Overview: The novel revolves around the complex relationship between two main characters, Dr. Amresh and Dr. Salwa (also called Amro), who initially clash due to differences in personality and professional responsibilities
. Their interactions are marked by tension, misunderstandings, and playful confrontations, which gradually evolve into mutual respect and affection. The story captures their emotional journey, balancing moments of conflict, humor, and tender romance.
Setting and Context: Written during the COVID-19 pandemic, the story reflects the challenges faced by medical professionals, blending personal and professional dilemmas with a backdrop of crisis. The narrative portrays how career obligations, responsibilities, and emotional vulnerabilities intersect in high-pressure environments
.
-
Enemies-to-lovers romance: The protagonists initially argue and misunderstand each other but slowly develop romantic feelings.
-
Professional vs. personal life: Characters navigate the tension between duty and desire.
-
Mature relationships and emotional growth: The story addresses love and reconciliation among adults rather than teenage romance.
-
Humor and everyday life: Light-hearted interactions coexist with intense emotional developments, giving the story a balance of “sweet and sour” moments
1.
-
1 Source
Background and Literary Career
Uzma Zia has established herself as a prominent writer in the Urdu literary landscape, particularly known for her novels featured in popular digests and online platforms . She has written extensively for Urdu digests, a widely-read medium in Pakistan, allowing her stories to reach audiences who enjoy serialized and thematic fiction. Her writing style often combines emotional depth, romance, and social elements while highlighting relatable characters and situations. Uzma Zia’s novels frequently tackle themes such as love, revenge, family dynamics, and women’s empowerment in both modern and traditional settings
Notable Novels by Uzma Zia
-
Mohabbat Bheek Hai Shayad: This novel explores themes of love and emotional struggles, capturing the essence of romantic relationships.
2 -
Khoobsurat Mazaq: A story centered around friendship and the complexities of relationships, showcasing Uzma Zia’s unique storytelling style.
2 -
Mohabbat Dua Hai: This novel is divided into seasons, with each part delving into different aspects of love and hope.
1 -
Number One Kon: A revenge-based narrative that adds a thrilling twist to her collection.
1 -
Yaaden Chand Lamhon Ki: This novel focuses on the journey of a self-reliant woman, highlighting her struggles and triumphs.
Writing Style and Themes
Uzma Zia’s novels are characterized by their emotional depth and relatable characters. She often weaves intricate plots that resonate with readers, making her works popular among Urdu literature enthusiasts. Her ability to blend romance with real-life challenges is a hallmark of her writing, attracting a diverse readership.
Uzma Zia continues to be an influential figure in Urdu literature, and her novels are cherished by fans for their heartfelt narratives and engaging storytelling.
یہ کہانی کتابی شکل میں شائع ہوچکی ہے۔ لکھاری کی اجازت کے ساتھ ہم اسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کررہے ہیں۔ صرف ایستھیٹکس ناولز آن لائن کو ہی اس ناول کو شائع کرنے کی اجازت ہوگی۔ کتاب کا کوئی بھی حصہ کسی کو بھی شائع کرنے کی اجازت نہیں۔ خلاف ورزی کی صورت قانونی کاروائی کی جائے گی۔
سیکنڈ ایڈیشن کی پری بکنگ جاری ہے ۔ ڈسکاؤنٹ صرف ایک ہفتے کے لیے دستیاب ہے ۔ تفصیلات کے لیے ہمیں انسٹاگرام پہ رابطہ کریں۔
KMSZ By UZMA ZIA
SneakPeak-I
”یہ نیا ڈاکٹر تو قسم سے بڑا ہی کھڑوس ہے۔“
”تو؟؟؟ “ اس نے آئی برو اچکا کر پوچھا۔ ”تم نے میری لیو دے دی تھی ناں؟؟“
”ارے کہاں۔۔ ڈاکٹرز کی فہرست میں تمہاری پرفارمنس دیکھتے ہی اس نے تمہارے بارے میں پوچھا۔میں نے کہا کہ اسے ضروری کام ہے کوئی ۔تو کہنے لگا ۔۔ اس وقت ہمیں جس مسئلے کا سامنا ہے ، اس میں ہمارے لیئے ہماری پرسنل لائف سے زیادہ ضروری ہمارا پیشہ ہے۔ آپ سب میں سے کوئی بھی کم از کم اگلے دو مہینے تک لیو نہیں لے گا اور جو لیو لینا چاہے۔ وہ اپنے گھر بیٹھے۔“
اسکی بات اپنے منہ زبانی اسکے انداز کی نقالی کرتے ہوئے اس نے کہی ۔ امرش کی آنکھیں پھیل سی گئیں۔
”تمہیں بہانہ بتایا بھی تھا۔۔ کرونا کا کہتی تو اس نے کچھ بولنا ہی نہیں تھا۔“ امرش کا جی چاہا سلوا کا سر پھوڑ دے۔
”فضول بکواس نہ کر۔۔اب آجا پلیز۔۔“ سلوا نے التجائیہ انداز میں کہا اور فون رکھا۔
”عجیب مصیبت ہے۔ پہلے خیام رضا اور اب یہ ڈاکٹر کےآر۔ دونوں کو اکٹھے ہی نازل ہونا تھا۔۔
SneakPeak-II
”خیر۔ڈاکٹر زریاب حسن۔ آپ میں سینس ہے کہ نہیں؟؟ یہ کل رات کو کیا میسج بھیجا آپ نے مجھے ؟؟“
اب کہ وہ سمجھا تھا کہ محترمہ اتنی غصہ سے لال پیلی کیوں ہورہی ہے؟ اس نے چہرے پہ لگا ماسک ہٹا یا۔
”جی ۔۔میسج دیکھ کر بھی پوچھ رہی ہیں۔مطلب ڈیجیٹل اظہار کی بجائے ۔ روبرو اظہار سننا چاہتی ہیں آپ ؟؟ ام م م۔۔۔انٹرسٹنگ۔“ وہ چہک چہک کر بول رہا تھا۔ بتیسی صاف اور واضح نظر آرہی تھی ۔
”جی ۔۔بالکل۔۔“ وہ بھی اسکے انداز میں بولتے ہوئے اسکے قریب بڑھی ۔
اسکا قریب آنا ہی تھا کہ وہ کسی لڑکی کی طرح خود ہی میں ہی سمٹ کر رہ گیا۔ ”ڈاکٹر امرش ۔۔یہ آپ ۔“ اسکے ماتھے پہ پسینے کے قطرے بہنا شروع ہوئے ۔
وہ اسکے مزید قریب آئی۔ اپنے سفید زیب تن کیے کوٹ کی جیب سے ٹشو نکال کر اسکے ماتھے پر سے پسینہ صاف کیا ۔ زریاب کا تو تقریباََ سانس خشک ہو چکا تھا اور دماغ الگ ماؤف ہواتھا۔ دل میں ہلچل سی مچنے لگی تھی۔
اب کہ وہ اسکے گریبان تک آئی ۔ اس نے اسکی شرٹ کا کالر زور سے پکڑا۔ مقابل کی آنکھیں باہر کو آگئیں۔
”اب کے بعد اگر مجھے اس قسم کا میسج کیا تو یقین جانو۔ یہ گرد ن دبانے میں ایک لمحہ نہیں لگاؤں گی ۔۔سمجھے۔۔“ اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا اور اسکا کالر یکدم چھوڑا۔اسکا شدید ردِ عمل وہ بمشکل ہی سہہ پایا تھا۔ مقابل کو زور سے ٹھسکا لگاتھا۔
Sneakpeak-III
”دیکھو۔امرو۔۔حالات ٹھیک نہیں ہیں۔تمہیں سمجھ کیوں نہیں آرہی ۔تمہیں کیا لگتا ہے کہ اس سنسان سڑک پہ تمہیں کوئی ٹیکسی ملے گی ؟؟؟“ تھوک نگلتے غصے کو ضبط کیے اس نے قدرے تفہم سے سمجھایا۔
”پھر آ پ نے مجھے امرو کہا۔میں بتا رہی ہوں آپ کو۔اب ایک مرتبہ اور بھی آپ نے مجھے اس نام سے بلایا تو۔۔تو۔۔“ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنا سر پیٹ ڈالے۔ آنسو آنکھوں سے گالوں پہ امڈ امڈ کر باہر آبہے تھے۔
”تو؟؟؟ “ وہ اسکے قریب آیا۔ ”جان لے لو گی میری؟ تو سنو۔۔کفن باندھ کر آیا ہوں۔ ماردینا مجھے۔لیکن ابھی چلو یہاں سے۔۔ پلیز۔۔“ وہ دونوں ہاتھ باندھے اسکے سامنے عجز و انکساری سے کھڑا منت کررہاتھا۔جبکہ اسکا جسم بے حس و حرکت ہوگیا۔اگلے ہی لمحے اس نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے گاڑی کی جانب لے گیا۔
جسم میں حرکت ہوئی تو اسکے ہاتھ میں اپناہاتھ دیکھ کر اسکا منہ اسکی بے تکلفی پہ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا ۔ ”میرا ہاتھ چھوڑیں۔۔ڈاکٹر کے آر۔۔ میں آپ سے بات کررہی ہوں۔۔ لیو می۔“ وہ چیخی تھی ۔
اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسے اندر کی طرف دھکیلا۔ ساتھ ہی ساتھ دروازہ بند کرتے ہوئے لاک کیا۔
وہ اندر ہی اندر اسے کوستے ہوئے منہ میں بڑبڑارہی تھی۔
وہ خود گاڑی کی دوسری سائیڈ پہ آیا اور ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے اسٹیرنگ پکڑ کر اسکی طرف رخ موڑ کر بولا۔ ”تم کوئی حور پری نہیں ہو کہ میں مرا جارہا ہوں تمہیں ساتھ لے جانے کے لیئے۔“
اس نے تیوری چڑھا کر اسے دیکھا۔
اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور پھر مزید بولا۔ ”اب تم نے ایک لفظ اور کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا سمجھی۔۔“ ذرا ڈپٹ کر کہا۔
”آپ سے برا کوئی ہے بھی نہیں۔۔“ اس نے حساب چکتا کرنے میں ذرا سی بھی دیر نہ کی ۔
”دیکھو امرو۔۔ تم میرے گھر میں رہتی ہو۔۔میری ذمہ داری ہو۔۔ میرے کہنے پہ تم میجر سرجری کے لیئے ہسپتال آئی۔۔سو تم میری ذمہ داری ہو کہ تمہیں بحفاظت ۔۔“
SneakPeak IV
۔”دیکھیئے۔۔ڈاکٹر خیام رضا۔۔ میں آپ کے ساتھ نہیں جانا چاہتی۔ آپ ڈاکٹر سلوا کو لے کر جاسکتے ہیں۔“ لہجے میں التجا تو تھی ہی لیکن انداز بچگانہ تھا۔
بے ضبط وہ ہنس دیا ۔ آنکھیں سکیڑ ے امرش نے اسے دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے تو اسے اسکی ذہنی کیفیت پہ شک ہونے لگا تھا۔
”میں نے کوئی جوک نہیں سنایا آپکو۔۔آپ نے پریشانی کی بات کی تھی ابھی ۔۔میں نے وہی بتائی ہے۔“
”مس اسفہانی۔۔آپ نے پریشانی تو بتائی ہی نہیں ۔بلکہ اپنا منشور میرے سامنے رکھا ہے۔“ تضحیک بھرا لہجہ اب اسکا خون کھولا رہاتھا۔
”اور ویسے بھی آپکا میرے ساتھ جانا میرے لیے پریشانی کی بات ہے۔کب آپکا دماغ پھرے اور مجھے قتل کردیں۔لیکن دیکھیں میرا حوصلہ ۔۔اور میری بہادری۔اپنی جان داؤ پہ لگا کر ہیڈ آفس والوں کی بات مان کر آپکو اپنے ساتھ لے کر جارہاہوں۔“ اسکی ذومعنی باتیں اسکے کانوں میں اب چبھنے لگی تھیں۔وہ سلگ کر رہ گئی۔
BOOK is NOw OUT of STOCK
ALL rights Reserved.
PAID EBOOK Available













