Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

40 Saal Or Insaaf - Aesthetic Novels 40 Saal Or Insaaf - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Blog

40 Saal Or Insaaf

Email :7

“40 سال بعد عدالت نے کہا آپ بے گناہ ہیں… اور پھر 40 جج نے برجائے کے طور پر ایک خالی کاغذ تھما دیا” 💔
یہ کہانی ‘اجامو’ نامی ایک غریب لڑکے کی ہے، جس نے اپنی پوری جوانی جیل کی اندھیری کوٹھڑی میں گزار دی۔ صرف 17 سال کی عمر میں اس پر ایک جھوٹا قتل کا الزام لگا اور اسے عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ اس کے سارے خواب، اس کی جوانی اور اس کی ہنسی ان سلاخوں کے پیچھے ہی دفن ہو گئی۔
40 سال کی طویل اذیت کے بعد بالآخر اصلی قاتل پکڑا گیا اور قانون کو اپنی بھیانک غلطی کا احساس ہوا۔ جب سفید بالوں اور کانپتے ہاتھوں والے بوڑھے اجامو کو عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے شرمندگی سے سر جھکا کر ایک خالی کاغذ (چیک) اس کی طرف بڑھایا اور کہا:
“تمہارے ضائع ہونے والے وقت کی کوئی قیمت نہیں، لیکن اس پر جتنی رقم چاہو لکھ لو، حکومت تمہیں فوراً ادا کرے گی۔”
پورے کمرۂ عدالت میں پن ڈراپ سائلنس تھا۔ اجامو کی آنکھ سے ایک آنسو گرا جو سیدھا اس خالی کاغذ پر جذب ہو گیا۔ اس نے کوئی رقم نہیں لکھی؛ بس قلم اٹھایا اور کانپتے ہاتھوں سے صرف ایک جملہ لکھ کر کاغذ واپس جج کی طرف بڑھا دیا:
“جج صاحب! میرا کھویا ہوا وقت تو کوئی رقم واپس نہیں لا سکتی؛ بس اپنے اس نظامِ انصاف کو ٹھیک کر لیجیے تاکہ آئندہ کسی اور ‘اجامو’ کی جوانی ان…”اندھیری جیلوں میں ضائع نہ ہو۔”
یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، اور اس کے درد نے عدالت میں موجود ہر شخص کو رلا دیا۔ سچ ہے، جو انصاف پوری زندگی چھین کر ملے، وہ انصاف نہیں۔۔۔
ایک بہتانک مذاق ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts