Novel name: Qatil ka Badla
Writer name: Binte Fahim

SneakPeak
“تو کیا تم واقعی ترکی چلی جاؤ گی؟ اور پھر کبھی واپس پاکستان نہیں آؤ گی؟” عنابیہ نے دھیرے سے پوچھا۔
لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ اس نے چونک کر برابر میں دیکھا ۔۔۔ وہاں ایلول موجود نہیں تھی۔
عنابیہ نے ذرا بلند آواز میں پکارا،”ایلول”
پیچھے سے پرسکون سی آواز آئی،
“ہمم… میں یہیں ہوں، جوتے کی لیس کھل گئی تھی۔”
عنابیہ نے پلٹ کر دیکھا تو ایلول جھک کر اپنے جوتے کی لیس باندھ رہی تھی۔ وہ سیدھی ہوئی تو اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
“ویسے تو میں اب ترکی میں ہی رہوں گی،” اس نے نرمی سے کہا، “لیکن کبھی کبھی تم لوگوں سے ملنے آتی رہوں گی۔”
اس نے اپنے کپڑوں پر لگی گرد جھاڑی اور عنابیہ کی طرف متوجہ ہوئی۔
“پھر اپنا نمبر دے دینا تاکہ تم سے بات ہوتی رہے، اور… تمہارا بہت شکریہ۔ پیپرز میں تم نے میری بہت مدد کی۔” عنابیہ نے دل سے کہا۔
ایلول ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی،
“یہ تو میرا فرض تھا۔”
اس نے بستے سے ایک کاپی نکالی، اس کے صفحے پر اپنے بابا کا فون نمبر لکھا، اور عنابیہ کی طرف بڑھا دیا۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، پھر دھیرے دھیرے امتحانی سینٹر کے گیٹ سے باہر نکل آئیں۔
نکسر کالج میں ان دونوں کی دوستی ہوئی تھی۔ آج ان کا اے لیول کا آخری پیپر تھا — اور شاید آخری ملاقات بھی۔
ایلول کے دل میں ایک عجیب سی اداسی چھائی ہوئی تھی۔ آج وہ ہمیشہ کے لیے ترکی جا رہی تھی۔
اس کا خاندان وہیں رہتا تھا۔ وہ یہاں اکیلی تھی ۔۔۔کبھی کبھار اس کے چچا سارکان یلدیرم اور چاچی خدیجہ اس سے ملنے آ جاتے تھے، لیکن اب وہ بڑی ہو چکی تھی، سب کچھ خود سنبھالنے کی عادی۔
جب وہ صرف ایک سال کی تھی، تو ایک حادثے میں اس کی امی کا انتقال ہو گیا تھا۔ بابا کاروباری مصروفیات کے باعث ترکی چلے گئے، اور ایلول کو یہاں چھوڑ گئے۔ اب برسوں بعد، وہ واپس جا رہی تھی اپنے ملک، اپنے خاندان، اور شاید اپنی نئی زندگی کی طرف۔











