Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Maqtool by Hareem Amin - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Web Novels

Maqtool by Hareem Amin

Email :112612

نا ول کا نام۔ مقتول

مصنف کا نام ۔حریم امین

  • •••••~~•••••

حالِ دل

میرا نام حریم امین ہے۔

میں ایک عام سی لڑکی ہوں مگر میرے اندر جذبات کا ایک سمندر چھپا ہوا ہے۔ میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ لفظ انسان کے اندر کی خاموشیوں کو آواز دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے لکھنے کو اپنی پہچان بنایا۔

میری زندگی کے سفر میں خوشیاں بھی آئیں اور دکھ بھی۔ کبھی ہنسی کے لمحے ملے تو کبھی آنکھوں سے بہتے آنسو۔ انہی لمحوں نے مجھے سکھایا کہ زندگی صرف ہنسی یا رونے کا نام نہیں بلکہ یہ دونوں رنگ ملا کر ہی مکمل کہانی بنتے ہیں۔ میں چاہتی تھی کہ میرے دل میں جو احساسات ہیں، وہ صرف میرے اندر قید نہ رہیں بلکہ لفظوں کی صورت دوسروں کے دلوں تک پہنچیں۔

میں جب لکھتی ہوں تو اپنے دل کو کاغذ پر اتارتی ہوں۔ میری تحریروں میں آپ کو کبھی میرا دکھ ملے گا، کبھی میری مسکراہٹ، کبھی میرے خواب، اور کبھی میری دعائیں۔ میں اپنی ذات کو چھپاتی نہیں، میں اپنی کہانی کو لفظوں میں بانٹتی ہوں تاکہ پڑھنے والا صرف ایک قصہ نہ پڑھے بلکہ ایک دل کو بھی سمجھے۔

یہ ناول میری ذات کی جھلک ہے۔ اس میں آپ کو کرداروں کی کہانی بھی ملے گی اور کہیں نہ کہیں میرا عکس بھی دکھائی دے گا۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا قاری، میرا پڑھنے والا، میری اس کاوش کو صرف ایک کہانی نہ سمجھے بلکہ ایک احساس سمجھے۔

 

Genre: Sad emotional Revenge and Intresting scene

Insta id :hareem_writes

مُصنّفہ: حریم امین

SneakPeak

— چائے کے کپوں سے دھواں اٹھ رہا ہے
دونوں خاموش ہیں، جیسے باتوں کے بیچ ایک دیوار آ گئی ہو۔
:(زاویار (دھیرے لہجے میں
”شاہزین… تم بدل گئے ہو۔
،پہلے تم لاہور آنے کی باتوں پر خوش ہو جاتے تھے
“اب تمہاری آنکھوں میں اجنبی سا ڈر ہے۔
،شاہزین نے ایک گہری سانس لی
چائے کا گھونٹ بھرا اور نظریں زمین پر گاڑ دیں۔
:(شاہزین (درد بھری مسکراہٹ کے ساتھ
”زاویار… میں پشاور کا رہنے والا ہوں۔
مجھے لاہور کے رنگ، اس کے اصول، اس کی چمک کا کیا پتہ؟ ،یہ شہر انُلوگوں کا ہے جو یہاں پلتے ہیں
،جو اس کی چالاکیوں سے واقف ہیں
،جو جانتے ہیں کب خاموش رہنا ہے
کب مسکرانا، کب جھوٹ بول کر بچ جانا ہے۔
…اور ہم جیسے لوگ
،جب اس شہر کا رخُکرتے ہیں
“تو یہ ہمیں کھا جاتا ہے۔
زاویار چونک کر اسے دیکھتا ہے۔
:زاویار
“”کھا جاتا ہے؟
:(شاہزین (آہستہ، ٹوٹے ہوئے لہجے میں
…”ہاں، زاویار
،یہ شہر تمہیں خواب دکھاتا ہے
پھر انہی خوابوں سے تمہاری نیند چھین لیتا ہے۔
،یہاں سچ کہنے والوں کے چہرے مٹ جاتے ہیں
اور جھوٹ بولنے والے بڑے آدمی کہلاتے ہیں۔
،میں نے پشاور کی سڑکوں پر سچ بولنا سیکھا تھا مگر لاہور کی گلیوں نے مجھے چپ رہنا سکھا دیا۔
،یہ شہر خوبصورت ضرور ہے
…مگر بےوفا ہے
،یہ تمہیں گلے لگاتا ہے
پھر دھیرے سے دھکیل دیتا ہے۔
زاویار… یہ لاہور ہم جیسے لوگوں کے لیے نہیں ہے۔
— ہم یہاں رہنے نہیں آتے
“یہ شہر ہمیں خود میں گم کر دیتا ہے۔
زاویار کے ہاتھ میں کپ تھرتھرانے لگا۔
وہ کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر الفاظ نہیں ملتے۔
:(زاویار (مدھم لہجے میں
“”تو تم جا رہے ہو؟
:(شاہزین (خاموش ہو کر آسمان کی طرف دیکھتا ہے
…”شاید
یا شاید یہ شہر مجھ سے پہلے جا چکا ہے۔
“میں بس اب اپنی پہچان ڈھونڈ رہا ہوں بارش کی بوندیں دوبارہ گرنے لگتی ہیں۔
زاویار خاموش بیٹھا رہتا ہے۔
:شاہزین اٹھتا ہے، کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے اور کہتا ہے
،”زاویار… یاد رکھنا
— یہ شہر ظالموں کا ہے
“اور ظالموں کے شہر میں سچ کہنے والے ہمیشہ تنہا ہوتے ہیں۔
وہ مڑ کر دھند میں گم ہو جاتا ہے۔
،زاویار کی آنکھوں میں نمی
— اور اس کے دل میں ایک سوال رہ جاتا ہے
“> ”کیا واقعی یہ شہر ہم جیسے لوگوں کے لیے نہیں ہے…؟

click on three dots to download flipbook

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts