Important Note:
Writer has only issued the authority to Aesthetic novels online to publish this novel. Don’t copy or publish on any website without Writer’s consent.
ایک آخری خط
میرے پیارے Rebels۔۔۔ میں آپ کی خدمت میں پھر سے حاضر ہوں۔میرے اس ناول کی پہلی قسط کل آپ کو پیش کی جائے گی۔ امید کرتی ہوں آپ کو افسانہ پسند آئے گا۔
یہ ایک فرضی المیہ ناول ہے جو کہ 1947 میں ہوئی جانے والی ہجرت سے متاثر خاندانوں کی عکاسی کرتا ہے۔ صرف یہ ہی نہیں، یہ افسانہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ ان دنوں میں مختلف بیماریوں سے لڑنا کتنا مشکل تھا۔
اس کہانی میں محبت کی ایک خوبصورت مثال ہے کہ کس طرح کوئی کسی کے کئے زندہ رہتا ہے۔ انتظار تو ویسے بھی ایک آزمائش ہوتی ہے لیکن اگر یہ انتظار محبت میں کیا جائے تو یہ عذاب بن جاتا ہے۔
کیا انتظار کی گھڑیاں تھم جائیں گی یا پھر قلم عمر بھر کا انتظار لکھ کر توڑ دیا جائے گا؟
میرے باقی ماموں زاد اور خالہ زاد مجھے ڈراتے تھے کہ میری قسمت تو پھوٹ چکی ہے کیونکہ حُسنا میری منگ ہے۔اور سب کے ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ پڑھائی میں سب سے اچھی تھی، ہمیشہ اوّل آتی تھی اور اب تو شاید اُسکے دسویں کے امتحان ہونے والے تھے۔ اور میں بس چھ جماعتیں ہی پڑھا تھا وہ بھی بہت مشکل سے۔اور دوسری وجہ یہ کہ وہ خاندان میں سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ مجھے یاد ہے، کسی نے ہنستے ہوئے کہا تھا، ” وہ کتابوں میں جیتی ہے، اور تو کھیتوں میں۔” میرے دل پر لگا تھا یہ جملہ ۔ بس ۔۔۔اُس کے بعد سے وہ مجھے کچھ خاص پسند نہ تھی، حالانکہ اُسے دیکھے بھی کافی عرصہ بیت چکا تھا۔
Scene no 02:
اُس نے اپنا سر میرے سر سے جوڑا تھا، اُسکا قد مجھ سے چھوٹا تھااِس لئے مجھے جھُکنا پڑا ۔ مگر وہ تو ملکہ تھی اُس کے لئے تو جھُکا بھی جا سکتا تھا۔مجھے لگا وہ بھی رو رہی ہے۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا، تو وہ ہنس دی۔
Tap below 👇











