
ناول : بے بس آنکھیں
Name: bebus anken
Complete

شہر کی بڑی بڑی عمارتیں مٹی کا ڈھیر بن چکی تھیں۔ ہوا میں آکسیجن سے زیادہ دھول اور بارود کی بو تھی۔ فلسطین کی زمین پر صدیوں سے ظلم ڈھایا جا رہا ہے—وہ زمین جس پر کئی انبیاء کرام نے جنم لیا، جو معراج کی شاہد ہے اور جو آخرت کی بھی گواہ بنے گی۔ اسرائیل کی ظالمانہ حرکتوں نے اس مقدس سرزمین کو خون سے لال کر دیا تھا۔
سلیمان کے کپڑے خون سے سرخ ہو چکے تھے۔ اس کے سر پر گہری چوٹ تھی، خون بہہ کر خشک ہو چکا تھا۔ جمعہ کی نماز کے لیے پہنی جانے والی سفید قمیص اب اتنی میلی اور خون آلود تھی کہ اس کا سفید ہونا پہچانا نہیں جا رہا تھا۔ وہ ننگے پیر، گلیوں میں بے بس بھاگ رہا تھا۔ اس کا باپ ایک دھماکے میں کہیں دور جا گرا تھا۔
“بابا! بابا!” وہ چیختا رہا، مگر عمارتوں کے ملبے تلے دبے انسان جواب دینے سے قاصر تھے۔
وہ ہار نہ مانا۔ روتا بلکتا اپنے گھر کے پاس آیا، جو اب زمین بوس ہو چکا تھا۔ اس کا دل پتھر سا ہوگیا۔ اس کی ماں، بیوی، دو بیٹیاں اور بھائی سب اسی گھر میں تھے۔ وہ مجنوں سا مٹی کے ڈھیر کو ہاتھوں سے کھودنے لگا، جیسے اپنے ہی دل میں قبر بنا رہا ہو۔ ہر کونا چھان مارا مگر کسی کا نام و نشان نہ ملا۔
اسی دوران اس نے دیکھا کہ ایک اسرائیلی آفیسر اس کے بھائی اسحاق کے سر پر بندوق تانے کھڑا ہے۔ اسحاق آنکھیں بند کر کے کلمہ پڑھ رہا تھا، جیسے اسے یقین ہو کہ موت بالکل قریب ہے۔ سلیمان نے چیخ کر پکارا ہی تھا کہ گولی اس کے بھائی کے سر کے پار ہو گئی۔ اس کا بھائی اس مقدس زمین پر شہید ہوگیا۔ سلیمان بے جان ہو کر گھٹنوں کے بل زمین پر گر پڑا۔
آفیسر وہاں سے دوسرے لوگوں کے تعاقب میں چلا گیا۔ سلیمان بڑی مشکل سے اپنے بھائی تک پہنچا مگر وہ آسمان کا ستارہ بن چکا تھا۔ اسی لمحے اس کے کانوں میں ایک مانوس آواز گونجی—اس کی ماں سادیہ کی آواز۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا اس طرف بھاگا۔
ماں زخمی حالت میں زمین پر پڑی تھی، آنکھوں میں بے بسی اور ہونٹوں پر کرب۔ سلیمان نے انہیں گود میں لے کر ہوش میں رکھنے کی کوشش کی:
“اماں… اماں!” وہ بچوں کی طرح بلکنے لگا۔
سادیہ نے کمزور ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کیا، پھر بیٹے کی طرف دیکھا اور اللہ کو پیاری ہوگئی۔ سلیمان نے ماں کو سینے سے لگایا اور چیخ چیخ کر رونے لگا۔ فضاء اس کے نوحوں سے گونج اٹھی۔ وہ ماں کو پاک زمین کے سپرد کر کے آگے بڑھا۔
راستے میں ایک کنویں کے پاس دو ننھی لاشیں نظر آئیں۔ قریب پہنچا تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی—وہ اس کی بیٹیاں تھیں۔ اس نے دونوں کو سینے سے لگایا اور موت کی دعا کرنے لگا۔ آنسو خشک ہو چکے تھے۔ یہ وہی بیٹیاں تھیں جنہیں صبح اس نے تیار کیا تھا، اور گھومنے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر اللہ نے ان کے نصیب میں جنت کی سیر لکھی تھی۔
اب اس کے دل میں ایک ہی خیال تھا—اس کی بیوی ہاجرہ۔ وہ کچھ دور بڑھا تو دیکھا کہ ہاجرہ اسرائیلی آفیسروں کے سامنے اپنی جان کی بھیک مانگ رہی ہے۔ سلیمان نے چیخ کر اسے پکارا۔ آفیسر چونکے، ہاجرہ نے اسے بھاگنے کو کہا، مگر وہ خون میں اُبال لیے ان کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
اس نے ایک آفیسر کا کالر پکڑ کر اسے دھمکی دی۔ ہاجرہ اسے روکنے کی کوشش کرنے لگی، مگر ایک آفیسر نے بندوق نکالی اور سلیمان کے بازو اور پیر میں گولیاں مار دیں۔ وہ زمین پر گر پڑا۔ ہاجرہ چیختی ہوئی آگے بڑھی، مگر ایک اور آفیسر نے اس کے بال پکڑ کر پیچھے گھسیٹ لیا۔
ہاجرہ کی چیخ فضا میں گونجی۔ سلیمان کے پاس اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ کھڑا ہو پاتا۔ وہ دیکھتا رہا جب ایک آفیسر نے مسکراتے ہوئے ہاجرہ کے پیٹ میں گولی ماری۔ خون کا فوارہ نکلا اور وہ زمین پر گر گئی۔ پھر ایک اور گولی دل پر لگی اور ہاجرہ تڑپتے ہوئے جان دے گئی۔
سلیمان خون آلود آنکھوں سے یہ سب دیکھتا رہا۔ اس کی دنیا، اس کی آخرت، اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر مر گئی، اور وہ اتنا بے بس تھا کہ اسے پکار بھی نہ سکا۔
اس کی آنکھوں کے کنارے سے آہستہ آہستہ پانی نکلنے لگا۔ وہ دنیا کا سب سے بے بس شخص تھا جس نے اپنے سامنے اپنے سارے خاندان کو مرتا ہوا دیکھا تھا۔ وہ دنیا کی سب سے بے بس آنکھیں تھیں جو اپنے اپنوں کا خون بہتا ہوا دیکھ رہی تھیں۔
آنکھیں روتی ہوئی اپنے سارے خاندان کی آنکھوں کو بند کر چکی تھیں۔ وہ ان کی موت پر دعا تو کر رہی تھیں، مگر جب سلیمان کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں، تو دنیا خاموش تھی۔ نہ کوئی اس کے لیے دعا پڑھنے والا تھا، نہ کوئی اس کے لیے ہاتھ اٹھانے والا۔
دھیرے دھیرے اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں، مگر اس کے دل و دماغ کی یادیں خون اور آنسو کی صورت میں بہتی رہیں۔ ہر قطرہ ایک قصہ تھا، ہر آنسو ایک چیخ۔ اور شاید یہ آنسو اور یہ درد قیامت تک جاری رہنے والے تھے، جیسے اس زمین کا رنج اور صدیوں کا ظلم اس کے وجود کے ہر حصے میں جذب ہو گیا ہو۔
سلیمان کی دنیا چھوٹ گئی، لیکن اس کی آنکھیں وہ سب کچھ دیکھ چکی تھیں جو لفظ بیان نہیں کر سکتے۔ اور اسی خاموشی میں، ظلم کے سامنے بے بسی کی صدا گونج رہی تھی، جو دنیا کے ہر گوشے تک پہنچنی تھی، مگر شاید کوئی سن نہ سکا۔
دنیا میں تقریباً ۲۰۰ ممالک ہیں، جن میں سے ۵۷ اسلامی ممالک ہیں، مگر باوجود اس کے آج فلسطین کی آنکھیں بے بس ہیں، کیونکہ باقی تمام ممالک آنکھیں جھکا کر کھڑے ہیں۔










