Writer name: Fatyma Saleem/ فاطمہ سلیم
Writing name: جہیز: ایک ظالمانہ روایت
Description:
Sneakpeak
“میرا کچھ زیور پڑا ہے ہے، سحر کے لیے رکھا تھا، بازار میں بیچ دیں؟”
جاوید نے فوراً ٹوک دیا:
“نہیں رضیہ! ہم بھوکے رہ لیں گے، پر بیٹی کے لیے تیرا زیور نہیں بیچوں گا۔”
اگلے دن جب سحر جاگی تو اس کے سرہانے ایک پرانا سا بستہ اور دو کتابیں رکھی تھیں۔ بستہ شاید کسی بچے کا پرانا تھا، جو جاوید نے سستے داموں خریدا تھا۔ لیکن سحر کے لیے وہ کسی خزانے سے کم نہ تھا۔
وہ بستہ سینے سے لگا کر خوشی سے چیخ اٹھی:
“امی! دیکھیں، میں بھی اسکول جاؤں گی!”
رضیہ نے بیٹی کو گلے سے لگایا۔ آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔ جاوید پاس کھڑے مسکرا رہے تھے، مگر ان کی آنکھیں بھی بھیگ گئی تھیں۔
سحر نے باہر بھاگ کر محلے کے بچوں کو آواز دی:
“دیکھو! میرے پاس بھی بستہ ہے… اب میں بھی اسکول جاؤں گی!”
بچوں کی ہنسی کے بیچ سحر کی آواز آنگن کی دیواروں سے ٹکرا کر اوپر آسمان تک پہنچ گئی۔ غربت کے باوجود وہ لمحہ ایسا تھا جیسے ان کی جھونپڑی روشنی سے بھر گئی ہو۔













