سجیل ساتھ نہیں دیتا تو چاروناچار اسے وہا ں سے واپس آنا ہی پڑتاہے۔ جہانگیر کسی بھی بات پہ ری ایکٹ نہیں کرتا۔ اس کے گھر آنے سے پہلے گھر کے سب لوگوں کو معلوم ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ کہاں گئی ہے۔ واپسی پہ اسے آنے میں دیر ہوجاتی ہے۔ تو اسی وقت راحت صاحب سے بول کر سجیل کو بلوایا جاتا ہے۔ سجیل انہیں یہ کہتا ہے کہ وہ آئی ضرور تھی لیکن اس نے اسے واپس بھیج دیا تھا۔ وہ اماں بی کے ساتھ ہوئی کمٹمنٹ سے مکرا نہیں۔ اسی اثنا ء میں جنت کی پیشی اماں بی کی عدالت میں ہوتی ہے۔ اسکے منہ پہ زور دار تھپڑ مارا جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ شا ید اب سجیل اسکا ساتھ دے گا لیکن وہ ابھی بھی قسموں کی زنجیروں اور تابینہ اور راحت کے رشتے کے ٹوٹ جانے کے خوف میں پھنسا ہوتا ہے۔ جہانگیر اسی وقت ساری صورتحال سنبھالتا ہے اور اسکی شادی جنت سے کر دی جاتی ہے۔ سب کے لیئے یہ بات حیران کن ہوتی ہے کہ جہانگیر نے اس سے شادی کیونکر کی جب کہ وہ اسکا سارا سچ جان بھی گیا ہے؟ جنت کے بھی اسی سوال کے پوچھے جانے پہ جہانگیر اسے کہتا ہے کہ۔۔دعا سے پایا ہے میں نے تمہیں۔۔ محبت دعا ہے نا کہ بھیک۔۔ وہ اسکی بات سن کر گہری سوچ میں پڑ جاتی ہے۔جس نے محبت کو ہمیشہ بھیک سمجھا۔۔کیسے اسے دعا بنا کر کسی کی زندگی میں اسکے رب نے شامل کر دیا۔ َ کیا جہانگیر نے کسی لالچ کے تحت اسے اپنایا ہوگا؟ یا بدلے کے؟؟ کیا جہانگیر کے اسکی زندگی میں آجانے سے اسکی سوچ اور زندگی بدل جائے گی؟ کیا وہ مان لے گی کہ محبت دعا ہے۔۔بھیک نہیں۔۔ یا جہانگیر سے جڑے رشتے میں اسے اسکے کھوئے ہوئے رشتے مل جائیں گے؟؟
Link 🖇️ ( Season 1)
Genre: One Sided Love, Love at First Sight, Love Triangle, Suspense, Teacher Student, University Based, Rude Heroine , LOVING Hero
Link 🖇️ ( Season 2)
The novel “Muhabbat Dua Hai”
by Uzma Zia is a romantic story that
explores the theme of love, emotions,
relationships, and the power of prayers.
It delves into the complexities of romantic
relationships, family ties,
misunderstandings, sacrifices, and hope.
The novel is praised for its emotional
depth and the way it connects with
readers, making them feel every scene.
It teaches valuable lessons about faith,
patience, and trust in Allah, emphasizing
that true love is a prayer for happiness
of the other person. The story is a
beautiful and heart-touching narrative.
Notable Novels by Uzma Zia
-
Mohabbat Bheek Hai Shayad: This novel explores themes of love and emotional struggles, capturing the essence of romantic relationships.2
-
Khoobsurat Mazaq: A story centered around friendship and the complexities of relationships, showcasing Uzma Zia’s unique storytelling style.2
-
Mohabbat Dua Hai: This novel is divided into seasons, with each part delving into different aspects of love and hope.1
-
Number One Kon: A revenge-based narrative that adds a thrilling twist to her collection.1
-
Yaaden Chand Lamhon Ki: This novel focuses on the journey of a self-reliant woman, highlighting her struggles and triumphs.
Writing Style and Themes
Uzma Zia continues to be an influential figure in Urdu literature, and her novels are cherished by fans for their heartfelt narratives and engaging storytelling.
https://aestheticnovels.online/muhabbat-dua-ha-season-2-writer-uzma-zia/












