Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Mere Dard Ko Jo Zuban Mile By Syeda Sadaf - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Web Novels

Mere Dard Ko Jo Zuban Mile By Syeda Sadaf

Email :1618

 

Book Name: Mere Dard Ko Jo Zuban Mile Novel

Writer: Syeda Sadaf

Description:

Syeda Sadaf is the author of the book Mere Dard Ko Jo Zuban Mile Novel PDF. It is a famous social, romantic story published recently in episode format. People liked this story mostly. The author discussed multiple issues in the book but mainly focused on her human feelings. She prioritized love in a person’s life in the book Mere Dard Ko Jo Zuban Mile Novel.

She is a new female story writer and famous Urdu novelist. She worked low but quality work. In her brilliant writing career, she produced some super-hit books quickly. This book is also excellent writing by Syeda Sadaf. I hope you like the book Mere Dard Ko Jo Zuban Mile Novel PDF like the other Syeda Sadaf Novels and share it with your friends on social media sites.

 

 

SneakPeak 

” آپ مجھے اچھی لگتی ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ فیصل اور ثوبیہ کی شادی کے بعد ہماری بات بھی طے کر دی جائے ۔ آپ کو کوئی اعتراض؟ دیبہ نے ایک دم سر اٹھا کر یوسف کی طرف دیکھا اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یوسف اُس سے یہ سب کہہ رہا ہے۔ شک تو اُسے تھا لیکن اتنی جلدی اتنا اچانک وہ کہہ دے گا۔ اُسکی اُمید نہیں تھی دیبہ کو۔
دیبہ کی خاموشی پر یوسف کو پریشانی ہوئی۔ پھر اُسکے تاثرات دیکھ کر یوسف کو اندازہ ہوا کہ وہ شاک کے عالم میں ہے ۔ یوسف کچھ اور بھی اُس سے قریب ہوا۔ وہیبہ نے سر ایک دفعہ پھر سے جھکا لیا۔

وو میں چلتی ہوں ۔۔۔ دیبہ مڑی لیکن جا نہ سکی۔ کیوں کہ اُسکا ہاتھ یوسف کی گرفت میں یوسف کی گرفت میں آچکا تھا۔
” مجھے جواب دیئے بغیر نہیں جا سکتی ۔ یوسف نے دھونس جمائی ۔ اُس نے نرمی سے دیبہ کو اپنی طرف موڑا۔
تمہیں پہلی دفعہ دیکھتے ہی میرے دل نے فیصلہ کر لیا تھا کہ تم ہی وہ لڑکی ہو جسے میرا دل ہمیشہ کے لیے اپنا ساتھ بنانا چاہتا ہے۔ مجھے پہلی نظر میں ہی تم سے محبت ہو گئی تھی ۔ دیبہ کا سر جھکا ہوا تھا اور دونوں ہاتھ یوسف کی گرفت میں تھے۔ شرم کے مارے اسکے گال سرخ ہو گئے تھے اور دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ جیسے سینہ تو ڑ کر باہر آجائے گا۔
میں نے فیصل سے بات کر لی ہے اور اُس نے یقینا ابھی تک امی سے بات کر لی ہوگی۔ لیکن میں پہلے تمہاری رائے جاننا چاہتا ہوں ۔ یوسف کے لہجے میں سنجید گی تھی۔ دیبہ خاموش رہی۔
دیبہ پلیز مجھے بتاؤ۔ تمہاری خاموشی سے میرے دل کو تکلیف ہو رہی ہے ۔ اگر میری امی رشتہ لے کر آئیں تو تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا ۔ یوسف کے لہجے سے بے چینی ٹپک رہی تھی۔
دیبہ سے سر نہیں اٹھایا گیا۔ اُس نے جھکے سر کے ساتھ نفی میں گردن ہلائی۔ یوسف اُسکے چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ دیکھ چکا تھا۔ -اس سے زیادہ وہ یوسف کی قربت میں نہیں کھڑی ہو سکتی تھی۔ اُس نے اپنے ہاتھ چھڑوائے اور تیزی سے ڈرائنگ روم سے نکل گئی ۔
یوسف کو اپنا آپ ہواؤں میں اُڑتا ہوا محسوس ہوا۔ ایسے لگا جیسے کل کائنات کے خزانے اُسے مل گئے ہوں۔ اُسکے چہرے کی مسکراہٹ دل کا حال عیاں کر رہی تھی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts