SneakPeak
بد دماغ سے بات ہی کیوں کرتے ہو تم ؟ سائیکل پر بیٹھتے ہوئے اس نے غصے سے کہا۔
میں نے تمہیں، میرے دماغ نے اسے ناراض کر دیا تھا لیکن کوئی بات نہیں۔ میں اسے منا لوں گا۔
تم تیسرے نمبر پر آئی ہو۔ مبارک ہو لیکن اس
دن تو تم ایسے سائیکل چلا رہی تھیں جیسے دنیا میں تم سے کوئی بیت ہی نہیں سکتا اب تم خود دو سے ہار گئیں ۔ میں اسے مبارک باد دینے اس کے پاس آیا۔ اس بار سائیکل سے ذرا ہٹ کر کھڑا ہوا تھا۔
ہو؟ ” تم مبارک باد دے رہے ہو یا طتر کر رہے
میرا دماغ کیا کہتا ہے۔ میں نے انگلی سے اپنے سر کو ٹھو کا اور مسکرایا۔
شکریہ حیرت انگیز طور پر وہ بھی مسکرادی۔ یہ یہ پہلاش پہلا شریفانہ لفظ تھا جو اس کے منہ سے نکلا تھا۔
تم شکر یہ کہہ رہی ہو، مجھے؟ کیوں؟“ میں اس کی شرافت سہہ نہیں پایا۔
کیونکہ تم واقعی مجھے ڈھونڈ رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر تمہیں خوشی ہوئی ہے۔“ اس نے معصومیت سے کہا۔
تو میں تمہارا دشمن تھوڑی ہوں۔ اچھا چلو کافی ہیں، پیسے میں دوں گا۔ میں نے اس کا میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ دوبارہ پھر سے گم ہو جائے۔
میرا ہاتھ چھوڑو۔“
چھوڑ دوں گا لیکن وعدہ کر تم پھر سے غائب نہیں ہوگی۔“
ہو بھی سکتی ہوں ۔ تمہیں اس سے کیا ۔ اس نے سائیکل کو اسٹینڈ پر کھڑا کیا۔
تم مجھ سے دوستی نہیں کر سکتیں ؟“
Click on three dots to download the novel













