“بیوی ہو تم میری۔مگر بیویوں والی کوئی ادا نہیں ہے تم میں۔”
یہ گز بھر کی چادر لپیٹے رکھتی ہو جیسے میں کوئی نامحرم ہوں۔”
انزل نے اس کے اوپر پڑی چادر اتار کر پھینک دی وہ پریشان ہوگئی۔
“میں نے تمہارے اس حسن کو کبھی خراجِ تحسین ہی پیش نہیں کیا۔
حالانکہ تم اچھی خاصی فتنہ ہو۔”انزل کی نظریں اس کے آڑ پاڑ
ہونے لگی۔
“میں بھی بہک سکتا ہوں اگر بہکنے کا سامان کردو۔”انزل اس کے
پاس بیٹھ گیا اور اس کابازو تھام لیا۔
“مت ہاتھ لگائیں مجھے۔”وہ تڑپ ہی تو گئی۔
“تمہاری ڈائریاں پڑھ چکا ہوں۔اب یہ اداکاری فضول ہے۔تمہیں
بچپن سے چھوٹے بچوں کی طرح ٹریٹ کیا مگر تم نے بھی تو مجھ سے
محبت باندھی نا۔ویسے بھی اب تم میری ملکیت ہو۔”اسی لمحے
دروازے پہ زور زور سے دستک ہوئی۔وہ بھاگ کر گئی۔سامنے تائی
امی موجود تھیں۔وہ ان سے لپٹ گئی۔
ناول: ہیپی نیو ایئر
مصنفہ: نبیلہ ابر راجہ
کرن ڈائجسٹ، جنوری 2000
ایج ڈفرینس اورآفٹر میرج اسٹوری
کہانی کچھ یوں ہے کہ ہیرو ہیروئین دونوں کزنز ہیں۔ ہیروئین اکلوتی ہیں۔ اس وجہ وہ سب کی لاڈلی ہے۔ والدین کی کافی منتوں اور دعاؤں کے بعد ہیروئین پیدا ہوئی تھی۔
چھوٹی عمر ہی والدین انتقال پا جاتے ہیں اور ہیروئین کو تائی جی پالتی ہیں۔
تائی جی کا بیٹا ہیرو ہے جو عمر میں ہیروئین سے کافی بڑا ہے۔ وہ ہیروئین کا بہت خیال رکھتا ہے۔ سی ایس ایس کی وجہ سے وہ چلا جاتا ہے۔ اور ہیروئین بھی اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لئے بورڈنگ چلی جاتی ہے۔
اب دونوں کا سالوں بعد سامنا ہوا ہے۔ ہیروئین یونیورسٹی کی طلبہ ہے اور ہیرو سی ایس ایس آفیسر ہے۔ گھر میں ہیرو کی شادی کے چرچے ہیں۔ جس سے دلبرداشتہ ہو کر ہیروئین کی طبیعت کافی ناساز ہے۔
بہت مزے کی کہانی ہے۔
Pages___30
ہیپی اینڈنگ
ہیرو اتزل اور
ہیروئن امید کزنز ہوتے ہیں۔
دونوں کے بیچ عمر کا خاصا فرق ہوتا ہے، اس لیے اتزل ہمیشہ امید کو اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح سمجھتا ہے۔
دوسری طرف امید وقت کے ساتھ ساتھ اتزل کو دل سے چاہنے لگتی ہے۔
لیکن جب ہیرو کی منگنی کسی اور سے طے ہو جاتی ہے تو امید بہت زیادہ دکھی ہو جاتی ہے۔
اُس کا دل ٹوٹنے کے قریب آجاتا ہے۔
کہانی آگے بڑھتی ہے تو قسمت ایسے موڑ لاتی ہے کہ دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔
انجام خوشگوار ہے اور دونوں کی محبت کامیاب ہو جاتی ہے
شادی کے بعد بھی ان کی زندگی میں کئی خوبصورت لمحات آتے ہیں۔
SneakPeak











