
Haveli base
Rape base
Social Romantic
Rude hero
family drama
SneakPeak
اچھا اب راتوں کو چھپ چھپ کر خانوں کی حویلی میں یہ سب کچھ ہوگا سب کچھ اپنی آنکھوں سے” دیکھ کر وہ خاموش نہ رہ سکی اس کی آواز سن کر ایک دفعہ تو مریم خان اور ہمیش خان جی جان سے لرز
تم راتوں کو چھپ چھپ کر ہماری جاسوسی کر رہی ہو۔ ہمیش مریم کو بیڈ پر بٹھا کر اسکی طرف لپکا۔ “
سچ ہمیشہ کڑوا ہو تا ہے ہمیش نان حقیقت آج میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں۔ تم سب کی غیر ” موجودگی کا ناجائز فائدہ اٹھار ہے ہو”۔
ہمیش خان کو نائٹ گاؤن اور مریم خان کو بغیر ڈوپٹے کے بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر اسکی آنکھوں میں لہوا تر آیا تھا۔
تم حقیقت نہیں جانتی گل زریں جاؤ جا کر اپنا کام کرو۔ اس نے جب گل زریں کو جانے کا کہا تو اسکے تن ” بدن میں آگ لگ گئی
اسلئے چلی جاؤں کہ تمہارے لچھن نہ دیکھ سکوں۔ تمہارے کر توتوں سے دو سروں کو آگاہ نہ کر سکوں یا پھر تمہاری ان منائی جانیوالی رنگ رلیوں پر پردہ ڈال دوں۔
اسکی الزام تراشیوں پر اسکے دماغ کی رگیں تن گئی تھیں۔ وہ بات کاٹ کر گرجتے ہوئے بولا۔ اسٹاپ اٹ۔ کیا تم اپنے الزام کی وضاحت دینا پسند کروگی ؟ “
وضاحت…… ہوں ….. جب سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں تو وضاحت کیسی اور الزام کیسا؟ ” وہ غصے سے دھاڑا اور ہاتھ کا نشان اس کے منہ پر چھوڑ گیا۔۔
نہیں ہمیش خان اب میں خاموش نہیں رہ سکتی بہت برداشت کیا ہے میں نے اب مزید نہیں “۔ اپنے گال ” پر ہاتھ رکھے وہ کراہی۔۔۔۔
دیکھو گل زریں ! تم غلط سمجھ رہی ہو ۔ دراصل لائٹ چلی گئی تھی اور ہمیش خان جانتا تھا کہ مجھے نے ” اندھیرے سے ڈر لگتا ہے تو وہ فوراً میرے کمرے میں چلا آیا۔ مریم جو کب سے خاموش بیٹھی تھی صفائی دینے کو آگے بڑھی۔
تم اپنے کام سے کام رکھو۔ مجھے سبق پڑھانے کی کوشش نہ کرو۔ اس نے انگلی اٹھا کر اسے متنبہ کیا۔ ” تم بات کو سمجھنے کی کو شش کرو گل زرین!!! خوامخواہ ایک غلط بات کو طویل دے رہی ہو میں تمہیں بتا رہی ہوں نا کہ لائٹ چلے جانے کی وجہ سے۔۔۔۔
وه گل زری اور ہمیش کے نازک رشتے کا احساس کرتے ہوئے بات کو ختم کرنا چاہ رہی تھی لیکن گل زرین نے اسے ٹوک دیا……
لات جانے کی وجہ سے وہ تمہیں اپنی روشنی سے نوازنے آگیا مریم خان یہی بتانا چاہ رہی ہو نہ تم ۔ اور ” بمیش خان تم …… تم نہایت ہی گھٹیا برے کردار کے مالک اور گرے ہوئے انسان ہوں۔۔۔۔۔
شت آب جٹ شٹ آپ ” . ہمیش خان غصے سے دھاڑا اور آگے بڑھ کر اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے” اسکے کمرے کی طرف چل دیا۔ مریم راستے میں آئی تو ہمیش نے اسے دھکا دے کر نیچے گرایا اور خود گل زریر کو لیکر چل دیا۔
باہر آندھی کا شور تھا بادلوں کی گرج تھی، بجلی کی چمک ، بارش کا زور ایک دل دہلا دینے والا منظر اور اس سے بھی خوفناک منظر اسکا منتظر تھا۔
تنی اچھا ہی نہیں ہے۔ رنگ رلیاں کیسے مناتے ہیں یہ بھی بتاؤں گا اور میرے
چھوڑو مجھے “۔ وہ اس سے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اسکی مردانہ گرفت بہت ” مضبوط تھی۔
اتنی جلدی کیسے چھوڑ دوں میری جان ابھی تو تم نے میرا برا پن دیکھا ہی نہیں ہے۔ رنگ رلیاں کیسے ” مناتے ہیں یہ بھی بتاؤں گا اور میرے لچھن وہ تو خیر تم جان بی چکی ہو۔ وہ اسے اسکی کہی باتیں لو ٹاربا تھا۔
میں کہتی ہوں چھوڑو مجھے “۔ وہ اسکے جارحانہ عزائم دیکھ چکی تھی اور حقیقی خوفزدہ بھی بوربی ” تھی۔ اس نے اسے بیڈ پر پٹخا اور اندر سے دروازہ لاک کر لیا۔ اسکے چہرے پر خطر ناک عزائم کی سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ آگے جھک کر اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں کی گرفت میں جکڑ لیا۔ وہ بری طرحمچلنے لگی۔ قیامت آئی اور گزر گئی اسکی آه و واویلا اسکی کسی کام نہ آسکا اور وہ کسی ساکت پنچھی کی
Q
طرح اسکے سامنے ڈھیر ہوتی چلی گئی…..
گئی اسکا و جو ریزه ریزه ہو گیا ۔ اس نے کسی بارے ہوئے پنچھی کی طرح اپنے وجود کو سمیٹنا چاہا لیکن
بے سود….
اسکی انار اسکی نسوانیت سب کچھ تہہ تیغ ہو گیا اسکے پاس کہنے کو کچھ نہ بچا تھا۔ جب اسکی ماں، آغا جی اور امان ہی گھر واپس آئے تو وہ بخار میں بے سدھ پڑی تھی۔ مریم پاس ہی بیٹی اسکے ماتھے پر پٹیاں بھگو بھگو کر رکھ رہی تھی جبکہ ہمیش خان ڈاکٹر کو چھوڑنے گیا ہو اتھا۔ وہ سب اسکی ایسی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ آہستہ آہستہ اسکا بخار ٹھیک ہو گیا لیکن وہ یکسر بدل چکی تھی۔ اسکی ضد طنطنہ غرور کہیں دور جا کر سو گئے تھے۔ وہ گھنٹوں اپنے کمرے میں بند ہو کر بیٹھی رہتی یا پھر باداموں کے باغ میں جا کر کسی ایک نقطے پر نگاہوں کو مرکوز کر لیتی کہ کسی کے جھنجھوڑنے پر اٹھ کر حویلی کی طرف آجاتی۔ اسکی یہ حالت دیکھ کر اس کی ماں اسکی ساس امان ہی اور آغا جی گھٹ گھٹ کر جی رہے تھے۔ وہ ہمیش خان اور مریم خان کے سامنے آنے سے کتراتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
Tap Below 👇













