Khawab Shab O Roz Ka Talisam By Rafia Sheikh

Genre: Rude Hero, Innocent Heroine , Suspense Based
منشاء کو یہ خوف سانپ کے زہر کی مانند ڈستا تھا کہ جب اسکی سچائی سہام کو پتا چلے گی تو وہ کچھ ہی سیکنڈ میں اسے اپنی زندگی سے نکال باہر کرے گا آخر کوئی ایسی لڑکی کو کیسے برداشت کرے گا جس نے ماضی میں سنگین غلطی کی ہو۔۔۔۔۔۔۔
۔
لیکن وہ یہ بات بتا بھی نہیں سکتی تھی کہ دلاور خان نے اپنی قسم دے رکھی تھی کہ سہام کو اپنے بیتے کل کا کچھ نہیں بتانا کچھ بھی نہیں ۔ آگے کنواں تھا تو پیچھے کھائی ۔
اسے لگتا تھا اس نے یہ رشتہ جھوٹ کی بنیاد پر قائم کیا ہے ۔ لیکن اسکا ارادہ تھا وہ سب کچھ بتا دے گی لیکن ہر بار بابا جان کی قسم روک لیتی تھی اور اسے محسوس ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کانٹوں بھرے بستر پر لیٹی ہے جس سے اسکے جسم کے ساتھ روح بھی زخمی ہو رہی ہے۔
سہام نے آج تک نہیں پوچھا تھا وہ کس بات سے پریشان ہوکر آدھی رات کو اٹھ کر روتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ۔
” وہ کوئی سوال نہیں کرتا تھا آخر کیوں ؟؟؟؟”
اس نے اپنی ایک غلطی اور گناہ کا پردہ اب تک قائم رکھا ہوا تھا کیونکہ وہ اپنے لئے کسی کی نظروں میں اپنا مقام نہیں کھونا چاہتی تھی۔۔۔۔۔جبکہ اسے اس گناہ کی سزا جو ملی تھی اس سے اسکے گھر والے واقف تھے۔۔
کبھی کبھی وہ سوچتی تھی کہ بابا جان نے بتا دیا ہوگا لیکن ان سے ایک دفعہ باتوں باتوں میں پوچھا تو معلوم ہوا انھوں نے اسکے پاسٹ کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتا ۔ یہ جان کر اسے اور وحشت ہونے لگی ۔
اسکے لئے مسلسل اذیت بڑھتی جا رہی تھی وہ کوئی بھی رشتہ جھوٹ کی بنیاد پر قائم کرنا نہیں چاہتی تھی۔ لیکن بابا جان نے قسم سے باندھ رکھا تھا جو وہ کسی بھی طرح توڑ نہیں سکتی تھی۔۔۔۔لیکن وہ اپنے گناہ اور اسکے بدلے بگھتی گئی سزا کے بارے میں اسے سب کچھ بتانا چاہتی تھی۔۔۔
tap below:













