Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Hukam e Ilahi written by Adeeb Yousufzai - Aesthetic Novels Hukam e Ilahi written by Adeeb Yousufzai - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Uncategorized

Hukam e Ilahi written by Adeeb Yousufzai

Email :42

یہ جہاز اس ایک شخص کے بغیر اڑنے کو تیار ہی نہ تھا گویا جہاز خود بار بار انکار کرتا رہا کہ جب تک عامر القذافی سوار نہیں ہوگا تب تک وہ اڑان نہیں بھرے گا۔
مئی 2025 کا مہینہ تھا۔ لیبیا کے صوبہ سبہا کے ایئرپورٹ پر حج کا ایک قافلہ روانگی کی تیاری میں تھا۔ دوپہر 12 بجے عامر المہدی منصور القذافی جوش و خروش سے لبریز حاجیوں کے اس قافلے کے ساتھ سعودی عرب جانے کے لیے روانگی ہال پہنچے لیکن ابھی انہیں نہیں معلوم تھا کہ آج کا دن ان کے لیے کتنا یادگار بننے والا ہے!

عامر جب بورڈنگ گیٹ پر پہنچے تو انہیں روک لیا گیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ ان کے نام میں ‘القذافی’ لکھا تھا جس کی بنیاد پر سیکیورٹی حکام نے سیکیورٹی کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا۔ القذافی لاحقہ کی وجہ سے سیکیورٹی کلیئرنس میں وقت لگ گیا۔ اس دوران باقی سارے حاجی جہاز پر سوار ہو گئے اور دروازے بند کر دیے گئے۔ جب عامر کا سب کچھ کلئیر ہوا تو پائلٹ نے گیٹ کھولنے سے انکار کر دیا اور جہاز اڑ گیا۔

عامر ایئرپورٹ کے روانگی گیٹ پر کھڑا رہ گیا۔ ایسے میں ایک عام آدمی کیا کرتا؟ گھر چلا جاتا؟ اگلے سال کے لئے کوشش کرتا یا کم از کم ائیرپورٹ سے ہی باہر نکل آتا لیکن عامر نے کہا ‘انشاءاللہ یہ جہاز نہیں جائے گا، انشاءاللہ میں اس میں سوار ہوں گا، میری نیت حج کی ہے۔'(انٹرویو) افسران نے انہیں سمجھانے اور منانے کی کوشش کی لیکن عامر نے ایئرپورٹ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ وہ وہاں کھڑے رہے۔

کچھ ہی دیر میں لاؤڈ سپیکر پر اعلان ہوا ‘جو جہاز ابھی اڑا ہے، وہ فنی خرابی کی وجہ سے واپس آ رہا ہے۔’ کچھ دیر میں جہاز نے ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی۔ عملے نے پائلٹ سے درخواست کی کہ عامر کو بھی اجازت دی جائے کیونکہ تب تک سیکیورٹی کلیئرنس مکمل ہوچکی تھی لیکن پائلٹ نے لاجسٹک مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے انکار کر دیا۔ یوں جہاز دوبارہ اڑ گیا۔

لیکن چند منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ ایک اور فنی خرابی نے جہاز کو دوبارہ واپس لانے پر مجبور کر دیا۔ اس بار پائلٹ نے وہ جملہ کہا جو پوری دنیا میں پھیل گیا ‘واللہ، میں قسم کھاتا ہوں کہ یہ جہاز عامر القذافی کے بغیر نہیں اڑے گا۔’

جس پائلٹ نے چند گھنٹے پہلے دروازہ کھولنے سے انکار کیا تھا وہی پائلٹ اب اعلان کر رہا تھا کہ جب تک عامر سوار نہیں ہو گا، فلائٹ نہیں جائے گی۔ کاغذی کارروائی فوری مکمل کی گئی اور عامر المہدی القذافی بالآخر اپنے قافلے کے ساتھ جہاز میں سوار ہوگئے اور اس بار جہاز بغیر کسی خرابی کے سعودی عرب پہنچ گیا۔

سعودی عرب پہنچ کر عامر نے ویڈیو بنائی جو لاکھوں لوگوں نے دیکھی۔ مصری اخبار ‘الیوم السابع’ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ‘الحمد للہ، اے میرے رب، تو نے مجھے اس سال حج کا موقع عطا فرمایا۔ جو ہوا وہ کوئی معجزہ نہیں تھا۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے اس سال میرے لیے حج لکھا تھا۔’ ساتھ ہی انہوں نے اللہ سے دعا مانگی کہ لیبیا میں حالات بہتر ہوں اور اتحاد قائم ہو۔

بعد ازاں انہوں نے اپنے گھر والوں سے ویڈیو کال کے ذریعے بات کی۔ انہیں اطمینان دلایا کہ وہ ٹھیک ہیں اور منیٰ کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کو بھی پیغام دیا کہ کوئی بھی خبر پھیلانے سے پہلے تصدیق کریں تاکہ اس کے گھر والے بے فکر رہیں۔

عامر نے خود اپنی کہانی ایک ویڈیو میں بیان کی اور ائیرپورٹ کے سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ یادگار تصاویر بھی بنائی جنہوں نے آخر میں انہیں دعائیں دے کر رخصت کیا۔

ایک نیوز پلیٹ فارم نے ایک سوشل میڈیا صارف کا کمینٹ قوٹ کرتے ہوئے لکھا ‘عامر، تیرے اور اللہ کے درمیان کیا بات ہے؟ تیری نیت نے پکارا تو آسمان نے لبیک کہا؟’

گزشتہ سال 2025 میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16 لاکھ 73 ہزار 230 حجاج نے فریضۂ حج ادا کیا۔ ان میں سے 15 لاکھ 6 ہزار 576 بیرون ملک سے پہنچے تھے جبکہ 1 لاکھ 66 ہزار 654 سعودی عرب کے اندر سے تھے۔ سب سے زیادہ حجاج انڈونیشیا، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور ترکی سے پہنچے۔

ان 16 لاکھ سے زائد حجاج کی اپنی اپنی کہانی تھی، اپنا اپنا انتظار تھا، اپنی اپنی دعا تھی۔۔۔ کوئی برسوں کی بچت لے کر آیا پہنچا تھا تو کوئی بیمار ماں کی دعا لے کر حج کا فریضہ ادا کر رہا تھا۔ ان میں سے ایک عامر بھی تھا۔

تدوین
ادیب یوسفزئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts