Gunehgar Farishty Written by Sidra Tul Muntaha
Gunehgar Farishty, a poignant tale penned by Sidra Tul Muntaha, delves into the realms of Islamic values, interwoven with pressing social issues and the unparalleled depth of a mother’s love. This short Afsana-style narrative encapsulates significant themes within its concise form, offering a glimpse into the complexities of faith, societal challenges, and the enduring bond between a mother and her child. The story, categorized as both Islamic and addressing social issues, further emphasizes the maternal affection at its heart, making it a multifaceted exploration of life’s trials and tribulations. Sidra Tul Muntaha masterfully crafts this Afsana to resonate with readers, leaving a lasting impression through its compact yet profound storytelling.
Genre: Islamic, Social Issue, Mother Love
Short Afsana type
SneakPeak
پیر صاحب! میرا بیٹا بہت بیمار ہے، سب کہتے ہیں اسے دم درود کی ضرورت ہے، آپ بہت پہنچے ہوئے پیر ہیں، مہربانی کر کے میرے بیٹے کو دم کردیں، اللّٰہ آپ کو خوش رکھے گا، مجھ مجبور کی مدد کردیں۔” وہ روتے ہوئے ان کے قدموں میں بیٹھی گڑگڑا رہی تھی۔مولوی صاحب نے اسے ایک ناگوار نظر سے دیکھا اور بولے:
دیکھ بی بی یوں تمہارے رونے سے کچھ نہیں ہوگا، تم جیسے لوگوں کا کام اس لیے کوئی پیر نہیں کرتا کیونکہ تم لوگوں کے پاس ان کو دینے کے لیے ہے ہی کیا، اس لیے جاؤ یہاں سے، بنا پیسے کے تو ڈاکٹر بھی نہیں سنتے اور تم لوگ آجاتے ہو اللّٰہ کے نام پر کام کروانے۔” وہ گردن اکڑائے بول رہے تھے۔”پیر صاحب میں نے سنا تھا آپ۔ غریبوں سے کچھ نہیں لیتے، آپ خدا ترس انسان ہیں۔” وہ عورت روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔”خدا ترس ہوں۔۔۔۔، مگر اتنا نہیں کہ یوں ہر کسی کا کام مفت میں کرتا رہوں، اگر سب کو مفت میں دم کروں گا تو میں خود کیا کماؤں گا؟؟؟” وہ طنزیہ انداز میں بولے۔”پیر صاحب میری دعائیں ہوں گی، اللّٰہ نے آپ کو اتنا کچھ دیا ہے، یہ محل نما بڑا گھر، میری دعا سے آپ کو اللّٰہ اور بھی بہت دیں گے۔” وہ نم پلکوں سے کہہ رہی تھی۔
Click below on three dots to download NOVEL












