
Story Name: Mein Ne Haar Mani Hai
Writer Name: Anila Kiran
Genre: Age difference, Innocent heroine, Rude+Caring hero, mature writing style.
Status: Complete.
Short Summary
Novel name_ Mai ny haar mani hai” Published in Kiran digest February 2003
Writer_ Anila Kiran
Pages_ 66
aAge difference based, beautiful family story hai with mature writing
Heroin Maira k parents ki death ho chuki hai dadi k sath rehti hai.Dadi ki achank death hojati tb dadi k dever ka beta use apny sath apny ghr le ata jo k bht rich hai.Hero Nabeel inka beta hai…bht nice nature ka hai jbke hero ki mother bht rude hain.
Hero study mai help krta tb heroin use like krny lagti…bht pyari story chalti hai ..
Happy ending hai
Nabeel as a mature, successful businessman. He treats Maira like a child due to their clear age difference. Maira, on the other hand, is still in her first year of college and is adjusting to the new environment after her tragic losses.
Sneakpeak
تمہارے بارے میں تصور بھی نہیں کیا چھوٹے بچوں کی طرح تمہیں ٹریٹ کرتا رہا اور تم تم کہتے ہو کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے۔”وہ ایک بار پھر چلانے لگا تھا مائدہ گھبرا کر گھٹنوں کے بل کالین پر بیٹھ گئی اور روتے ہوئے بولی۔
“میں نے ایسا جان پوچھ کر نہیں کیا مجھے نہیں معلوم ایسا کیسے ہو گیا بس خود بخود ہی۔۔”
“خود بخود ہی تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی بغیر میرے لیے کچھ سوچے سمجھے جانے بنا ہی تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی۔” اس کا لہجہ طنزیہ تھا۔
“مجھے نہیں معلوم محبت کیا ہوتی ہے مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ جب اپ میرے سامنے نہیں ہوتے تو مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا میرا کہیں بھی دل نہیں لگتا میں ہر وقت اپ کو اپنے قریب دیکھنا چاہتی ہوں میں اپ سے دور ہو گئی تو زندہ نہیں رہ پاؤں گی۔”اس کے رونے میں شدت اگئی تھی نبیل کی غصے میں اضافہ ہو گیا۔
“تم حد سے زیادہ احمق لڑکی ہو مائرہ اکرم حد سے زیادہ احمق جسے اپنے سے دس برس بڑے ایک شخص سے بغیر اس کے متعلق کچھ جانے محبت ہو گئی حالانکہ مجھ میں اور تم میں کوئی ایک بھی قدر مشترک نہیں ہے۔”
“میں جانتی ہوں میں بہت معمولی سی لڑکی ہوں اپ کے پیروں کے دھول کے برابر بھی نہیں ہوں مگر آپ میرا یقین کریں میں نے جان پوچھ کر ایسا نہیں کیا مجھے تو خود بھی پتہ نہیں چلا کہ میں کیسے۔”وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“مجھے اپ سے کبھی کچھ نہیں مانگوں گی آپ بس مجھے اس گھر میں رہنے دیں مجھے یہاں سے دور نہ بھیجیں۔”چند منٹ بعد سر اٹھاتے ہوئے وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی اور اچانک ہی اٹھ کر تقریبا بھاگتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے جبکہ کمرے کے وسط میں کھڑے حیرت زندہ سے نبیل احمد نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا اور صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھتے ہوئے اپنے آنکھیں بند کر لیں۔
Click below 👇











