Novel Name : MaahPara Written by Sehar Khan
Genre: Caring Hero, Loving Heroine, Doctor Heroine, 10 year Gap story, London Scenes , Family Based , Love after Marriage
Available in Book form . You may Message to writer official Instagram Page to book your order for book.
SneakPeak
“تو تم ۔۔۔ آگئی؟ وہ سینے پر بازو باندھے کھڑا تھا۔ لیکن اس کی پر تپش نظریں اسی پر جمی ہوئی تھیں۔
” ہا ۔۔۔ ہاں!” ماہ پارہ نے بمشکل اٹکی ہوئی سانس میں کہا۔ وہ حسن کو صرف اس لیے پہچان گئی تھی کیونکہ وہ کافی حد تک جہانگیر کی طرح دیکھتا تھا۔
“تمہیں میرے بھائی کو دس سال تک سزا دینے سے کیا ملا ؟ اور اب یوں اچانک چلی آئی ہو؟” وہ ایک قدم آگے بڑھا تو ماہ پارہ بے اختیار ایک قدم پیچھے ہوئی۔
“انہوں نے خود ہی مجھے دور بھیجا تھا۔ میں نے کیا کیا ہے، ہاں؟ میں نے کہا تھا کہ مجھے باہر بھیج دیں؟” اس نے دبی آواز میں کہا۔
“ان کا گناہ صرف یہ تھا کہ وہ تمہیں آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے تھے۔ تم شروع سے ہی خود غرض تھی ماہ پارہ۔ تمہیں میرے بھائی کی کوئی پرواہ نہیں، چاہے وہ زندہ رہے یا مرے، تمہیں کیا فرق پڑتا ہے اس سے؟تمہیں تو بس اپنے خواب پورے کرنے تھے۔” ماہ پارہ یہ بات سن سن کر تھک چکی تھی۔ اس نے سلگتی نظروں سے حسن کی طرف دیکھا۔
“حسن بھائی خدا کے لیے مجھے مجرم ٹھہرانا بند کریں۔ جہانگیر کو میں نے سب کی شکایت لگا دینی ہے۔” آخر میں اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔ اس نے بے دردی سے آنکھیں رگڑیں۔
وہ گھبرا کر بولا۔ “ماہ پارہ، میں نے تو بس ایسے ہی کہہ دیا۔ جو کچھ کہا بھول جاؤ، میں نے غلطی سے کہہ دیا۔ پلیز رونا مت۔ ایک کام کرو، میرے ساتھ میرے اپارٹمنٹ چلو۔ جہاں جہانگیر بھائی میرے ساتھ رہ رہے ہیں۔”
“ہرگز نہیں۔ میں یہاں صرف ان کا علاج کرنے آئی ہوں۔ کسی سے کوئی رشتہ داری نبھانے نہیں۔” اس نے اپنے آنسوں پونچھے۔ “اور اگر جہانگیر کو میری آمد کا پتا چلا تو بھول بھی جائیں کے میں یہاں دوبارہ آؤں گی۔” انگلی اٹھا کر اس نے تنبیہ کیا تو حسن مسکرایا۔
“بتاؤ تمہارا سامان کہاں ہے؟” حسن نے اس کی دھمکی کو خاطر میں لائے بغیر کہا۔
“نیچے ٹیکسی میں رکھا ہے اور ویسے بھی مجھے آپ کے ساتھ جانے کا کوئی شوق نہیں۔ وہاں بھی طعنے دینا بند نہیں کریں گے۔” اس نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
“تم کافی بڑی ہوگئی ہو۔ اب تو مجھے ڈر لگنے لگا ہے تم سے۔ باتیں تو خیر پہلے بھی بڑی بڑی کرتی تھی۔” وہ مسکراہٹ دبائے ایک بار پھر اسے تنگ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
“خاموش رہیں۔” اس نے جھلاہٹ سے کہا تھا۔ وہ سرخ پر چکی تھی غصے سے۔
“اچھا یہ بتاؤ کہ کب آئی ہو؟ کہاں رہنا ہے؟ اور کس کے ساتھ آئی ہو؟” اس نے موضوع بدلا۔
“ابھی آئی ہوں۔ سیدھا پہلے جہانگیر کے پاس۔ رہنے کا میں خود دیکھ لوں گی۔” وہ وہاں سے جانے لگی۔ حسن بھی اس کے پیچھے جانے لگا۔
“بھئی میرا گھر ہے نا۔ وہاں چلو شرافت سے۔” ماہ پارہ نے چلتے ہوئے رک کر ایک نظر اس پر ڈالی۔ “دیکھو میں نے ایک بات مانی ہے تمہاری اب تم بھی مان جاؤ۔” اس نے التجا کی۔
وہ خاموشی سے آگے بڑھ گئی۔ حسن نے اس کی خاموشی کو ہاں میں لیا اور آگے بڑھ گیا۔ کاریڈور سے نکل کر دونوں نیچے پارکنگ میں جا کر کھڑے ہو گئے۔ حسن نے گاڑی کا دروازہ کھولا، ماہ پارہ اندر بیٹھ گئی، وہ مڑ کر ڈرائیونگ سیٹ کی طرف آکر بیٹھا۔ اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ راستہ خاموشی سے کٹ رہا تھا لیکن ماہ پارہ کے ذہن پر کئی سوالوں کا قبضہ تھا۔ وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔
ماہ پارہ نے اس کی طرف رخ کرکے پوچھا۔ “حسن بھائی آپ کا پاسپورٹ اور ویزا ۔۔۔ مطلب کہ کیسے ملا تھا؟”
وہ ہلکا سا مسکرایا۔ “لمبی کہانی ہے۔”
“تو میں نے کونسا ٹرین پکڑنے جا رہی ہوں؟” اس نے آنکھیں گھمائیں۔
گہری سانس لے کر وہ کہنے لگا۔ “تمہارے جانے کے بعد زائشہ آئی تھی۔ انہوں نے بھائی کی بہت منتیں کیں کہ اب تو تم چلی گئی ہو اب تو وہ اس سے شادی کرے۔ انکل بھی آئے تھے دوبارہ رشتہ جوڑنے۔ گھر میں کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا۔” ماہ پارہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔ “فکر مت کرو، بھائی کا تمہیں پتا تو ہے۔ انہوں نے صاف انکار کردیا بابا نے بہت سمجھایا میری دھمکی بھی دی لیکن وہ ٹھہرے ضدی کہا کہ میں نے ماہ پارہ سے وعدہ کیا ہے میں ہر گز یہ قدم نہیں اٹھاؤں گا۔” وہ اپنی دھند میں کہے جا رہا تھا یہ جانے بغیر کہ اس کے پاس میں بیٹھی لڑکی ایک بار پھر آنسو بہا رہی تھی۔
“پھر بابا نے ایک دن زائشہ اور انکل کو کھانے پر بلایا۔ کھانے کے بعد وہ دونوں گھنٹہ کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔” یہ سن کر ماہ پارہ نے سسکی بڑھی۔ حسن نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکا اور اس کی طرف مڑا۔ “اوئے پوری بات تو سنو اگلی بات سنو گی تو فخر ہو گا کہ تمہیں ایسا شوہر ملا ہے۔” ماہ پارہ سر جھکائے رو رہی تھی۔ حسن نے اسے دیکھا تو ٹشو باکس سے ایک ٹشو نکال کر اس کے حوالے کیا۔
“آپ کہتے جائیں۔” ٹشو سے ناک پونچھتے ہوئے اس نے اپنا چہرہ کھڑکی کی طرف موڑ لیا۔
“رونا مت۔” تنبیہ کرتے ہوئے اس نے گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کیا۔ “تو سنو۔ پھر جب وہ باہر آئیں تو ان کے چہرے پر اطمینان بھری خوشی تھیں۔ جہانگیر بھائی نے کچھ نہیں کہا، وہ سیدھا کمرے میں گئے تھے۔ بابا تو خوش ہوئے تھے، انہیں لگا بھائی مان گئے ۔لیکن …لیکن …لیکن…” وہ اب پرجوش سا کہنے لگا۔ “زائشہ آکر خود کہتی ہیں کہ انہیں جہانگیر سے شادی نہیں کرنی۔ وہ اسے چھوڑ چکی ہے اور تو اور وہ اب اس کے پیچھے بھی نہیں پڑے گی۔” ماہ پارہ ناک سکوڑ کر ہلکا سا مسکرائی۔
“تو پھر آپ کا پاسپورٹ ۔۔۔”
“بابا نے دے دیے تھے ڈاکومنٹس۔ جہانگیر بھائی نے میری ذمہ داری لی ۔ پھر مجھے ایک سال کے اندر اندر مصر بھیج دیا۔ وہ تنہا ہو گئے تھے۔ تم اور میں ان کے بہت قریب ہو گئے تھے۔ میں تو شروع سے تھا۔ ان کی طبعیت آئے دن خراب رہتی تھی۔ نہ کسی سے بات کرتے تھے نہ گاؤں کے کسی مسئلے پر پڑتے۔ تمہارے جانے کے بعد نا جانے کتنی لڑکیوں کی چھوٹی عمر میں شادی ہو گئی لیکن انہوں نے کسی بھی شادی میں مداخلت نہیں کی۔ ان کو پتہ تھا وہ کچھ کر بیٹھ جائیں گے۔” ایک پل کو وہ رکا۔ گہری سانس لے کر دوبارہ گویا ہوا۔ “میں نے ان کی منتیں کی کہ وہ مصر آئے لیکن ان کا بس ایک ہی مقصد تھا تمہارے دیگر خواہشات کو پورا کرنا۔ بہت بہت محنت کرنی پڑی۔ بہت خوار ہوئے تب جا کر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔”
“حسن بھائی۔” ماہ پارہ نے بے اختیار اس کو پکارا۔ حسن نے ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر اپنی نظریں سڑک کی طرف موڑ دیں۔ وہ سمجھ گیا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔
“میں نے کہا تھا بھائی سے لیکن ۔۔۔”
“آپ انہیں علم میں لائے بغیر یہ کر سکتے ہیں۔” وہ امید سے کہہ رہی تھی۔
حسن جواب میں خاموش رہا۔ ماہ پارہ اس کی خاموشی کو سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ ہاں سمجھے یا نہ۔ حسن سنجیدہ ہو گیا تھا۔ وہ اس بارے میں سوچنے لگا۔ کیا کچھ جہانگیر نے نہیں کیا تھا اس کے لیے؟ کیا وہ آج اپنے بھائی کے لیے ڈونر بھی نہیں بن سکتا؟ وہ لب وہ میرا بھائی ہے۔”
ماہ پارہ کچھ دیر تک سوچتی رہی۔ “تھیک ہے جلد از جلد ہمیں سرجری شروع کرنا چاہیے۔” یہ کہتے ہوئے اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
وہ پورے راستے جہانگیر کی باتیں کرتا گیا اور ماہ پارہ رشک سے سنتی گئی۔ اسے فخر ہونے لگا تھا جہانگیر پر۔ گھر پہنچتے ہی حسن نے اسے پانی پلایا۔ پانی پی کر وہ جہانگیر کے کمرے میں گئی اور سیدھی سو گئی۔وہ بہت تھک چکی تھی صبح ہونے میں کچھ ہی وقت باقی تھا
اور اسے جلدی اٹھ کر جہانگیر کے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔
Tap below :














