Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Qatil ka Badla Written by Binte Fahim - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Web Novels

Qatil ka Badla Written by Binte Fahim

Email :619

Novel name: Qatil ka Badla

Writer name: Binte Fahim

Genre: Thriller, Mystery, Suspense, Family drama, Revenge Short summary: A story of a 20 years old turkish girl, who’s mother died when she was only one…..She always crave for her brother’s love, and then she was aware of bitter truth that changed her whole life and perspective of judging people
Writer insta id: @psycho_writer95

SneakPeak

“تو کیا تم واقعی ترکی چلی جاؤ گی؟ اور پھر کبھی واپس پاکستان نہیں آؤ گی؟” عنابیہ نے دھیرے سے پوچھا۔

لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ اس نے چونک کر برابر میں دیکھا ۔۔۔ وہاں ایلول موجود نہیں تھی۔

عنابیہ نے ذرا بلند آواز میں پکارا،”ایلول”

پیچھے سے پرسکون سی آواز آئی،

“ہمم… میں یہیں ہوں، جوتے کی لیس کھل گئی تھی۔”

عنابیہ نے پلٹ کر دیکھا تو ایلول جھک کر اپنے جوتے کی لیس باندھ رہی تھی۔ وہ سیدھی ہوئی تو اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔

“ویسے تو میں اب ترکی میں ہی رہوں گی،” اس نے نرمی سے کہا، “لیکن کبھی کبھی تم لوگوں سے ملنے آتی رہوں گی۔”

اس نے اپنے کپڑوں پر لگی گرد جھاڑی اور عنابیہ کی طرف متوجہ ہوئی۔

“پھر اپنا نمبر دے دینا تاکہ تم سے بات ہوتی رہے، اور… تمہارا بہت شکریہ۔ پیپرز میں تم نے میری بہت مدد کی۔” عنابیہ نے دل سے کہا۔

ایلول ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی،

“یہ تو میرا فرض تھا۔”

اس نے بستے سے ایک کاپی نکالی، اس کے صفحے پر اپنے بابا کا فون نمبر لکھا، اور عنابیہ کی طرف بڑھا دیا۔

دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، پھر دھیرے دھیرے امتحانی سینٹر کے گیٹ سے باہر نکل آئیں۔

نکسر کالج میں ان دونوں کی دوستی ہوئی تھی۔ آج ان کا اے لیول کا آخری پیپر تھا — اور شاید آخری ملاقات بھی۔

ایلول کے دل میں ایک عجیب سی اداسی چھائی ہوئی تھی۔ آج وہ ہمیشہ کے لیے ترکی جا رہی تھی۔

اس کا خاندان وہیں رہتا تھا۔ وہ یہاں اکیلی تھی ۔۔۔کبھی کبھار اس کے چچا سارکان یلدیرم اور چاچی خدیجہ اس سے ملنے آ جاتے تھے، لیکن اب وہ بڑی ہو چکی تھی، سب کچھ خود سنبھالنے کی عادی۔

جب وہ صرف ایک سال کی تھی، تو ایک حادثے میں اس کی امی کا انتقال ہو گیا تھا۔ بابا کاروباری مصروفیات کے باعث ترکی چلے گئے، اور ایلول کو یہاں چھوڑ گئے۔ اب برسوں بعد، وہ واپس جا رہی تھی اپنے ملک، اپنے خاندان، اور شاید اپنی نئی زندگی کی طرف۔

PART 1-4

Click below 👇

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts