Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Number One Kon By Uzma Zia - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Digest Novels

Number One Kon By Uzma Zia

Email :356

Summary Of Number One Kon By UZMA ZIA

DIGEST NOVEL

Hadi deeply loves Sonia. His feelings for her are sincere, honest, and full of respect. He always supports her, encourages her dreams, and wants to see her happy. Sonia also cares for Hadi and trusts him, but she is sensitive and easily influenced by the people close to her, especially her friends.

Among Sonia’s friends, there is one who is secretly jealous of their relationship. She cannot accept the bond that Hadi and Sonia share. Instead of being happy for them, jealousy slowly turns into bitterness. She feels ignored, insecure, and afraid of losing her importance in Sonia’s life. Rather than confronting her feelings honestly, she chooses a negative path.

This jealous friend begins to create misunderstandings between Hadi and Sonia. She twists Hadi’s words, hides the truth, and spreads false impressions. Sometimes she exaggerates small issues, and other times she completely lies, making Sonia doubt Hadi’s intentions.

Genre: Friends Based, Envy , Love Marriage , Romantic 

Introduction of Uzma Zia (Urdu Writer)

Uzma Zia is a contemporary Urdu writer known for her meaningful and thought-provoking literary work. She has contributed to Urdu literature through short stories, essays, and columns. Her writings mainly focus on social issues, human emotions, and the realities of everyday life, especially highlighting the experiences and struggles of women in society.

Uzma Zia’s writing style is simple, fluent, and emotionally engaging. She presents ordinary characters and common situations in a realistic manner, which allows readers to easily connect with her work. Through symbolism and deep observation, she raises important social questions and encourages readers to reflect on moral and social values.

As a writer, Uzma Zia holds a respected place in modern Urdu literature. Her work not only entertains readers but also creates awareness about social problems and human relationships. She is appreciated for her sensitivity, clarity of expression, and commitment to meaningful literature.

SneakPeak

“کھانا کھائیں گے؟” وہ ذرا رک رک کر بولی کیونکہ ہادی اسے برابر گھورے جا رہا تھا۔
نہیں۔۔۔ اس نے سختی سے جواب دیا اور اپنی جیکٹ اتار کر صوفے پہ دے ماری۔
“ہادی کیا ہوا؟ کچھ چاہیئے تو۔۔۔۔”
“سکون چاہیئے۔۔۔ سونیا۔۔ سکون۔۔۔” اس نے غصہ سے اسکی بات کاٹی جس پہ وہ لب بھنچ کر رہ گئی تھی۔
“ہادی۔۔۔” وہ کچھ دیر توقف کے بعد بولی اور اسکے قریب صوفے پہ آموجود ہوئی جہاں بیٹھا وہ اپنے جوتے کے تسمے کھول رہا تھا۔
“ہادی۔۔ آپ ایسے تو نہیں تھے۔۔ پھر؟؟” اس سے پہلے وہ اپنی بات پوری کرتی ہادی بولا۔
“میں نے تمہیں جو طلاق کے پیپرز دیے تھے۔۔سائن کیے اس پہ؟؟”وہ اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا۔
“نہیں۔۔ وہ۔۔ اصل میں۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ پیپرز کہیں کھوگئے ہیں۔” وہ ذرا گھبرائی۔
“کھو گئے؟؟ تو یہ کیا ہے؟ ہاں؟” اس نے اپنے کوٹ کی جیب سے پیپرز نکالے اور ہوا میں لہرائے۔

“یہ؟ یہ کہاں سے ملے آپکو؟” وہ چونکی کیونکہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس نے غصہ سے وہ کاغذ کوڑے دان میں پھینکے تھے۔

“ڈسٹبن سے۔۔۔” وہ زور سے چلایا۔

“خالدہ آئی تھی صفائی کرنے۔۔ شاید اس نے۔۔۔” وہ بات کرتے کرتے رکی۔

“وہاٹ ایور۔۔” وہ کندھوں کو اچکا کر بڑی بے نیازی سے بولا۔

“میری بات کان کھول کے سن لو۔۔ میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا اور اب بھی بتا رہا ہوں۔۔ میں اور تم ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور۔۔۔” اس سے پہلے وہ کچھ بولتا سونیا نے تڑخ کے اسے جوابدیا۔

“جان چکی ہوں ہادی۔۔۔” وہ دل پہ پتھر رکھتے ہوئے بولی گویا کہ اپنے اندر ٹوٹنے والے دل کے ٹکڑوں کوجوڑرہی ہو۔

“لیکن کیا مجھے یہ جاننے کا بھی حق نہیں کہ میری غلطی کیا ہے؟؟” التجااسکے لہجے میں واضح تھی۔

” غلطی؟؟ غلطی تو میری ہے۔۔ ” وہ طنزیہ بولا۔

” جو تم جیسی سے شادی کی۔سوچتا تھا تم میرے رنگ میں رنگ جاؤ گی۔۔ مگر نہیں وہی کی وہی پینڈوہو۔۔ بہتر یہی ہوگا کہ۔۔۔۔۔۔ ” وہ پچھتاتے ہوئے بولا۔

“بس۔۔ بہت ہوگیا۔۔ اب ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالیئے گا۔۔”

آج اسے پہلی بار اسکے لہجے میں اپنے لیئے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔اسکی آنکھیں آنسوؤں سے بھر چکی تھیں۔اور آنکھوں میں موجود کاجل پھیل سا گیا۔ اس نے فوراََ سے اسکے ہاتھ سے پیپرز کھینچے اور دراز کو کھولتے ہوئے پین نکالاجبکہ ہادی اسے حیران کن نگاہوں سے دیکھتا رہ گیا۔اس نے سائن کیے اور پیپرز غصے سے اسکے ہاتھ پہ دے مارے۔
ہادی اسکی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا ،جو کوشش وہ پچھلے تین ماہ سے کررہا تھا وہ تین منٹ میں ہوگیا تھا۔ سونیا نے ایک لمحے کی دیر کیے بناء ہی اپنی کپ بورڈ سے کپڑے نکالے اور سوٹ کیس میں رکھنے لگی۔۔
“سونیا۔۔۔ یہ کیا کرہی ہو؟ اس وقت۔۔۔ کہاں جارہی ہو؟” ہادی نے گھڑی پہ نظر ڈالی اور فوراََ سے آاگے بڑھا۔
“اس وقت؟؟ ” وہ روتے ہوئے مسکرادی۔
“وقت کی فکر آپکو کب سے ہونے لگی؟اور بے فکر رہیے۔ اب تو میں سائن کر چکی ہوں۔ اب میرا یہاں رکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔” اس نے اپنے آنسوؤں کو تیزی سے صاف کیااور پوری ہمت کے ساتھ بولی۔
“سوری سونیا۔۔ سوری۔۔۔ کاش!کہ تم مجھے سمجھ سکتی۔ ” وہ مجبور ہوتے ہوئے بولا۔
“بچپن سے سمجھ ہی تو رہی ہے یہ پینڈو آپکو۔۔” وہ طنزیہ مسکرائی،ہادی کو ایسے لگا جیسے کسی نے اسکے منہ پہ زور سے تھپڑ دے مارا ہو۔
“سونیا اس وقت حمنہ کو میری زیادہ ضرورت ہے۔ اور میں تمہیں اپنے ساتھ باندھ کر تمہارے ساتھ نا انصافی نہیں کرسکتا۔۔” آخر وہ اہم بات پہ آیا۔
“حمنہ کو؟” اسکی آنکھیں پھیل سی گئیں۔
اسے سب یاد آنے لگا جوبیت چکا تھا۔حمنہ کون تھی؟ وہ جان چکی تھی۔حمنہ ان دونوں کی بچپن کی دوست تھی جو اپنی چچی چچا کے ساتھ رہ رہی تھی۔
حمنہ تھی تو اسکی دوست مگر اس سے بے حد حسد کیا کرتی تھی۔ہمیشہ نمبر ون آنے کے چکر میں وہ سونیا کو شکست دینے سے بھی گریز نہیں کرتی تھی۔ اس سے پہلے اسے ہادی سے محبت تھی مگر ہادی نے سونیا کا انتخاب کیا۔مگر سونیا کو اندازہ نہیں تھا کہ حمنہ یوں اس سے بدلہ لے گی۔
“ہاں۔۔ میں ایک ساتھ دو رشتے نہیں نبھا سکتا۔۔”وہ صاف گوئی سے بولا۔
“اسے میرے سہارے کی ضرورت ہے۔۔ پلیز ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ۔۔اسے میں نہ ملا تو وہ مر جائے گی۔۔”
“سمجھ گئی۔۔۔ ایک عورت سے سہارا چھین کے دوسری عورت کو سہارا دینا چاہتے ہیں آپ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts