Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Aik Akhri Khat By Hafsah Demir - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Web Novels

Aik Akhri Khat By Hafsah Demir

Email :73
Novel name: Aik Akhari Khat
Writer: Hafsah Demir
Insta ID: https://www.instagram.com/hafsah_demir?igsh=bzQ0OHZsOGhodWhp

Important Note:

Writer has only issued the authority to Aesthetic novels online to publish this novel. Don’t copy or publish on any website without Writer’s consent.

Description:

ایک آخری خط
میرے پیارے Rebels۔۔۔ میں آپ کی خدمت میں پھر سے حاضر ہوں۔میرے اس ناول کی پہلی قسط کل آپ کو پیش کی جائے گی۔ امید کرتی ہوں آپ کو افسانہ پسند آئے گا۔

یہ ایک فرضی المیہ ناول ہے جو کہ 1947 میں ہوئی جانے والی ہجرت سے متاثر خاندانوں کی عکاسی کرتا ہے۔ صرف یہ ہی نہیں، یہ افسانہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ ان دنوں میں مختلف بیماریوں سے لڑنا کتنا مشکل تھا۔

اس کہانی میں محبت کی ایک خوبصورت مثال ہے کہ کس طرح کوئی کسی کے کئے زندہ رہتا ہے۔ انتظار تو ویسے بھی ایک آزمائش ہوتی ہے لیکن اگر یہ انتظار محبت میں کیا جائے تو یہ عذاب بن جاتا ہے۔

اس کہانی میں شادی کے دو مختلف پہلو بھی دکھائے گئے ہیں۔ کشمیر میں ہوئی جانے والی جنگ کس طرح سب کو متاثر کرتی ہے اس کا بھی ذکر ہے۔

کیا انتظار کی گھڑیاں تھم جائیں گی یا پھر قلم عمر بھر کا انتظار لکھ کر توڑ دیا جائے گا؟

Scene no 01:
میرے باقی ماموں زاد اور خالہ زاد مجھے ڈراتے تھے کہ میری قسمت تو پھوٹ چکی ہے کیونکہ حُسنا میری منگ ہے۔اور سب کے ایسا کہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ پڑھائی میں سب سے اچھی تھی، ہمیشہ اوّل آتی تھی اور اب تو شاید اُسکے دسویں کے امتحان ہونے والے تھے۔ اور میں بس چھ جماعتیں ہی پڑھا تھا وہ بھی بہت مشکل سے۔اور دوسری وجہ یہ کہ وہ خاندان میں سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ مجھے یاد ہے، کسی نے ہنستے ہوئے کہا تھا، ” وہ کتابوں میں جیتی ہے، اور تو کھیتوں میں۔” میرے دل پر لگا تھا یہ جملہ ۔ بس ۔۔۔اُس کے بعد سے وہ مجھے کچھ خاص پسند نہ تھی، حالانکہ اُسے دیکھے بھی کافی عرصہ بیت چکا تھا۔

Scene no 02:

اُس نے اپنا سر میرے سر سے جوڑا تھا، اُسکا قد مجھ سے چھوٹا تھااِس لئے مجھے جھُکنا پڑا ۔ مگر وہ تو ملکہ تھی اُس کے لئے تو جھُکا بھی جا سکتا تھا۔مجھے لگا وہ بھی رو رہی ہے۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا، تو وہ ہنس دی۔

Novel Status : Complete

Tap below 👇

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts