Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Irtikaz by writer Hareem Ameen - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Web Novels

Irtikaz by writer Hareem Ameen

Email :14

Novel:Irtikaz

writer:Hareem Ameen

Genre: Genz Regret Thrill motivation And Focus
Writer id:hareem_writes71

Sneakpeak:

نیشا پہلی بار میران کے گھر آئی تھی۔ عالیشان بنگلے کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسے ایک عجیب سی گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ میران کی ملازمہ ‘وسائی’ نے اشارہ کیا، “جی، وہ اپنے کمرے میں ہیں۔”
نیشا نے دھیرے سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی۔ کمرے میں مکمل اندھیرا تھا، صرف لیپ ٹاپ کی اسکرین کی نیلی روشنی دیواروں پر لگی پراسرار تصویروں کو مزید خوفناک بنا رہی تھی۔
“نی۔۔۔ نیشا؟ تم یہاں؟” میران چونک کر بیڈ سے اٹھا، اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ اس نے فوراً صوفے کی طرف اشارہ کیا۔ “بیٹھو۔”
نیشا نے کندھے سے بیگ اتارا اور مسکراتے ہوئے پورے کمرے کا جائزہ لیا۔ “واقعی، یہ ایک Gen Z کا کمرہ لگ رہا ہے۔ اتنا اندھیرا کیوں کر رکھا ہے میران؟”
میران اس کی بدلتی رنگت دیکھ کر پہچان گیا کہ وہ تھوڑی خوفزدہ ہے۔ “تمہیں میرا روم عجیب لگ رہا ہے؟”
“نہیں میران، مجھے کیوں عجیب لگے گا؟ بس یہ کہ۔۔۔ اتنا اندھیرا؟”
“سکون ملتا ہے اس اندھیرے میں،” میران نے دھیمی آواز میں کہا اور اب وہ نیشا کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔ نیشا اس کے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ رہی تھی، وہ آج بھی ویسا ہی بے چین لگ رہا تھا۔
“کیا ہوا؟” میران نے جب دیکھا کہ وہ اسے غور سے دیکھ رہی ہے تو پوچھا۔
“امم۔۔ کچھ نہیں۔” نیشا کو سخت شرمندگی ہوئی کہ وہ اسے اتنی دیر سے گھور رہی تھی۔
“کافی پیو گی؟” میران نے پوچھا۔ “ہاں۔۔۔” نیشا نے پرسکون ہو کر کہا۔
میران نے وسائی کو آواز دی اور پھر لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، “میں یونیورسٹیز دیکھ رہا تھا۔ میں نے سوچا ہے کہ میں اس ملک سے ہی باہر چلا جاؤں۔”
نیشا کو جیسے جھٹکا لگا۔ “یعنی تم ملک چھوڑ کر چلے جاؤ گے؟ آؤٹ آف کنٹری؟”
“ہاں۔۔۔” میران نے گہرا سانس لیا۔ “میں چاہتا ہوں وہاں جاؤں جہاں مجھے کوئی نہ پہچانے۔ جہاں کوئی مجھے ‘جہاں زیب کا بیٹا’ کہہ کر نہ پکارے۔ میں ہاسٹل میں رہوں گا، اپنی پہچان خود بناؤں گا۔”
نیشا نے چہرہ موڑ لیا۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا کہے۔ “مطلب تم چلے جاؤ گے؟ پھر ہم ڈیلی کیفے میں بھی نہیں مل سکیں گے؟”
میران نے اسے تھوڑا چھیڑا، “ہاں شاید، ویسے بھی میں اس ملک سے جان چھڑانا چاہتا ہوں، بس تھوڑا اسٹیبل ہو جاؤں پہلے”
نیشا کو سمجھ نہیں آیا اور وہ بے اختیار چیخنے لگی۔ “کیا کہہ رہے ہو تم؟ تم چلے جاؤ گے اور۔۔۔” اس کے الفاظ سسکیاں بن گئے۔ اس نے ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ لیا اور بچوں کی طرح بلک کر رونے لگی۔
میران ہکا بکا رہ گیا۔ “اوہ۔۔ تو ڈرامہ کوئین مجھے مس کرے گی؟”
نیشا کافی دیر روتی رہی، پھر اسے احساس ہوا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔ اس نے دھندلائی آنکھوں سے دیکھا تو میران زمین پر اس کے سامنے بیٹھا اس کے چپ ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ نیشا نے آنسو صاف کیے اور بھاری آواز میں کہا، “آئی ایم سوری، مجھے نہیں پتہ مجھے رونا کیوں آگیا۔”
میران ہنس دیا۔ نیشا چڑ گئی، “ہنس کیوں رہے ہو؟”
“تم میری وجہ سے رو رہی تھی؟” میران نے پوچھا۔
نیشا نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا۔ “مجھے لگا تھا کہ کوئی تو ہے جو مجھے اگنور نہیں کر سکتا، جو مجھے ٹائم دیتا ہے۔ ہمارے گھر میں سب پاس ہوتے ہیں مگر پھر بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں۔ اور اب تم بھی چلے جاؤ گے۔۔۔” نیشا کا لہجہ بیٹھ گیا تھا۔
میران کو اس وقت نیشا میں اپنا ہی عکس نظر آیا۔ کہتے ہیں ہر شخص دوسرے کا آئینہ ہوتا ہے، مگر الٹی طرف—جہاں تکلیف ایک جیسی ہوتی ہے مگر وجوہات الگ۔ دونوں اپنی زندگی سے تنگ تھے، دونوں کو ایک ایسا شخص چاہیے تھا جو ان کی پروا کرے، جو ان پر مسلط نہ ہو مگر ان کی فکر کرے۔ کیونکہ جین ذی ایک دوسرے کا آئینہ ہوتے ہیں۔

Complete Novel

COMING SOON

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts