Protection and Care for the Vulnerable
Love and Emotional Bonds
Betrayal and Manipulation
Heroism and Moral Courage
Redemption and Justice
Societal Commentary
Notable Novels by Uzma Zia
-
Mohabbat Bheek Hai Shayad: This novel explores themes of love and emotional struggles, capturing the essence of romantic relationships.
-
Khoobsurat Mazaq: A story centered around friendship and the complexities of relationships, showcasing Uzma Zia’s unique storytelling style.
-
Mohabbat Dua Hai: This novel is divided into seasons, with each part delving into different aspects of love and hope.
-
Number One Kon: A revenge-based narrative that adds a thrilling twist to her collection.
-
Yaaden Chand Lamhon Ki: This novel focuses on the journey of a self-reliant woman, highlighting her struggles and triumphs.
Writing Style and Themes
Uzma Zia continues to be an influential figure in Urdu literature,
and her novels are cherished by fans for their heartfelt narratives and
engaging storytelling.
All rights are reserved ©
دامن عظمی ضیاء کا قسط وار ناول ہے جو آپ کو صرف ہماری ویب سائٹ پر ہی ملے گا۔ یہ ناول ایک دارالامان کی کہانی پر مبنی ہے کہ کیسے ایک دارالامان کے مالک نے یتیم بے بس اور بے سہارا بچیوں کو زمانے کی گندی نگاہ سے بچاکررکھنا چاہا لیکن مسئلہ تو تب ہوا جب ایک سیاست دان کو اس کے دارالامان کی لڑکی پسند آگئی اور اسے حاصل کرنے کے لیے اس نے زمین آسمان ایک کر دیا۔
مزید کہانی پڑھنے کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں اور اپنی بہترین رائے سے ہمیں ضرور اگاہ کریں یہ لکھاری کے لیے بہترین اور مددگار ثابت ہوگا۔
بہت جلد قسط نمبرایک ہماری ویب سائٹ پر پبلش کر دی جائے گی ہمیں انسٹاگرام پر فالو کرنا مت بھولیں۔
کہانی کی یا کردار کی کسی سے مطابقت ہے تو وہ محض اتفاقی ہوگی۔استھیٹک ناولز کی ویب سائٹ کے علاوہ اور کسی کو بھی اس کتاب کو شائع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
بحکم رائٹر عظمیٰ ضیاء
SneakPeak-1
”میرصاحب۔۔سب آپکے حکم کے مطابق ہی ہواہے۔صبح تک ہسپتال والے لاوارث لاشیں سمجھ کر انہیں دفنادیں گے۔“
آخرکون تھا یہ شخص؟آخرکیوں چاہتاتھا وہ یہ سب؟آخرکیا مقصد کارفرماتھا اس سب کے پیچھے کہ اس نے ان سب سے انکی زندگی کی رمق ہی چھین لی۔انہوں نے سرعت سے پیچھے مڑکردیکھا۔کالے رنگ کی چھتری سر پہ رکھے کانوں کے ساتھ فون کو لگائے وہ شخص کالے کوٹ میں ملبوس خاصا پراسرارلگ رہاتھا جو اپنے اندرلاکھوں راز چھپائے ہوئے تھا۔اس سے پہلے وہ قدم بڑھاتے ہوئے اسکے پیچھے جاتے وہ اپنی کالے رنگ کی سوزوکی کلٹس میں بیٹھ چکاتھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے چابی گھمائی اور گیئرلگاتے ہی گاڑی کو تیز رفتاری سے بھگاتا ہوا لے اڑا۔
SneakPeak-2 ”تمہارا دماغ خراب ہے کیا؟ دن میں بھی سمجھایا تھا تمہیں لیکن ۔۔نہیں ۔۔مجال ہے تمہیں میری بات سمجھ آجائے۔اور اب۔۔ جانتا ہوں تم اکیلی جاسکتی ہو ۔لیکن میں تمہیں اکیلے جانے نہیں دے سکتا۔سمجھی۔“ مقابل اسکے سامنے آموجود ہوا۔ ”کیا مصیبت ہے یہ؟؟“ وہ چلا ئی۔ ”میں کیسے یقین کروں آپ پہ؟؟ بو لیے؟؟ کیوں کررہے ہیں یہ ہمدردی؟“ ”تمہارے کسی بھی فضول سوال کا جواب نہیں میرے پاس۔۔اور رہی بات یہ جو تم ابھی تھوڑی دیر پہلے کہہ رہی تھی۔۔چانس۔۔تو تم ہی رہ گئی ہو کیا؟ “ سوال میں بھلے ہی تضحیک تھی لیکن اس لمحے وہ اسی چیز کی حقدار تھی۔ اب جواب وہ کیا دیتی ؟ اسکے سوال نے تو اسکی آواز ہی سلب کر لی تھی۔ رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے اور وہ یہاں کھلی سڑک پہ اس مسیحا کے ساتھ الجھ رہی تھی جو اسے پولیس والوں کی گندی نظروں سے بچاکر لایا تھا۔ اس سے مغز ماری کر تے کرتے اب وہ عاجزآچکا تھا۔فون پہ بیل ہوئی تو اس نے پینٹ کی جیب سے فون نکالا ۔ ”بس آرہاہوں مام۔۔کچھ کام ہے۔ ایک عذاب مسلط ہوگیا ہے اسے نپٹا کر آتا ہوں۔“ خراب لہجے میں کہتے ہی اس نے فون رکھا تو دوسری طرف موجود عائشہ بیگم حددرجہ پریشانی کا شکار ہوئیں۔” یہ کیا بات کردی ؟علی؟علی؟ کیامطلب اس بات کا؟“ کال دوسری طرف سے منقطع ہوچکی تھی۔انہوں نے دوبارہ کال ملائی مگر اب کہ انہیں اسکا فون بند ملا۔ بحث و تکرار سے عاجز علی نے اب کہ اسکا ہاتھ کھینچ کر پکڑا اور اسے گھسیٹتے ہوئے گاڑی تک لے آیا۔ دوسری جانب کا دروازہ کھولا اور اسے اندر دھکا دے کر بٹھایا۔یہ کیسا استحقاق تھا جو اس لمحے اس پہ واجب ہوا تھا۔ ساکت و سامت منہ کھولے وہ اسکی حرکت پہ ہکا بکا رہ گئی۔ ” اک انجان شخص اتنا مہر بان؟؟“ اسکے دل میں بے شمار وہم سوالات کی صورت جنم لینے لگے تھے۔ گاڑی کو ریس دئیے اس نے رفتار بڑھائی ۔ نگاہیں اسی مسیحا پہ جا ٹھہری تھیں جو اسکا محافظ بن کر اسے اسکے گھر بحفاظت پہنچانے کی ذمہ داری اپنے سر لے چکا تھا۔ ”آخر کیوں کررہے ہیں اتنی مہربانی آپ؟“ دل میں جنم لینے والا سوال آخر زبان پہ آیا۔ ”انصاری انکل کا خیال نہ ہوتا تو مرنے دیتا تمہیں وہیں سڑک پہ۔“ برجستہ جواب آیا تھا۔ سرد نگاہیں لیے اس نے اسے دیکھاتھا۔ اداسی بھرا لہجہ ہواتھا۔ Episode NO.1-17
4 responses to “Daman Written by Uzma Zia (Episodic Novel )”
-
Daman is really a love novel to read. I just love the way Ali cares Rukhma. But why is he so confuse man. I wish he just soon identify his feelings.
-
I have same question and i want him to understand himself as soon as possible, otherwise he would suffer more than Tabish
-
-
Seriously Uzma ap ki manzar nigari seems that scene is happening in front of my eyes why don’t you try in dramas. Wase b Pakistani media industry doesn’t have unique story.apki web py kch web novels hn all are awesome and amazing Naina , fatyma saleem, fatima Rana, Zainab ,azmahi ,taisha, Neha, and some others are awesome Talash e Noor ishq e Kamil b parha btw all are in learning process but I highly admire k ap new writers ki support kr re Hain wo b free of cost services provide krna bre bat ha mashaallah. Or digest novels ko promote krna to bohat Badiya.
-
Apki website ka new templates or design acha ha keep it forever.













Leave a Reply