Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Ramadan Or Piyare Bachy - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Blog

Ramadan Or Piyare Bachy

Email :242

رمضان اور پیارے بچے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سب کو ماہِ مقدس رمضان کی دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارک باد۔ اللہ تعالیٰ کرے یہ بابرکت مہینہ ہم سب کے لیے رحمتوں، مغفرتوں اور بے شمار برکتوں کا ذریعہ بنے۔ آمین۔
امید ہے آپ سب رمضان کی روحانیت، سکون اور برکتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔ لیکن ذرا ٹھہریے۔ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ جس طرح ہم اس مہینے کی رحمتوں کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں، کیا ہمارے بچے بھی اسی احساس اور جذبے کے ساتھ رمضان کو محسوس کر پا رہے ہیں؟
ہم سب کو اپنا بچپن یاد ہوگا۔ وہ سادہ سا دور، وہ کم سہولیات مگر زیادہ برکتیں۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہماری امی جان سحری کے وقت محبت سے جگایا کرتی تھیں۔ نیند سے بوجھل آنکھیں، مگر دل میں ایک خوشی کہ ہم بھی سحری میں شامل ہیں۔ سب گھر والے مل کر دسترخوان پر بیٹھتے، سحری کرتے، دعا کرتے اور پھر فجر کی نماز کے بعد دن کا آغاز ہوتا۔
اس کے بعد جب اسکول جانے کا وقت ہوتا تو ہم بنا لنچ باکس کے اسکول چلے جاتے۔ حالانکہ ہم میں سے اکثر کا روزہ نہیں ہوتا تھا، لیکن پھر بھی نہ پانی پیتے تھے اور نہ کچھ کھاتے تھے۔ آخر یہ احساس ہمیں کس نے دیا تھا؟
یہ تربیت ہمیں ہمارے والدین اور اساتذہ کرام نے دی تھی۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ چاہے تمہارا روزہ نہ ہو، مگر روزہ داروں کے سامنے کھانے پینے سے اجتناب کرنا ادب اور اخلاق کا تقاضا ہے۔ یہ صرف ایک عمل نہیں تھا بلکہ احترامِ رمضان کا شعور تھا، جو ہمارے دلوں میں بٹھایا گیا۔
آج وقت بدل گیا ہے، حالات بدل گئے ہیں، مگر رمضان کی برکتیں اور اس کی عظمت آج بھی ویسی ہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے دلوں میں بھی وہی احترام، وہی شوق اور وہی روحانی تعلق پیدا کریں۔
اگر بچے چھوٹی جماعتوں میں ہیں تو انہیں زبردستی مکمل روزہ رکھنے پر مجبور نہ کریں، بلکہ محبت اور حکمت سے آہستہ آہستہ عادت ڈالیں۔ صبح انہیں ناشتہ کروا کر اسکول بھیج دیں، مگر حتی الامکان لنچ باکس دینے سے گریز کریں، کیونکہ اسکول کا دورانیہ عموماً کم ہوتا ہے۔ گھر واپس آ کر انہیں مناسب کھانا کھلا دیں۔
یقین کیجیے، کچھ دنوں بعد آپ خود حیران ہوں گے جب آپ کا بچہ فخر سے کہے گا:
“امی! میں نے کچھ نہیں کھایا، میرا بھی روزہ ہے۔”
اور پھر آپ مسکرا کر کہیں گی:
“بیٹا! یہ تو چڑی روزہ ہے۔”
یوں آہستہ آہستہ ان کے اندر صبر، برداشت اور عبادت کا جذبہ پروان چڑھے گا۔ یہی چھوٹے چھوٹے قدم آگے چل کر مضبوط عادت بن جاتے ہیں۔
رمضان صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنے، اخلاق کو بہتر بنانے اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا مہینہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف روزہ رکھنے کی ترغیب نہ دیں بلکہ انہیں رمضان کی اصل روح بھی سمجھائیں۔
انہیں سادہ الفاظ میں بتائیں کہ:
روزہ ہمیں صبر سکھاتا ہے۔
روزہ ہمیں دوسروں کے درد کا احساس دلاتا ہے۔
روزہ ہمیں اللہ کے قریب کرتا ہے۔
اپنے بچوں کو اذکار سکھائیں، چھوٹی چھوٹی دعائیں یاد کروائیں، قرآن پاک کی تلاوت کی عادت ڈالیں۔ فارغ وقت میں موبائل یا فضول باتوں کی بجائے اگر وہ چند کلماتِ ذکر پڑھ لیں تو یہ ان کی روحانی تربیت کا بہترین ذریعہ ہوگا۔
آپ چاہیں تو بچوں کو ایک خوبصورت تسبیح یا ڈیجیٹل تسبیح کاؤنٹر لے دیں تاکہ ان کے اندر شوق پیدا ہو۔ لیکن یاد رکھیے! اصل چیز تسبیح نہیں بلکہ والدین کی توجہ، محبت اور عملی نمونہ ہے۔ جب بچے ہمیں نماز پڑھتے، قرآن کی تلاوت کرتے اور ذکر کرتے دیکھیں گے تو وہ خود بخود سیکھیں گے۔
یہ کام کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اساتذہ، والدین اور معاشرہ سب کو مل کر اپنے بچوں کے دلوں میں رمضان کی عظمت بٹھانی ہے۔ کیونکہ یہی بچے ہمارا مستقبل ہیں، یہی کل کے معمار ہیں۔
آئیے عہد کریں کہ اس رمضان ہم صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی نیکیوں کا ماحول بنائیں گے۔ اپنے گھروں کو عبادت گاہ بنائیں گے، بچوں کو محبت سے سکھائیں گے، اور ان کے دلوں میں اللہ کی محبت جگائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے گھروں کو رمضان کی برکتوں سے بھر دے، اور ہمیں اس مہینے کی حقیقی روح نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
طالبِ دعا 🤲

پروفیسر نازش یعقوب

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts