Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Mahiyaat Written by Sania Hussain Episodic Novel - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Web Novels

Mahiyaat Written by Sania Hussain Episodic Novel

Email :11326

Novel Name: Maahiyat
Writer name : Sania Hussain
ناول کا نام : ماہیت
مصنفہ کا نام : ثانیہ حسین
Instagram I’d: sania_hussain_writes
Short summary:
کبھی کبھی انسان خود کو ہی کھو دیتا ہے۔ نہ چہرہ باقی رہتا ہے نہ پہچان۔ صرف ایک سوال رہ جاتا ہے۔ میں کون ہوں؟
ماہیت ایک ایسی داستان ہے جو بظاہر کامیاب، مضبوط، اور مکمل دکھنے والے کرداروں کے اندر چھپی اُس سچائی کی پرتیں کھولتی ہے جو دنیا کی نظر سے اوجھل ہے۔ یہ کہانی ہے اُن لوگوں کی جو زندگی کی دوڑ میں اپنے اصل وجود کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ جو دکھتے کچھ اور ہیں مگر اندر سے ٹوٹے اور بکھرے ہوئے ہیں۔
یہ ناول سچ اور جھوٹ کے درمیان جھولتے ضمیر، ذات کی تلاش، اور روح کی پکار پر مبنی ایک ایسا سفر ہے جو ہر انسان کو اپنی ہی ماہیت پر سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
کیا ہم واقعی وہ ہیں جو دنیا ہمیں سمجھتی ہے؟ یا وہ جو ہم خود سے بھی چھپاتے ہیں؟
Status : ongoing

novel story in urdu

urdu novel app

urdu novel book

sneakpeak

خضرج نے یشغٰی کے ہاتھ پر اپنی گرفت بڑھائی اور اسے افسوس بھری نظروں سے دیکھا۔ اس سے یشغٰی کی یہ حالت نہیں دیکھی جا رہی تھی۔ ایک وہ تھا جو یشغٰی کو بچانے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگا گیا تھا۔ دوسری طرف یہ شخص تھا جو اس کی آنکھ میں آنسو دیکھ کر تڑپ اٹھتا تھا۔ یشغٰی چند لمحے اسے دیکھتی رہی جو اپنائیت سے ، فکر مندی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے آج سے پہلے خضرج کو کبھی اتنا پریشان نہیں دیکھا تھا جتنا وہ اس لمحے نظر آرہا تھا۔ پھر وہ اس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گیا۔ بیرونی گیٹ کی طرف۔ وہ اسے اس سب سے فوراً نکالنا چاہتا تھا۔

ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے جب وہ دونوں سرخ روش پر قدم دھرنے لگے تو ایک بار پھر سوالات کا انبار ان کے سامنے لا کر رکھ دیا گیا۔ رپورٹرز چیخ چیخ کر ان سے سوالات کر رہے تھے۔ خصوصاً یشغٰی سے ابھی کچھ ہی دیر پہلے ہونے والے واقعے کے بارے میں سوالات کیے جا رہے تھے۔

” مس یشغٰی احتشام آپ حالیہ حملے پر کیا کہنا چاہیں گی؟“

”آپ کے خیال میں کون ہو سکتا ہے جو آپ کی جان کا دشمن ہے؟ “

”ایک شخص نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر آپ کی جان بچائی۔ کیا وہ شخص آپ کا جاننے والا ہے؟ کیا آپ اس شخص کو جانتی ہیں؟ “

اس سمے ایسے بہت سے سوالات تھے جو ان سے کیے جا رہے تھے۔کیمرے ان کے تعاقب میں تھے۔ وہ دونوں سب کو نظر انداز کرتے آگے بڑھتے گئے۔ دو گارڈز ان کے پیچھے بھی تھے۔ ایک رپورٹر جوش میں آکر ان کے سامنے آکھڑا ہوا۔ وہ یشغٰی کے سامنے مائک بڑھاتےہوئے بےدھڑک سوال کرنے لگا۔ خضرج کی تیوری چڑھی ۔ اس نے ایک قدم آگے بڑھ کر زناٹے دار تھپڑ اس شخص کے گال پر رسید کیا۔

” بے غیرت انسان!“ وہ غرایا۔ ”کہاں ہے تم سب لوگوں کی بینائی؟ ابھی یشغٰی کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا ہے اور تم لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ تمہارے گھٹیا سوالوں کے جواب دے گی۔ تمہیں دکھائی نہیں دے رہا کہ وہ کس کنڈیشن میں ہے، کس کرب سے گزر رہی ہے۔ “ اس کے تیز اور ترش آواز میں چلانے پر سب کو سانپ سونگھ گیا۔ ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ اس خاموشی کو صرف ایمبولینس کی آواز توڑ رہی تھی۔

جب وہ دونوں گاڑی میں بیٹھنے لگے تو یشغٰی نے ایک نظر سامنے سے آتے ابراج اور اس کے ساتھ میر کو دیکھا۔ ابراج میر کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا تھا مگر میر بضد تھا۔ اسے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کی ہلکے نیلے رنگ کی شرٹ خون آلود ہو چکی تھی۔ ایمبولینس ان کے قریب ہی کھڑی تھی جبکہ خضرج کی گاڑی وہاں سے کافی دور۔ جیسے ہی میر نے جھنجھلا کر سر اٹھایا تو نظر سامنے کھڑی یشغٰی سے جا ٹکرائی جو اس لمحے اسی کو دیکھ رہی تھی۔ نظریں ملیں۔ ایک لمحہ ، بس ایک لمحہ اور پھر ارتکاز ٹوٹا۔ کس نے رخ پھیرنے میں پہل کی تھی یہ جاننا مشکل تھا۔ وہ ایمبولینس میں بیٹھ چکا تھا۔ بازو سمیت سارا وجود درد کرنے لگا تھا۔ مگر جو درد دل میں تھا وہ ہر درد پر غالب آچکا تھا۔

یشغٰی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ سکتا ٹوٹ چکا تھا۔ جمود کا خول ٹوٹ گیا۔ وہ اب کافی حد تک نارمل دکھائی دے رہی تھی۔ ہاں مگر چہرہ اب بھی سپاٹ تھا۔ ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کردی۔ خضرج بار بار ساتھ بیٹھی یشغٰی کو دیکھ رہا تھا۔

” تم ٹھیک ہو یشغٰی ؟“

یشغٰی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ آنکھوں میں گہرے سائے تھے جنہیں اس وقت خضرج نہ پہچان سکا اور نہ ہی سمجھ سکا۔ پھر اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ ٹھیک تھی ۔ اسے خود کو ٹھیک رکھنا تھا۔ رخ موڑ کر اس نے کھڑکی کے پار چلتے منظر دیکھنے شروع کر دیے۔ یہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی کہ اس کی نظر تو وہاں تھی مگر آنکھوں میں ابھی تک سیاہ آنکھیں منعکس تھیں۔ اسے بھلانا اب جیسے ناممکن سا تھا۔ پہلو میں رکھا اس کا ہاتھ نرمی سے خضرج نے تھاما۔ وہ اسے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ وہ سب ٹھیک کر دے گا۔

یشغٰی نے رخ موڑ کر اسے نہیں دیکھا۔ وہ ہنوز باہر کی جانب دیکھتی رہی۔ آنکھیں گلابی پڑنے لگی تھیں۔ وہ نہیں روئے گی۔ وہ نہیں روئے گی۔ خضرج کے سامنے تو بالکل بھی نہیں۔ وہ مضبوط تھی۔ اس نے دل ہی دل میں خود کو دلاسہ دیا۔ بےچین دل کو تھپکی دی۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ خود سب ٹھیک کر دے گی۔

****

ہسپتال کی راہداری اس وقت کئی لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہاں ایک طرف قطار میں رکھی کرسیوں پر صدیق صاحب سر جھکائے بیٹھے تھے۔ان کے ساتھ ہی ابراج پریشان سا کھڑا تھا۔ ایک ہاتھ سینے پر باندھ رکھا تھا تو دوسرا ہاتھ وہ پیشانی پر رکھے ہوئے تھا۔ اس کا کوٹ بھی کرسی پر رکھا تھا۔ سفید ڈریس شرٹ کے اوپر والے دو بٹن کھول رکھے تھے۔ اندر میر کا آپریشن جاری تھا۔ اس کے وجود میں پیوست گولی نکالی جا رہی تھی۔ ساتھ دو تین اور لوگ بھی موجود تھے۔ ابراج تھک کر صدیق صاحب کے ساتھ بیٹھ گیا اور انہیں اس حالت میں دیکھ کر ابراج کو مزید پریشانی ہوئی۔

اگر ان کے بھانجے کو کچھ ہوگیا تو؟ وہ تو یشغٰی کو کبھی معاف نہیں کر پائیں گے۔

” ڈونٹ وری صدیق صاحب ۔ وہ ضرور ٹھیک ہو جائے گا۔ “ ابراج نے ان کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر انہیں تسلی دینا چاہی۔ صدیق صاحب اثبات میں سر ہلا کر پھر سے سر جھکا گئے۔ انہیں میر کے لیے بہت دکھ ہو رہا تھا۔ وہ واقعی پریشان بھی تھے۔ ایک بات تو ان پر افشاں ہو چکی تھی کہ میر واقعی احتشام صاحب کا برا نہیں چاہتا تھا اور ان کی بیٹی کو تکلیف میں کسی صورت نہیں دیکھ سکتا تھا۔

تب ہی خاموش راہداری میں ابراج کے فون کی گھنٹی بجی تو سناٹے میں ارتعاش پیدا ہوا۔

”کیسی طبیعت ہے اب اس کی؟ “ رابطہ ملتے ہی زرارہ کی متفکر سی آواز گونجی۔

”آپریشن ہو رہا ہے۔ “ ابراج ہلکی آواز میں بولا۔

” اور تم؟ تم ٹھیک ہو؟کہو تو میں وہاں آجاؤں۔“ زرارہ کو اس کی بھی فکر تھی۔ میر کے ساتھ آتے ہوئے ابراج نے زرارہ کو سختی سے حکم دیا تھا کہ وہ اس کی گاڑی میں گھر چلی جائے۔ زرارہ کو اس کی بات ماننا پڑی۔ وہ اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ مگر منزل اپنا گھر نہیں تھا۔ وہ یشغٰی کے گھر گئی تھی۔ اسے اپنی باس کی برابر فکر تھی۔ جس قدر سکتے کی حالت میں اس نے یشغٰی کو خضرج کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا تھا وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔ یہ جانتے ہوئے تو بالکل بھی نہیں کہ اس کی فیملی نہیں تھی۔ وہ اپنے سفید بنگلے میں تن تنہا رہتی تھی۔

وہ اس کے گھر پہنچی تو لاؤنج میں ہی اسے یشغٰی کے ساتھ ساتھ خضرج بھی نظر آگیا۔ یشغٰی صوفے پر بیٹھی تھی۔ خضرج پنجوں کے بل بیٹھا اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے تھا۔ وہ اس سے کچھ کہہ رہا تھا جسے سن کر بھی یشغٰی کے تاثرات نہ بدلے۔ وہ بس خالی خالی نظروں سے خضرج تیمور کو دیکھ رہی تھی جو کتنی بڑی بات کر گیا تھا۔ زرارہ کی ہیلز کی ٹک ٹک پر خضرج نے رخ موڑ کر اسے دیکھا۔ یشغٰی رخ بھی نہ موڑ سکی۔ زرارہ اسے دیکھ کر گڑبڑا گئی۔ اسے شدت سے احساس ہوا کہ اسے وہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ مگر اگلے ہی پل خضرج اٹھ کھڑا ہوا۔ اسے زرارہ کی آمد کی توقع ہرگز نہیں تھی۔

زرارہ ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا پائی ۔ وہ ہنوز اسی سوچ میں تھی کہ اس نے وہاں آکر کوئی غلطی تو نہیں کردی۔

”آجاؤ زرارہ۔ “ یشغٰی کی دھیمی سی آواز پورےلاؤنج میں گونجی۔ زرارہ ہکا بکا رہ گئی۔ کیا یشغٰی بھی اس کی مما کی طرح اس کی آہٹ کو پہچانتی تھی؟

زرارہ آگے آئی اور یشغٰی کے پاس کھڑی ہوگئی۔ ابراج ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کنپٹی مسلنے لگا۔ اسے یشغٰی کی فکر تھی۔ یا شاید اس کے اندر خوف کا لاوا رگوں میں خون کی جگہ بہہ رہا تھا۔ مگر کس چیز کا خوف تھا اسے؟

”خضرج تم جاسکتے ہو۔ “ وہ بدستور فرش پر دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔ زرارہ نے کنکھیوں سے خضرج کو دیکھا جو اس کی بات پر حیرت زدہ دکھائی دے رہا تھا۔ اسے اس وقت ایک دوست کی ضرورت تھی۔ پھر وہ خضرج کو وہاں سے جانے کا کیسے کہہ سکتی تھی۔ مگر اگلے ہی پل خضرج نے گہرا سانس بھرا اور وہاں سے دروازے کی جانب پلٹ گیا۔ زرارہ نے اسے وہاں سے جاتے دیکھا ، پھر یشغٰی کی جانب دیکھا۔ اس کی دائیں ٹانگ مسلسل ہل رہی تھی۔ یہ عادت عموماً ہر لڑکی کی ہوتی ہے۔ جب اسٹریس بڑھتا ہے تو ٹانگ مسلسل ہلنے لگتی ہے۔

Episode No.1-9

click below

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts