Notable Novels by Uzma Zia
-
Mohabbat Bheek Hai Shayad: This novel explores themes of love and emotional struggles, capturing the essence of romantic relationships.2
-
Khoobsurat Mazaq: A story centered around friendship and the complexities of relationships, showcasing Uzma Zia’s unique storytelling style.2
-
Mohabbat Dua Hai: This novel is divided into seasons, with each part delving into different aspects of love and hope.1
-
Number One Kon: A revenge-based narrative that adds a thrilling twist to her collection.1
-
Yaaden Chand Lamhon Ki: This novel focuses on the journey of a self-reliant woman, highlighting her struggles and triumphs.
Writing Style and Themes
Uzma Zia continues to be an influential figure in Urdu literature, and her novels are cherished by fans for their heartfelt narratives and engaging storytelling.
Summary of MUHABBAT DUA HA Written by UZMA ZIA
The novel “Muhabbat Dua Hai” by Uzma Zia is a romantic story that explores the theme of love, emotions, relationships, and the power of prayers. It delves into the complexities of romantic relationships, family ties, misunderstandings, sacrifices, and hope. The novel is praised for its emotional depth and the way it connects with readers, making them feel every scene. It teaches valuable lessons about faith, patience, and trust in Allah, emphasizing that true love is a prayer for the happiness of the other person. The story is a beautiful and heart-touching narrative that resonates with many Urdu novel lovers
Introduction of Uzma Zia (Urdu Writer)
Uzma Zia is a contemporary Urdu writer known for her meaningful and thought-provoking literary work. She has contributed to Urdu literature through short stories, essays, and columns. Her writings mainly focus on social issues, human emotions, and the realities of everyday life, especially highlighting the experiences and struggles of women in society.
Uzma Zia’s writing style is simple, fluent, and emotionally engaging. She presents ordinary characters and common situations in a realistic manner, which allows readers to easily connect with her work. Through symbolism and deep observation, she raises important social questions and encourages readers to reflect on moral and social values.
As a writer, Uzma Zia holds a respected place in modern Urdu literature. Her work not only entertains readers but also creates awareness about social problems and human relationships. She is appreciated for her sensitivity, clarity of expression, and commitment to meaningful literature.
Sneakpeak
”دیکھو مہر۔۔میری بات کو سمجھو۔۔ میں تمہارا برا نہیں چاہتا۔۔تو سوچو۔میں کیسے تمہارے ساتھ برا کر سکتا ہوں؟؟ کل مہندی ہے اور پرسوں بارات۔۔ ہمارے پاس سوچنے کے لیئے زیادہ وقت نہیں ہے۔۔ مجھے میری امی کی قسم۔۔تمہاری عزت پہ حرف آنے سے پہلے میں اپنی جان دے دوں گا۔۔ ٹرسٹ می۔۔“ اس نے فوراََ ایک تفصیلی میسج ٹائپ کیا اور اسے بھیج دیا۔
شش و پنج کی گرہ مضبوط سے مضبوط ہوتی گئی اور اسکے لیئے فیصلہ لینا انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔ مگر اگلے ہی لمحے اسکے اندر کے انسان نے اسے جنجھوڑا۔
”جب وہ ساتھ ہے تو ڈر کس بات کا ہے تمہیں؟؟ تمہارے پاس سوچنے کے لیئے زیادہ وقت ہے ہی نہیں مہر۔۔ تو سوچ کیا رہی ہو؟ کیا شادی کر لو گی اس سے؟؟ کیا کر لو گی اس کے ساتھ گزارا؟؟“
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
”کل کو پچھتانے سے بہتر ہے میں اسکی بات ہی مان لوں۔۔“ مگر اگلے ہی لمحے اس نے خود کو ہمت دی اور پوری طاقت سے اپنی جگہ سے ہلی۔
”میں آرہی ہوں۔۔“ اس نے اسے مختصر سا میسج بھیجا اور اپنے بیگ میں چیزیں رکھنے لگی۔میسج دیکھتے ہی اسکے چہرے پہ خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑی۔
SneakPeak
گھر کے تمام افراد بڑ ی شدت سے اسکا انتظار کررہے تھے ۔ایک عرصے بعد زیبا کی آنکھوں میں خوشی جگمگائی تھی ۔لیکن اسکے برعکس سامعیہ کا ر وروکر براحال ہو چکا تھا۔ “کسی بھی لمحے اسے مار دیا جائے گا۔۔” وہ اپنے ہی دل میں اٹھنے والے وسوسوں سے خوفزدہ ہوکر رہ گئی ۔
“یا اللہ!” وہ جائے نماز پہ بیٹھی دوبارہ سے دعا میں مشغول تھی کہ کسی لمحے اسکے دل کو قرار آجائے ۔لیکن آج اسکا دل بھی اسے اس بات کا یقین دلارہا تھا کہ شاید وہ آج بچ نہ پائے۔ ندیم احمد نے زبان دی تھی ۔یہ کوئی عام بات نہیں تھی ۔
وہ اپنے دونوں ہاتھ ،اپنے منہ پہ رکھے بلک بلک کر رورہی تھی کہ اسی اثناء میں کمرے کا دروازہ ٹھک سے کھُلا۔کہ وہ گھبرا گئی۔ اس نے جوں ہی اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹائے تو اسے وہ اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آئے ۔
“سامعیہ۔۔۔” وہ اپنے دونوں ہاتھ اسکے سامنے جوڑے سر جھکا کر بیٹھے تھے ۔
آخر وہ بھی اسکا باپ تھا۔بھلے ہی انہوں نے اسے مارنے کا وعدہ نعیم صاحب کو دیا تھا لیکن ایسا سوچتے بھی تو انکا دل کانپ اٹھتا اور جسم خوف سے لرز اٹھتا۔
“اللہ کا واسطہ آپکو۔۔۔میرے بیٹے کو اس شہر سے کہیں اور بھیج دیں۔۔۔اسے بھلے کچھ نہ دیں۔۔لیکن اسکی جان بخش دیں۔۔۔اسکی جان بخش دیں۔۔۔” وہ اپنے دونوں ہاتھ انکے سامنے جوڑ کر بولی ۔
“میں نے آج تک آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگا۔۔۔لیکن آج مانگ رہی ہوں۔۔۔میرے بیٹے کی زندگی لوٹادیجیئے۔۔۔۔ اسے معاف کردیں۔۔” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔
“سامعیہ میں مجبور ہوں۔۔” ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ انکی آواز ،اسکی آواز سے مدھم پڑ گئی ۔ “میں زبان دے چکا ہوں۔۔۔” انکی زبان لڑکھڑانے لگی ۔
باہر سے آنے والے شور سے دونوں ہل کر رہ گئے ۔
“اسے کہو وہیں رک جائے ۔۔اس گھر کی دہلیز پار نہ کرے ۔۔۔” اس سے پہلے کہ شا ہ ویز اور مہر گھر کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ،انکی گونج دار آواز سے، وہیں کے وہیں رُک گئے ۔
کانپتے ہوئے اس نے اپنی ڈگری کی فائل کو اپنے سینے سے ذرا مضبوطی سے لگایا۔
“تمہیں کیا لگا تم ہماری بچی پہ الزام لگاؤ گے اور ہمیں کچھ پتہ نہیں چلے گا؟؟” انہوں نے ذرا للکار کر کہا۔
مہر نے یکدم نگاہیں اٹھا کر شماز کو معنی خیز انداز میں دیکھاتو وہ نظریں جھکا کر رہ گیا۔
زیبا کی آنکھیں بے تابی سے اسکا انتظار کررہی تھیں۔ اسے دیکھتے ہی وہ دیوانہ وار اسکی طرف لپکیں۔ اسکا ماتھا اور رخسار چوم کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔
“میری بچی۔۔۔ کیسی ہو تم ؟ تم ٹھیک تو ہونا۔۔۔ ” اس نے اسکے بازوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
“میں ٹھیک ہوں ۔۔لیکن۔۔۔لیکن یہ سب کیا ہے ؟؟” وہ ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں پارہی تھی ۔تبھی نعیم صاحب بولے۔
“مہر۔۔۔اندر آؤ تم۔۔۔ اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں تمہیں۔۔۔” انہوں نے نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے ذرا تحکم سے کہا مگر وہ وہیں کی و ہیں کھڑی رہی ۔
“کس سے ؟؟کس سے ڈرنے کی ؟؟” اسکی آنکھیں پھیل سی گئیں مگر پھر ان کی نظروں کا جواب خود سے اخذ کرتے ہوئے سوالیہ بولی ۔ “اس سے ؟؟اپنے شوہر سے ؟؟” اب کے اس نے اسکا بازو مضبوطی سے تھاما۔
گھر کے تمام افراد نے اسکے یہ الفاظ سنے ہی تھے کہ حیرت کے مارے انکا منہ کھُلا کا کھُلا رہ گیا۔
ایمل اور سدرہ کے چہرے پہ طمانیت کی لہر دوڑی ۔ ورنہ پچھلے بارہ گھنٹوں سے انکا اس خوف سے سانس لینا محال تھا کہ انکا بھائی انکے چچا کے انصاف کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔انہیں خوشی تھی کہ اسکے
حق میں بولنے والا کوئی تو ہے۔
“دیکھیں ۔۔۔آپکو اللہ کا واسطہ۔۔۔اللہ کا واسطہ آپکو۔۔۔آپ رُک جائیں۔۔۔” دوسری طرف وہ انہیں روکنے کی کوشش میں انکی منت سماجت کررہی تھی ۔ وہ کپ بورڈ کے ہر دراز میں کچھ تلاش کررہے تھے ۔مگر انہیں کہیں سے بھی اپنا ریوالور نہ ملا۔
“نہیں ہے یہ تمہارا شوہر۔۔۔ اس گھٹیا انسان کی اصلیت کھُل چکی ہے ہمارے سامنے ۔۔اب تمہیں اس سے ۔۔۔” وہ دانت پیستے ہوئے انتہائی اونچی آواز میں بولے ۔
“بس۔۔۔بہت ہو گیا۔۔۔ میرے شوہر کے بارے میں کوئی بھی برا بھلا کہے یہ مجھے گوارا نہیں۔۔۔ چاہے وہ میرا باپ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔” اس نے بھی انہی کی انداز میں جواب دیا ۔
اسکی دیدہ دلیری دیکھ کر سب ہی دنگ تھے ۔ علینہ کا جی چاہا کہ وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر فوراََ اسے گھر میں لے آئے لیکن اسے یوں شا ہ ویز کی حمایت کرتا دیکھ کر اسکے دل میں شا ہ ویز کے بچاؤ کی امید
جاگی ۔
“مہر۔۔۔۔” آخر شا ہ ویز نے بولنا چاہا لیکن اس نے اسے بات کرنے کا موقع ہی نہ دیا۔
“اور میں اس کے ساتھ کوئی بھاگ کر نہیں تھی گئی ۔۔۔یہ چادر۔۔اس چادر کو اوڑھ کر مجھے رخصت کرنے والے آپ لوگ ہی تھے ۔۔کیا سمجھتے ہیں آپ لوگ؟ کیا سمجھتے ہیں خود کو؟؟ بولیئے ؟؟ زمین کے خدا ہیں آپ ؟؟؟” وہ چیخ چیخ کر بولی تو شماز نے اسے ڈانٹا۔
” تمیز بھول چکی ہو تم۔۔۔ابا ہیں تمہارے۔۔۔کس لہجے میں بات کررہی ہو ان سے ۔۔۔” قریب تھا کہ وہ ایک دو تھپڑ بھی اسکے منہ پہ جھڑ دیتا لیکن وہ جس حوصلے کے ساتھ ان سب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بات کررہی تھی ،وہ ایسا کچھ کرنے کی جسارت نہ کر پایا۔
“آپ تو مجھ سے بات ہی نہ کریں۔۔۔ کہاں تھی آپ سب لوگوں کی غیرت ؟جب آپکی بہن۔۔۔اور آپکی بیٹی ۔۔چیخ چیخ کر آپ سے کہتی رہی کہ میں بے قصور ہوں۔۔۔میں بے گناہ ہوں۔۔تب تو کسی نے میری بات کا یقین نہیں کیا۔۔۔اور اب جب ۔۔۔” وہ سسکی بھر کر بولی ۔ رو رو کر اسکا برا حال ہو چکا تھا لیکن پھر بھی وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھی ۔
“مہر۔۔۔میری بیٹی ۔۔۔مجھے معاف کردو۔۔آج تو تمہارے لیئے بہت بڑا دن ہے ناں۔۔ ڈگری لے کر آئی ہو۔۔۔” انکی نظرٰاسکے ہاتھ میں موجود فائل پہ پڑی ۔
“اس ڈگری کی کوئی وقعت نہیں ہے پاپا۔۔ میری ڈگری تو آپ مجھ سے چھیننا چاہتے ہیں۔۔” وہ انتہائی کرب سے بولی ۔
اسکو یو ں اپنا ساتھ دیتا دیکھ کر شا ہ ویز اندر ہی اندر شرم سے مر رہا تھا۔ یہی وہ لڑکی تھی ،جس کو اس نے سب کی نظروں میں گرادیا تھا۔
“تم اس کا ساتھ دے رہی ہو؟اسکا ؟؟ جس نے تم پہ الزام لگایاتھا؟ اور ہمیں بہکایا۔۔۔۔”
“اور آپ بہک گئے ؟؟” اس نے تیزی سے ان کی بات کاٹی ۔ “آپ تو میرے ابا ہیں ناں۔۔کیسے بہک سکتے ہیں آپ ؟؟ کیسے ؟ میں چیختی رہی ،چلاتی رہی کہ میں بے قصور ہوں لیکن۔۔۔” اسکی آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر سے وہی منظر آگیا تھا۔
“مہر۔۔میری بچی ۔۔ایک بار میرے سینے سے لگ جاؤ۔۔ایک بار۔۔۔” انکی ہمت بھی ٹوٹنے لگی تھی ۔ دروازے کی دوسری جانب ،گھر کے اندر وہ کھڑے ،اسکے اندر داخل ہونے کے انتظار میں تھے لیکن وہ اس گھر کی دہلیز سے ایک قدم بھی اپنے ہمسفر کے بناء پار نہیں کرسکتی تھی ۔ جہاں وہ اپنے اصولوں کی زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے ،تو وہاں وہ اپنے دل میں موجود اسکی محبت کی زنجیروں سے ۔۔
“مہر۔۔۔جاؤ۔۔۔” اس نے ذرا آہستگی سے کہاتو شماز نے اسے خوب گھورا۔
“اگر میرے شوہر کی آپکے گھر میں جگہ نہیں تو سمجھیئے میری بھی نہیں۔۔۔” اس نے ایک ہی جملے میں سارا خلاصہ کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کردیا۔
شا ہ ویز نے نظر بھر کر اسے دیکھا ۔اسکا اپنے لیئے پھر سے آواز اٹھانا دیکھ کر وہ ایک لمحے کے لیئے بوکھلا سا گیا۔مگر پھر تھوڑی سی ہمت کرتے ہوئے وہ بولا۔ “مہر۔۔۔پلیز۔۔۔تمہارے ابو ہیں یہ ۔۔تم ایسے۔۔۔”
“پلیز۔۔۔شا ہ ویز۔۔۔ پلیز۔۔۔ تم اگر میرا ساتھ نہیں دے سکتے تو نہ صحیح۔۔لیکن میں آج ان سب کو یہ بتا کر رہوں گی کہ یہ اماں بی کا فیصلہ ہے ۔۔۔اور اس فیصلے کو یہ لوگ بھی مان لیں تو بہتر ہوگا۔۔۔” اس نے تنبیہی انداز میں کہا۔
“لیکن جو اس نے کیا ہے اسکی معافی اسے کبھی نہیں ملے گی ۔۔” انہوں نے بڑے وثوق سے کہا اور ساتھ ہی ساتھ ندیم صاحب کو آواز لگائی ۔ “بھائی صاحب۔۔۔۔کہاں ہیں آپ ؟؟؟”
اندر وہ ابھی تک سامعیہ سے الجھ رہے تھے ۔ ” کہاں ہے میری ریوالور؟؟” وہ تقریباََ ہر جگہ چھان چکے تھے۔
وہ بے حسی سے انکا منہ دیکھنے لگی ۔رو رو کر اسکا
برا حال تھا۔ آخر انکا دھیان کوڑے کی ٹوکری کی طرف گیا۔
اس سے پہلے وہ ریوالور اٹھا کر باہر جاتے وہ انکے آگے آکھڑی ہوئیں۔ “سب سے پہلے مجھے مار دیجیئے۔۔۔میں اپنے بچے کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔” انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے انکے پاؤں کو پکڑ لیا اور بلک بلک کر رونے لگیں۔
آنسوؤں سے آنکھیں تو انکی بھی بھیگ چکی تھیں۔ لیکن وہ اپنے دیئے ہوئے قول کے خلاف نہیں جاسکتے تھے ۔ انہوں نے اسے اپنے ہاتھ سے پیچھے کیا اور باہر آموجود ہوئے ۔
بناء کچھ کہے وہ اپنے دائیں ہاتھ میں اپنی ریوالور لیئے اسکی جانب بڑھنے لگے۔
“ابا۔۔خدا کے لیئے ۔۔بھائی کو چھوڑ دیں۔۔۔ابا۔۔۔۔” ایمل اور سدرہ کی بلند ہوتی آوازوں نے اسے ساری کہانی سمجھادی ۔ خوف کے مارے اسکا بھی حلق خشک ہو گیا مگر پھر بھی وہ ہمت سے کام لے رہی تھی ۔
“شما ز بھائی مجھے جان سے مار دینا چاہتے ہیں۔۔۔” اسکے کہے الفاظ ،اسکے دماغ میں گونجنے لگے ۔ “شماز بھائی مجھے جان سے مار دینا چاہتے ہیں۔۔۔” اس نے نظر اٹھا کر شا ہ ویز کو دیکھا جو اس سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر اپنی سزا کے لیئے آگے بڑھا۔
“تو اس لیئے ۔۔اس لیئے آپ ہمیں یہاں لائے ہیں؟؟ مجھے اپنے ہاتھوں سے سرخ دوپٹہ اوڑھا کر اب بیوگی کی چادر مجھے اوڑھانا چاہتے ہیں ؟تو پہلے مجھے مار دیجیئے ۔۔اسے نہیں۔۔کیونکہ جرم تو میرا بھی وہی ہے ۔۔۔ بھاگی تو میں تھی ناں۔۔اس نے تو صرف میرا ساتھ دیا تھا۔۔۔” اس نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تو وہ شرمندگی کے مارے اس سے نظریں چرا نے لگا۔
“بھائی صاحب۔۔۔آپکو اللہ کا واسطہ ۔۔میرے بچے کو معاف کردیں۔۔۔” وہ نعیم صاحب کے پاؤں پکڑ کر بولیں۔
یہ مائیں ہی ہیں جو اپنی اولاد کے لیئے اپنی ذات تک کو مار دیتی ہیں۔۔
“امی ۔۔۔امی ۔۔۔اٹھیں۔۔۔” علینہ نے فوراََ سے آگے بڑھ کر انہیں اٹھایااور اپنے گلے سے لگایا۔
ایک ماہ میں ہی اسکا چہرہ اتر گیا تھا۔ شا ہ ویز،وہ شا ہ ویز نہیں رہا تھا جسے وہ جانتی تھیں۔ اسکے چہرے پہ موجود شرارت بھری مسکراہٹ ،جس سے وہ اپنی ماں کو تنگ کرتا تھا،وہ آج اس سے کوسو ں دور تھی ۔
“ابا۔۔مجھے مرنے کا خوف نہیں۔۔مجھے بس میری ماں کے سامنے گولی مت مارئیے گا۔۔۔” وہ اپنے دونوں ہاتھ انکے سامنے جوڑتا ہوا ذرا آہستگی سے بولا۔
وہ بھاگی بھاگی ا س تک آئیں ،جہاں وہ اپنے باپ کے سامنے مجرموں کی طرح ،اپنی سزا کے انتظار میں تھا۔
اس نے انہیں سینے سے لگایا اور زاروقطار رودیا۔ چا ہ کر بھی وہ انہیں تسلی کے چند الفاط تک نہ کہہ سکا۔ اس نے انکا ماتھا چوما اور خود سے دور کرتے ہوئے ندیم صاحب تک آیا۔
“آپکا مجرم آپکے سامنے ہے ۔۔۔” وہ گردن جھکا کر بولا۔
“شاہ ویز۔۔۔یہ ۔۔۔” وہ بھاگی بھاگی اس تک آئی ۔ “یہ کیا بول رہے ہو تم ؟ مجرم تو تم میرے تھے نا۔۔میں نے تو تمہیں معاف کردیا۔۔۔یہ لوگ کون ہوتے ہیں تمہیں سزا دینے والے؟؟” وہ اسکا بازو پکڑے ،اسے جنجھوڑ کر بولی ۔
اسکے منہ سے یہ الفاظ سن کر سامعیہ کے دل کو ذرا سکون ملا۔ وہ ابھی تک حیران تھی کہ یہ الفاظ اسکے منہ سے نکلے ہیں۔
“مہر۔۔۔ میں پہلے سے ہی ، اس سب کے لیئے خود کو تیار کر کے آیا ہوں۔۔یہی میری سزا ہے ۔۔ایک پاک دامن عورت پہ بہتان لگانے کی سزا۔۔ یہ تو پھر میری سزا میں نرمی برت رہے ہیں۔۔ورنہ میں تو خود کو اسّی کو ڑوں کے لیئے تیار کر کے آیا تھا۔۔”
اسکی بات سن کر وہ ہکا بکا رہ گئی ۔
“تایا ابا۔۔۔تایا ابا۔۔آپ ایسا نہیں کرسکتے ۔۔۔” وہ انکےسامنے،اسکے آگے آکھڑی ہوئی ۔
“تم نے تو مجھے کہا تھا کہ تم مجھے چھوڑو گے نہیں ؟؟؟” اس نے مڑ کر اسکے چہرے کی طرف نگاہ ڈالی ۔
اس نے اسکا ہاتھ پکڑا اور رودیا۔ اسکے آنسوؤں کے قطروں سے اسکا ہاتھ تر ہونے لگا تھا۔ “اپنی سانس اکھڑنے تک ،تمہارا ہاتھ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔”
اسکی کہی بات پہ سبھی رودئیے۔مگر انکے فیصلے میں کوئی کمی نہ آئی ۔ آخر اس نے اپنے سر کی چادر اتار کر انکے قدموں میں پھینک دی ۔
“آپکو اماں بی کی اس چادر کی قسم ۔۔۔۔”
اپنے قدموں تلے اپنی ماں کی چادر دیکھ کر انکا پورا وجود لرز کر رہ گیا۔
“ہمیں جانے دیں۔۔ہمیں جانے دیں۔۔ہم آپکو یہاں کبھی نظر نہیں آئیں گے ۔۔”
“مہر۔۔۔” شماز فوراََ سے اسکے قریب آیا۔ اسکے ننگے سر پہ اس نے فوراََ سے زمین سے اٹھائی چادر اوڑھائی اور اسے اپنے سینے سے لگایا۔
اسکی اپنے لیئے پیار کی شدت دیکھ کر شا ہ ویز رشکیہ انداز میں مسکرایا۔ مگر پھر اپنے آپکو انکے سامنے دوبارہ سے سرنڈر کر دیا۔
“اسے جانے دیں۔۔۔” اس سے پہلے وہ ٹریگر دباتے ،انہیں نعیم صاحب کی گھمبیر آواز سنائی دی ۔انہوں نے پیچھے مر کر انکی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
“ہماری بیٹی ،یہاں آگئی ہے ۔۔اب یہ جہاں مرضی جائے ۔۔۔جانے دیجیئے اسے۔۔۔” انہوں نے اسکے چہرے پہ حقارت آمیز نگاہ ڈالی ۔
“نہیں۔۔۔ہر گز نہیں۔۔میں مہر کے بغیر نہیں جا سکتا۔۔۔” اب کے اسکے منہ سے نکلی بات سب کو صاف سنائی دی تھی ۔
“ہم نے تمہیں اپنی بیٹی دی ۔۔اور اب تمہاری جان بخشش کے بدلے، ہم ہی تم سے اسےواپس لے رہے ہیں۔۔” انہوں نے اتنا کہا اور وہاں سے واپس ہولیئے۔
“نہیں ۔۔ہر گز نہیں۔۔۔ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔” وہ آگے بڑھی مگر وہ اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اپنے کمرے میں جاچکے تھے ۔
“تایا ابا۔۔یہ کیسا انصاف ہے ؟ آپ ہم دونوں کو مار دیجیئے۔۔۔لیکن ہمیں الگ مت کیجیئے۔۔۔” اس نے انکے ہاتھ میں موجود ریوالور کو اپنے سامنے کیا ۔
“مہر۔۔۔میرا ہاتھ چھوڑو۔۔۔مہر۔۔۔یہ کیا کررہی ہو تم ؟؟ ” اس نے انکا ہاتھ قدرے مضبوطی سے پکڑا اور انکی ریوالور کو اپنی پیشانی پہ اٹکاتے ہوئے ،اسکے ٹریگر پہ اپنا ہاتھ رکھا۔
انہوں نے اسکے ہاتھ سے اپنی ریوالور چھڑوانے کی بھرپور کوشش کی مگر بے سود۔۔سبھی آگے بڑھے مگر کچھ نہ کر پائے کہ اچانک زور زبردستی میں انکے ہاتھ سے ٹریگر کا بٹن دبا۔
“ٹھاہ۔۔۔” اس کی آواز پورے گھر میں گونجی تھی ۔ نعیم صاحب فوراََ سے باہر آئے ۔
پورے گھر میں قہرام برپا ہوا تھا۔
“مہر۔۔۔۔مہر۔۔۔۔۔” شا ہ ویز نے فوراََ سے اسے اپنی بازوؤں کے حصار میں لیا۔ وہ خون میں لت پت ہوچکی تھی ۔
“مہر۔۔۔اٹھو۔۔۔مہر۔۔میری بچی۔۔۔” انہوں نے اسکا گال تھپتھپایا مگر وہ اپنی اکھڑتی ہوئی سانسوں کے ساتھ بس اتنا ہی بول پائی ۔ “آپکا ہر حکم آنکھوں پہ ۔۔مگر میں اسکے بغیر اب زندہ نہیں رہ سکتی ۔۔۔” اسکی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ شا ہ ویز نے فوراََ سے اسے اٹھایا اور باہر لان میں آیا۔
شماز نے فوراََ سے گاڑی نکالی اور اسے ہسپتال لے کر جانے کی کی ۔
***********
ثمینہ ہارون اسے ایک ایک بات واضح طور پہ بتا چکی تھیں ۔ اس سب میں نا تو قصور کبیر نواز کا تھا اور نہ ہی جنت کے ننھیال والوں کا۔
“اسکا مطلب۔۔ شاہینہ کی ڈیتھ کے بعد مجھ سے شادی کی ۔۔۔ ” وہ خود سے گویا ہوئی ۔ “نواز آپکے گھر والوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔۔اس معصوم بچی کا بھلا کیا قصور تھا؟ ” ابھی وہ یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ اسے جولی کے اونچا بولنے کی آواز سنائی دی ۔
“جنت۔۔۔آر ۔یو ۔او۔کے ؟؟ جنت؟؟؟” جنت صوفے پے بے سدھ پڑی تھی ۔وہ فوراََ بھاگی بھاگی باہر آئی ۔
“مام۔۔۔ ” وہ خاصی گھبرائی ہوئی تھی ۔
What Happened to her ??””
“کیا ہوا اسے ؟” اسکی حالت دیکھ کر وہ خود بھی گھبرا گئی تھیں۔
“Mom..I don’t know .. We were talking But suddenly her temper flared.”
“مام۔۔مجھے نہیں پتہ ۔۔۔مجھ سے بات کررہی تھی کہ اچانک اسکی طبعیت بگڑ گئی ۔۔۔”
“Ok..Ok.. Don’t worry …
“او۔کے ۔۔اوکے ۔۔پریشان نہیں ہو۔۔ ” انہوں نے اسے مشورۃََ کہا اور فوراََ نواز کا کال ملائی ۔
“کرسٹی از کالنگ ۔۔” موبائل پہ دھیان پڑتے ہی انہوں نے فوراََ فون کو سائلنٹ موڈ پہ کیا اور اپنی جگہ سے اٹھے۔ حقیقتاََ وہ ا س سے نظریں چرا رہے تھے ۔ وہ جان چکے تھے کہ کرسٹی پھر سے اس سے کوئی سوال کر دے گی ۔اسکے سوالوں سے چھٹکارا پانے کی غرض سے انہوں نے فون کو میز پہ ہی چھوڑنے میں عافیت جانی اور خود ڈاکٹرز کی ٹیم کے ساتھ ایک اہم سرجری کرنے کے لیئے آپریشن تھیٹر میں آگئے ۔
اس نے انہیں کوئی دو تین مرتبہ کال کی مگر بے سود۔ اب کے اس نے دانش کو کال ملائی ۔
کال پہلی بیل پہ ہی اٹھالی گئی تھی ۔ “دانی۔۔کہاں ہو تم ؟ “
وہ ہسپتال کے کاریڈور میں سے ہوتا ہوا اپنے آفس میں آکر بیٹھا۔ “ابھی مریضوں کو دیکھ کر آیا ہوں۔۔خیریت ؟؟”
“بیٹا۔۔۔ وہ ۔۔جنت۔۔۔” انکی آواز بمشکل ہی نکل پارہی تھی ۔
“جنت اچانک بیہوش ہو گئی ہے ۔۔اسکی حالت ٹھیک نہیں۔۔میں نے نواز کو کال کی لیکن وہ ریسیو نہیں کر رہے ۔”
“جنت۔۔۔مگر وہ ۔۔۔” وہ حیران ہوا۔
“ابھی ان سب کا وقت نہیں۔۔۔پلیز۔۔۔ ہسپتال کی ایمرجنسی گاڑی بھیجوا دو۔۔۔” انہوں نے اتنا کہا اور فون رکھتے ہی جولی کے پاس آئیں جو جنت کی حالت پہ خاصی گھبرائی ہوئی تھی مگر اب رونے بھی لگی تھی ۔
***********
اٹلی کی سر زمین پہ قدم رکھتے ہی سکون اسکی رگوں میں سرائیت کر گیا۔ کہاں وہ بے چین تھا مگر اب اسکادل میں بے انتہاء سکون کی کیفیت میں تھا۔ ائیر پورٹ پہ کے چاروں اطراف میں اس نے اپنی نظر گھمائی مگر اسے وہاں کہیں بھی وہ نظر نہیں آیا جس نے اسے بلایا تھا۔ آخر وہ سڑک پہ آموجود ہوا۔ شدید سردی سے کپکپاتے ہوئے ،اس نے اپنی جیکٹ سے اپنا موبائل نکالا اور اسکا نمبر ڈائل کیا۔ اس سے پہلے وہ اسکا نمبر ملاتا ایک گاڑی پراسرار انداز میں اسکے سامنے کھڑ ی ہوئی ۔ وہ گاڑی کے اندر سے ہی جھانکتے ہوئے اسے بولا۔
“ویلکم ٹو مائی ورلڈ۔۔۔” اس نے اپنی آنکھوں سے اسے گاڑی کے اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔جوں ہی وہ گاڑی میں بیٹھا تو اس نے اسے پرخلوص مسکراہٹ پیش کی ۔
“آپ نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے ؟؟” اس نے بلا تمہیدپہلا سوال ہی یہی کیا۔
اسکا سوال سن کر وہ قدرے تصرف سے مسکرایا کہ اسکی آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے ۔اس نے گہری نگاہ سے اسکی طرف دیکھا جو سڑک پہ نظریں جمائے گاڑی برق رفتاری کے ساتھ چلا رہا تھا۔
“اسکی خوشی کی خاطر آئے ہو؟؟” اس نے سوالیہ اندا ز میں پوچھا۔
جواباََ وہ مسکرایا۔ “جی ۔۔۔” اس نے اثبات میں گردن ہلائی ۔
“اگر میں اسے چھوڑ دوں تو کیا تم اسے اپنا لو گے ؟؟ ” اس نے بے انتہاء اذیت سے یہ سوال اپنی زبان پہ لایا ۔ یہ کہنے کے لیئے اسے جس کرب سے گزرنا پڑا ،یہ تو بس وہی جانتا تھا۔
اسے اپنی سماعت پہ یقین نہیں آرہا تھا۔ اسکے سوال کو سن کر وہ ہکا بکا رہ گیا۔ اسکا سوال ،اسکے ارادے کی خوب اچھے سے وضاحت کررہا تھا۔
“آر یو اِن یو سینسز؟؟؟” اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا اور پھر اپنا حلق صاف کرتے ہوئے مزید بولا۔ ” کیا وہ جانتی ہے آپ کے ارادے کے بارے میں ؟؟”
اس نے گاڑی ہاٹل کے باہر روکی اور اسکی طرف دیکھ کر بولا۔ “اسے سرپرائز دینا چاہتا ہوں۔۔”
“یہ سرپرائز ہے ؟؟” اس نے قدرے سخت لہجے میں سوال کیاتو وہ کھلکھلا کر ہنسا۔
“آپ کو سوچنے کے لیئے کچھ وقت دے رہا ہوں۔۔ ایک وقت تھا آپ نے اس کا ساتھ نہیں دیا تھا۔۔ آج میں آپکو پھر سے ایک موقع دے رہا ہوں۔۔۔ فیصلہ آپ پر۔۔۔”
اسکی کہی ایک ایک بات پہ اسکا دماغ سٹپٹا سا گیا۔اس سے پہلے وہ اس سے کچھ کہتا اس نے مزید کہا۔ “آپکے لیئے روم بُک کروادیا ہے یہاں۔۔ آپ کو یہاں کوئی دِقت نہیں ہوگی ۔۔ کل ملتے ہیں۔۔۔”
“مگر۔۔۔۔ ” و ہ بولتے بولتے رُکا۔ اس کے اندر کے انسان نے اسے روکاتھا۔اس نے خاموشی سے اسکو دیکھا اور گاڑی سے اترا۔
وہ ابھی تک اسکے کہے ہوئے کے زیرِ اثر تھا۔ “آپ کو سوچنے کے لیئے کچھ وقت دے رہا ہوں۔۔ ایک وقت تھا آپ نے اس کا ساتھ نہیں دیا تھا۔۔ آج میں آپکو پھر سے ایک موقع دے رہا ہوں۔۔۔ فیصلہ آپ پر۔۔۔”
اس نے گاڑی کو ریورس کیا اور نواز صاحب کے گھر کی جانب ،جنت کو لینے کے لیئے نکل پڑا۔ ابھی وہ رستے میں ہی تھا کہ اسکے فون پہ بیپ ہوئی ۔ وائبریشن کی آواز سے تنگ آکر اس نے فون اٹھایا۔
اس سے پہلے وہ کچھ بولتا ،دوسری طرف سے بولنے والا خاصاعجلت میں تھا۔ ” کتنی دفعہ کال کر چکے ہیں ہم تمہیں۔۔۔ ہسپتال آؤ فوراََ۔۔”
“کیا ہوا دانش؟؟ سب ٹھیک تو ہے ؟؟” اس کے لہجے میں پریشانی کو وہ محسوس کر چکا تھا۔
اسکی طرف سے دی جانے والی اطلاع پہ اسے نہ گاڑی کی رفتار کی فکر رہی اور نہ ہی اپنی ۔ البتہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ ایک سو تیس کی سپیڈ سے تجاوز کرنے سے اسکا چالان بھی ہو سکتا ہے ۔
جیسے تیسے وہ ہسپتال پہنچا،گیٹ پہ دانش اسکے انتظار میں کھڑا تھا۔ “جہانگیر؟کہاں تھے تم ؟ شام سے رات ہونے کو ہے ۔۔اتنی دفعہ کال کی تمہیں مگر تم ہو کہ ۔۔۔۔” اس نے اسے خوب جھاڑا۔
“دانش۔۔۔کیا ہوا اسے ؟ وہ ٹھیک تو ہے ؟؟” اسکا سانس کافی پھولا ہوا تھا۔
“تمہیں دلچسپی ہے یہ جاننے کی ؟؟تمہیں پرواہ ہے بھابھی کی ؟؟” اس نے طنز آمیز لہجے میں پوچھا۔
“دانش۔۔۔ایسے تو نہ کہو۔۔ ” اس نے التجائیہ کہا۔
“کیوں نہ کہوں ؟؟ دوپہر سے بھابھی کی طبعیت خرا ب ہے ۔۔اور تم۔۔ تمہیں فرصت ہی کہاں ؟ کم از کم فون تو ریسیو کر سکتے تھے نا تم ؟؟ “
“میں مصروف تھا۔۔۔اس لیئے فون ریسیو نہیں کر پایا۔۔۔” وہ اس سےنظریں چراتا ہوا بولااور گیٹ سے اندر داخل ہوا تو وہ اسکے پیچھے پیچھے آیا۔
“کہاں مصروف تھے ؟ بتاؤگے ؟؟؟؟” اس نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
“وہ ۔۔وہ یہاں آچکا ہے ۔۔” یہ کہتے ہوئے وہ بمشکل ہی اس سے نظریں ملا پایا تھا۔
“کیا ؟؟؟ آر یو ان یور سینسز؟؟؟ ایسے کیسے کر سکتے ہو تم ؟؟ میں نے تمہیں منع بھی کیا تھا کہ تم ایسا نہیں کرو گے ۔۔۔” وہ اس پہ سخت برہم ہوا۔
“تم نہیں سمجھو گے دانش۔۔تم نہیں سمجھو گے ۔۔۔” اسکی ہمت ٹوٹ چکی تھی ۔ وہ ہسپتال کے مرکزی دروازےکےباہر کی موجودراہداری میں بیٹھ گیا۔
“ہاں یہ تو واقعی میں نہیں سمجھوں گا۔۔ یہ سب تو واقعی میری سمجھ سے باہر ہے ۔۔” وہ بے ضبط بولا۔ “اندر وہ عورت جو نیم بیہوشی میں بھی اپنے شوہر کا نام لے رہی ہے اور یہاں اسکا شوہر اسکا کہیں اور رشتہ طے کرنے کا سوچ رہا ہے ۔۔۔یہ تو واقعی میری سمجھ سے باہر ہے ۔۔۔ واقعی یہ تو میں سمجھ سکتا ہی نہیں۔۔۔ تمہارے اسی رویے نے اس بیچاری کو برین ٹیومر کر دیا ہے ۔۔ پِس کر ر ہ گئی ہے وہ ۔۔بھیک اور دعا میں۔۔۔ایسا کرو اسے مار ہی دو تم۔۔۔مار دو اسے۔۔۔” وہ چیخ چیخ کر بولا۔
“برین ٹیومر۔۔۔” اسکی آنکھ سے آنسو کا ایک قطرہ بہہ نکلا۔ اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جو اپنا سر پکڑے اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔
وہ فوراََ سے اپنی جگہ سے ہلا اور بھاگتے بھاگتے،ہسپتال کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوا۔
یہاں وہ اپنے مرض سے لڑرہی تھی تو وہاں اسکی پیاری سہیلی اپنی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی ۔ دونوں کا بھلے ہی آپس میں رابطہ منقطع تھا لیکن دل کے رابطوں کو بھلا کہا ں کسی فو ن کال یا خط کی ضرورت؟
گھر کے تمام افراد آئی سی یو کے باہر اسکے لیئے دعا گو تھے ۔ اپنی شرٹ پہ لگے اسکے خون کو دیکھتے ہوئے وہ بے حس و حرکت دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا رہا۔
“میری وجہ سے خود کشی کرنے والی ،میرے لیئے اپنی جان کی بازی لگا گئی ۔۔۔” اسکا دماغ ماؤف ہو کر رہ گیاتھا۔*
***
Click on the Image to download















