Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Ulaad ki Tarbiyat Written by Professor Nazish Yaqoub - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

  • Home
  • Blog
  • Ulaad ki Tarbiyat Written by Professor Nazish Yaqoub
Blog

Ulaad ki Tarbiyat Written by Professor Nazish Yaqoub

Email :2185

A well Written Motivational Column by Professor Nazish Yaqoub

اولاد کی تربیت کرتے وقت اس بات کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ ہم انہیں کیسا ماحول فراہم کر رہے ہیں اور ان کے جذبات و احساسات کے ساتھ کس قدر حساس اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ بچے ایک نرم مٹی کی مانند ہوتے ہیں، جس قالب میں انہیں ڈھالا جائے وہ ویسے ہی بن جاتے ہیں۔ اگر ہم ان کے دلوں میں نفرت، تلخی، محرومی اور منفی رویوں کا زہر بھریں گے تو وہی زہر ایک دن ان کے قول و فعل میں جھلکے گا۔ اور اگر ہم محبت، خلوص، برداشت، احترام اور مثبت سوچ کی آبیاری کریں گے تو وہی بچے مستقبل میں معاشرے کے لیے خوشبو بکھیرنے والا شہد بن جائیں گے۔
اولاد کی تربیت محض نصیحتوں یا سختی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا مسلسل عمل ہے جس میں والدین کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے اردگرد دیکھتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ گھر کا ماحول مثبت، پُرسکون اور اخلاقی اقدار سے بھرپور ہو۔ والدین کا لہجہ، رویہ، باہمی احترام اور مسائل کو حل کرنے کا انداز بچوں کی شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔
بچوں کے جذبات کا خیال رکھنا، ان کی بات سننا، ان کی غلطیوں پر انہیں ذلیل کرنے کے بجائے سمجھانا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ایک مضبوط اور پراعتماد شخصیت کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد باکردار، بااخلاق اور ذمہ دار انسان بنے تو ہمیں ان کی تربیت کے دوران اعلیٰ اخلاقی اقدار اور بلند معیارِ کردار کو ہر حال میں ملحوظِ خاطر رکھنا ہوگا۔
یاد رکھیے، ہم جیسا بیج بوئیں گے ویسی ہی فصل کاٹیں گے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اولاد کی تربیت میں محبت، مثبت ماحول اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو اپنا شعار بنایا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک بہتر، مہذب اور روشن معاشرے کی تشکیل کر سکیں۔

Share your Views about this Column in the Comment Box.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts