Novel name_ Tumhari Rahe talab mai” published in Hina digest March_ May 2012
Writer_ Huma Amir
Epi_1_3___ complete
Forced marriage + After marriage beautiful family story hai check
Hero Zakhrif aur heroine Maheena dono apas mai czns hainhero bazahir to heroin se bht chirta hai pr dil hi dil mai heroin se bht pyar krta hai
Hero ki bhn heroin Maheena k bhai se engaged hoti jo apnay university fellow ko pasand krti hai wo fiance ko engagement khtm krny pr force krti jis pr dono families mai narzgi hojati.
Hero Zakhrif proposal baijta hai jise heroin ki family reject krdeti tb wo heroin ki family ko blackmail kr ke heroin se zabrdusti shadi krta haiAgay kia hota read kren achi story chalti hai
Happy ending hai ♥️♥️
مختصر کہانی / خلاصہ
تمہاری راہِ طلب ایک ایسی کہانی ہے جو محبت کے سفر میں آنے والی آزمائشوں اور خود سپردگی کے مرحلوں کو بیان کرتی ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار ایک حساس مگر باوقار لڑکی ہے، جو زندگی کو اپنے اصولوں اور خوابوں کے ساتھ جینا چاہتی ہے۔ اس کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوتی ہے جو بظاہر مضبوط، سنجیدہ اور زندگی کے تلخ تجربات سے گزرا ہوا ہے۔
ان دونوں کے درمیان پیدا ہونے والا رشتہ صرف جذبات کا نہیں بلکہ اعتماد، صبر اور انتظار کا امتحان بن جاتا ہے۔ سماجی بندشیں، غلط فہمیاں اور انا کی دیواریں ان کے راستے میں حائل رہتی ہیں۔ کئی مواقع پر محبت قربانی مانگتی ہے اور کئی بار خاموشی سب سے بڑا فیصلہ بن جاتی ہے۔
کہانی کا حسن اس بات میں ہے کہ یہاں محبت فوراً منزل نہیں بنتی بلکہ راہِ طلب بن جاتی ہے—ایک ایسا راستہ جہاں انسان خود کو پہچانتا ہے، اپنے غرور کو چھوڑتا ہے اور سیکھتا ہے کہ سچی محبت صرف حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ نبھانے کا ہنر ہے۔
آخرکار یہ ناول یہ پیغام دیتا ہے کہ جو رشتے آزمائشوں میں ثابت قدم رہیں، وہی حقیقی ہوتے ہیں، اور جو محبت صبر کے مرحلے سے گزر جائے، وہی زندگی کو معنی دیتی ہے۔
SneakPeak
مولانا صاحب ! نکاح پڑھائیے ۔ کہتا ہوا وہ خود بھی ایک خالی صوفے پر جا بیٹھا ، اب تو ماہینہ رونے کو تھی ۔
مجھے اتا تھا کہ تمہیں دیکھ کر میں خود پر اختیار کھونے لگتا ہوں ، سو میں تم سے بیزار لگتا نظر آنے لگا، تمہیں ڈانٹ ڈ پٹا تا کہ تم میرے سامنے نہ آؤ لیکن اس دن جب تم سوئمنگ پول میں گر گئیں تھیں ، اس دن مجھ پر ادراک ہوا کہ اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میری سانسیں بھی تھم سکتی تھیں ، یہ تصور ہی سوہان روح تھا ، پھر یہ خیال کہ تم کسی دوسرے شخص کے نام ہو جاؤ تو میں کیسے رہ پاؤں گا ، بہت دنوں تک میں اپنے آپ سے الجھتا رہا، پھر یہ طے پایا کہ میں ماہینہ کے بغیر نہیں رہ سکتا ، مجھے اسے اپنانا ہے ، پھر بعد کا قصہ تو تم جانتی ہو، دونوں فیملیز ایک دوسرے سے بدگمان ہو گئیں ، مام کو صد ہو گئی تھی ، تو میں بھی ان کا ہی بیٹا ہوں ، امو جان سے ، با با جان سے بات کی سب بے سود رہا، کسی نے بھی میرا ساتھ دینے کی حامی نہیں بھری ، تب مجبوراً مجھے کارنامہ سر انجام دینا پڑا ۔ وہ شرارت سے کہتے ہوئے اس کی ہتھیلی کی پشت کو لبوں سے چھو چکا تھا ، ماہی نے جھٹکے سے اپنی ہتھیلی اس کی گرفت سے چھڑائی ۔
ارے ارے ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیا ابھی تو میں نے کچھ بھی نہیں کیا ۔ وہ کر رہا۔ ” مجھے پڑھنا ہے ۔ ” وہ بھاری لباس سنبھالتی ہوئی بیڈ سے نیچے اتر آئی تو وہ بھی ماحول کے فسوں سے آزاد ہو گیا ۔













