
کم عمری میں اسکی شادی خاندان کے سب سے بڑے بیٹے سے کردی چھوٹی عمر میں وہ ایک بچے کی ماں بن گئی جتنا گھر سنبھالنے کی کوشس کرتی ہے کوئی نہ کوئی غلطی ہوجاتی۔۔۔
گھر میں فنکشن پر وہ آج بہت خوش تھی سب بچے لان میں کھیل رہے تھے نجانے کیسے اسکا بیٹا گم ہوگیا اسکا شوہر غصے سے پاگل ہوگیا باقاعدہ اسے دھمکی دی اگر اسکا بیٹا نہ ملا وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیگا۔۔۔۔
سب تمہاری لاپروائی کا نتیجہ ہے۔ اگر میرے بیٹے کو کچھ ہوا نا رابیل، تو اس کی ذمہ دار سراسر تم ہو گی اور میں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔ اگر اس کا بال بھی بیکا ہوا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔ سنا تم نے؟ طلاق دے دوں گا، طلاق۔” سرد اور کٹھور لہجے میں اپنی بات مکمل کر کے وہ رکے نہیں، بلکہ تیزی سے سیڑھیاں اترتے چلے گئے۔ رابیل کے چہرے پر چھا جانے والی ناامیدی، لاحاصل اور رائیگاں جانے والی زندگی کی ایک لمبی مسافت کے ہارے ہوئے سائے دیکھنے کی شاید انہیں فرصت نہیں تھی۔ ان کا بیٹا گم ہو گیا تھا جسے اس عورت نے زندگی اور موت کی کشمکش سے کھیل کر پیدا کیا تھا۔ جو ایک مجرم کی طرح سکتہ اوڑھے ایک ایک سیڑھی یوں اتر رہی تھی جیسے ابھی گر جائے گی۔ زرتاج اور سونیا نے بڑھ کے اسے تھاما۔ اس کا دل اندر ہی اندر اتھاہ گہرائیوں میں تجیسے ڈوبتا جا رہا تھا، ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ رہے تھے۔
Tap below 👇












