Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Dil Hara by Zinnia Sharjeel - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Web Novels

Dil Hara by Zinnia Sharjeel

Email :47

Book Name: Dil Hara
Author Name: Zeenia Sharjeel
Genre: Most Romantic Novel, Cousin Marriage Based, Wani Based, Haveli Based, Khoon Baha Based, Bold Romantic Novel
Status: Complete

Sneakpeak

“اچھا ذرا آج معلوم ہو جائے میری بیوی اپنے سائیں سے کتنی محبت کرتی ہے”
ضیغم نے اپنے سینے پر رکھا ہوا روشانے کا ہاتھ ہونٹوں سے لگانے کے بعد اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے پوچھا جس پر روشانے مسکرا دی۔۔۔
ضیغم روشانے کو بیڈ پر لٹاتا ہوا غور سے اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنے دل میں اتار رہا تھا، اس کی نظروں کی تپش سے روشانے کی پلکیں خود بخود جھگ گئی جس پر ضیغم ہلکا سا مسکرایا
“اس طرح شرمانے سے کام نہیں چلے گا محبت کا ثبوت محبت سے ہی دینا پڑے گا آج”
ضیغم اس کے شرمائے ہوئے روپ کو دیکھ کر بولا۔۔۔ تین دن سے اُس نے اپنے اور روشانے کے درمیان دوریاں پیدا کی ہوئی تھی مگر آج وہ اِن دوریوں کو نزدیکیوں میں ڈھالنا چاہتا تھا۔۔۔
“سائیں جو محبت کا ثبوت آپ مجھ سے مانگ رہے ہیں، اس کا مظاہرہ آپ ہی اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں یہ آپ خود جانتے ہیں”
بات مکمل کر کے روشانے اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی ضیغم ایک بار پھر مسکرایا۔۔۔
روشانے کے گلے میں موجود چین کو دیکھ کر ضیغم اس کی گردن پر جھکا تو روشانے نے بے اختیار اس کا کندھا پکڑا۔۔۔ ضیغم روشانے کا ہاتھ احتیاط سے تکیے پر رکھتا ہوا، اپنا ہاتھ اس کے گال پر رکھ کر اُس کے ہونٹوں پر محبت کی مہر ثبت کرنے لگا۔۔۔ چند سیکنڈ یونہی معنیٰ خیز خاموشی گزرے اس سے پہلے جذبات کا طوفان شور مچاتا کمرے میں مکمل اندھیرا چھا گیا۔

Sneakpeak – II

تو کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں”
ضیغم روشانے سے پوچھتا ہوا اُس کی کمر سے اپنا ہاتھ بالوں میں لے جاتا ہوا، بالوں سے کلپ نکالنے لگا
“میرا وہ مطلب بھی نہیں تھا۔۔ مجھے صبح کالج جانے کے لیے کپڑے پریس کرنے ہیں”
روشانے ضیغم کی حرکت پر اور اس کی بہکی بہکی نگاہوں سے ایک دم گھبرا گئی تھی تبھی وہ ضیغم کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی
“تو پھر کیا مطلب تھا، واضح کرو، پھر کوئی دوسرا کام کرنا”
وہ روشانے کا دوپٹہ ایک طرف رکھنے کے بعد اس کے ہونٹوں کو دیکھ کر پوچھنے لگا جو اس کی پیاس بڑھا رہے تھے۔۔۔ ساتھ ہی اس نے باہوں کا حصار روشانے کے گرد مزید تنگ کر دیا۔۔۔ اس لیے روشانے اب خاموشی سے ضیغم کی نظروں کو دیکھنے لگی جو اس کے ہونٹوں پر تھی۔۔۔
ضیغم اُس کے ہونٹوں کو دیکھتا ہوا اپنے ہاتھ روشانے کی کمر سے ہٹا کر اس کا چہرہ تھام چکا تھا۔۔۔ ضیغم کو اپنے ہونٹوں پر جھگتا دیکھ کر روشانے اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی۔ ۔۔ پیاس بجھانے کے چکر میں ضیغم کی طلب مزید بڑھتی چلی گئی
“سائیں پلیز”
روشانے اسکا حصار توڑتی ہوئی بوجھل سانسوں کے ساتھ بولی اور کمرے سے جانے کے لیے مڑنے لگی مگر سامنے دیوار تھی
ضیغم اسکو دونوں کندھوں سے تھام کر اسکے بالوں کو چومنے لگا۔۔ روشانے دیوار پر اپنا ہاتھ رکھتی ہوئی اپنی سانس بحال کرنے لگی۔،۔ ضیغم اُس کے بالوں کو کمر سے ہٹا کر دائیں کندھے سے آگے کرتا ہوا اس کے بائیں کندھے پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا، روشانے ایک بار پھر ضیغم کے حصار میں تھی مگر اس کا رخ ابھی بھی دیوار کی طرف تھا۔۔۔ روشانے ضیغم کے انداز پر بے ہوش ہونے کے قریب تھی،، تب اُس نے سے ضیغم کے ہاتھوں کا بندھا ہوا حصار ایک بار پھر توڑنا چاہا
“یہ تو غلط بات ہے اپنی باتیں تو خوب منتیں کر کے منوا لیتی ہو اور اب جب میری باری ہے تو ایسے کررہی ہو”
روشانے کو ہلکی پھلکی مزاحمت کرتے دیکھ کر ضیغم شکایتی انداز میں بولا،
روشانے پلٹ کر ضیغم کو دیکھنے لگی اسے ڈر تھا کہیں ضیغم اس سے خفا نہ ہو جائے اس لیے روشانے خود سے، ضیغم کے سینے میں اپنا چہرہ چھپاتی ہوئی بغیر کچھ بولے اپنی آمادگی کا اظہار کرنے لگی۔۔۔ روشانے کے انداز پر ضیغم اُسے ایک بار پھر اپنے حصار میں لیتا ہوا مسکرای۔

Tap below 👇

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts