Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Achanank Book by Uzma Zia Ep.1-36 Pdf Completed - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Web Novels

Achanank Book by Uzma Zia Ep.1-36 Pdf Completed

Email :10100

SHORT SUMMARY OF ACHANAK BY UZMA ZIA

An emotional story unfolds when several families wake up to the same unbearable reality—their children have disappeared. What began as an ordinary day turns into a nightmare filled with fear, unanswered questions, and silent prayers. Phones remain unanswered, rooms are empty, and the laughter that once filled the homes is replaced by suffocating silence. Parents search frantically, clinging to hope while battling their deepest fears.

As the truth slowly comes to light, the families discover that their children have been drawn into the world of modeling and acting. What the children saw as a path to freedom, creativity, and self-expression was viewed by their parents as a dangerous and uncertain world. The glittering promises of fame and success had tempted the young minds, but behind the lights and cameras lay pressure, exploitation, and emotional vulnerability.

The parents struggle with guilt and confusion. Some blame society for glorifying superficial success, while others blame themselves for not listening closely enough to their children’s dreams. Cultural expectations, family honor, and social judgment weigh heavily on them. They fear what neighbors will say, how reputations will be affected, and whether their children will ever return to the lives they once knew.

Meanwhile, the children face a harsh reality of their own. Away from home, they encounter intense competition, manipulation, and loneliness. The freedom they longed for comes at a cost. They realize that chasing dreams without support and understanding can be overwhelming. Torn between ambition and longing for family, they too begin to question their choices.

As tensions rise, the emotional gap between parents and children becomes painfully clear. Years of unspoken feelings, ignored passions, and strict expectations have led to this breaking point. The situation forces both sides to reflect—parents begin to see the importance of trust and open communication, while children understand the value of guidance and protection.

This crisis has the power to change their lives forever. It becomes a turning point where relationships are tested, values are challenged, and hearts are reshaped. Whether the families reunite or remain divided depends on their willingness to listen, forgive, and adapt. In the end, the story reveals a powerful truth: dreams and responsibilities must walk together, and only understanding can heal the wounds created by silence.

Uzma Zia is popular Urdu novelist known for her engaging romantic and emotional stories, with notable works including “Mohabbat Bheek Hai Shayad” and “Khoobsurat Mazaq.”

Notable Novels by Uzma Zia

  1. Mohabbat Bheek Hai ShayadThis novel explores themes of love and emotional struggles, capturing the essence of romantic relationships. 
     
  2. Khoobsurat Mazaqstory centered around friendship and the complexities of relationships, showcasing Uzma Zia’s unique storytelling style. 
     
  3. Mohabbat Dua HaiThis novel is divided into seasons, with each part delving into different aspects of love and hope. 
     
  4. Number One Konrevenge-based narrative that adds thrilling twist to her collection. 
     
  5. Yaaden Chand Lamhon KiThis novel focuses on the journey of self-reliant woman, highlighting her struggles and triumphs. 
     
     

Writing Style and Themes

Uzma Zia’s novels are characterized by their emotional depth and relatable charactersShe often weaves intricate plots that resonate with readers, making her works popular among Urdu literature enthusiasts. Her ability to blend romance with real-life challenges is hallmark of her writing, attracting diverse readership. 
 

Uzma Zia continues to be an influential figure in Urdu literature, and her novels are cherished by fans for their heartfelt narratives and engaging storytelling.

SneakPeak

”کیا کھاؤگی ؟بتاؤ؟“ اس نے اب یہ دوسری مرتبہ پوچھا تھا۔

جواب ندارد۔  کن پٹی پہ ہاتھ رکھے وہ ماتھے کو کھجانے لگی تھی۔

”کچھ بھی ۔۔جو تمہیں  پسند ہو۔۔میں بنا لاتا ہوں۔۔“

”اچھا۔۔واقعی؟؟“  بھنوئیں سکیڑے اس نے طنز بھری نگاہیں لیے اسے دیکھا۔

”ہاں۔۔واقعی۔۔بتاؤ تو۔۔میں سب بنالیتا ہوں۔۔تم کہو۔۔کیا کھاؤگی؟“

”زہر۔۔لادوگے؟“ زہر آلود لہجے میں وہ بولی تھی جس پہ اسکی آنکھیں پھیل سی گئیں۔

اب اسے بھی غصہ آنے لگا تھا مگر اس نے خود کو ضبط ہی کیے رکھا۔ اپنے خشک لبوں پہ زبان پھیرتے ہی اس نے تھوک نگلا اور خود کو پرسکون کیا۔

”ہاں۔۔ابھی لے کر آتا ہوں۔۔شرط یہ ہے کہ تم کھالوگی۔۔“

عروہ نے آئی برو اچکا کراسے دیکھا جو بڑی ہی دیدہ دلیری سے یہ بول رہا تھا۔

اس سے پہلے وہ کچھ بولتی عادل کا فون بجا۔”جی مام۔۔  سب ٹھیک ہے۔۔“

”میری بات کرواؤ اس سے۔۔“  عالیہ نے قدرے برہمی کا اظہار کیا۔

اس نے فون کان سے ہٹایا اور اسکے سامنے کیا۔وہ فون پکڑنے سے بھی نالاں تھی تبھی اس نے ملتجی نگاہیں لیے اسے دیکھاتو چاروناچار اسے فون پکڑنا ہی پڑا۔

”جی۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔آپ پریشان نہ ہوں۔۔“

”کیوں پریشان نہ ہوں عروہ۔۔اسے اپنی ذمہ داری کا احسا س ہونا چاہئے تھا۔ رات کے گیارہ بجے گھر آرہا ہے۔۔صبح میں خود آتی ہوں کراچی۔۔“

”نہیں۔۔اس کی ضرورت نہیں۔۔آپ۔۔“ اس نے سرعت سے کہا تھا۔

عادل آنکھوں کو سکیڑے سمجھنے کی کوشش میں تھا تبھی اس نے فون کان سے ہٹاکراسے کندھے اچکاکر دیکھا تو وہ چپ چاپ وہاں سے چلتا بنا۔

وہ باورچی خانے میں آیا اور اسکے کھانے کے لیے کچھ بنانے لگا۔ ”اسے  کھیر تو بہت پسند ہے۔۔“ اسکے ذہن میں کسی کے الفاظ گھومے تھےتبھی وہ نیم انداز میں مسکرایااورکھیر بنانے میں جھُٹ گیا۔

دوسری طرف  وہ عالیہ سے محوِ گفتگو تھی۔

”عروہ۔۔اپنے بیٹے کے بی ہاف پہ میں تم سے معافی مانگتی ہوں۔۔میں اسے سمجھاؤں گی۔۔آج کے بعد ایسا نہیں ہوگا۔۔“

وہ چپ چاپ خاموشی سے انکی ساری باتیں سنتی جارہی تھی۔

”جانتی ہو وہ تمہیں لے کر سنجیدہ ہورہا ہے۔۔اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرا بیٹا تم میں انٹرسٹ لے رہا ہے۔“

عالیہ کی یہ بات اسے گہری پریشانی میں مبتلا کرگئی تھی۔ ”جانتی ہو۔۔آج شوٹنگ کے دوران  کیا ہوا؟“ کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے اس نے سوالیہ انداز میں کہا۔

”کیا ہوا؟“ تجسس آمیز لہجے میں وہ بولی۔

”عادل کی انسٹاسٹوری دیکھو۔۔ساری بات سمجھ آجائے گی۔۔“

”جی۔۔۔“  اس نے فوراً سے فون رکھا اور وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف جانے کی غرض سے آگے بڑھی ہی تھی کہ پھر سے اسکا دماغ چکرانے لگا تھا۔

پیروں میں تو جیسے ہمت ہی نہیں رہی تھی۔سر پہ ہاتھ رکھے وہ واپس سے بیڈ کی جانب بڑھی۔

”ارے۔۔تم پھر اٹھ گئی؟ بیٹھ جاؤ۔۔“  کھیرکا باؤل ہاتھ میں لیے وہ کمرے میں آیا ۔سائیڈ ٹیبل پہ جھک کر کھیر کا باؤل رکھتے ہی وہ سید ھا کھڑا ہوا۔

اس نے کھیر کی طرف نگاہ ڈال کر ایک نظر اسے دیکھا جواطمینان بھری نگاہیں اس پہ گاڑھے کھڑا مسکرارہا تھا۔

ناشتے میں بھی اس نے اسکی پسند کی چیزیں بنائی تھیں اور ابھی بھی۔ وہ شش وپنج میں مبتلا ہوئی۔

”زیادہ نہیں سوچو۔۔کھالو ۔۔پھر دوا بھی کھانی ہے۔“

”کھالوں گی لیکن ۔۔“

”لیکن؟؟“

”اپنے فون کا لاک کھول کر دو۔۔“ بے تاثر نگاہیں لیے اس نے کہا۔

اسکی فرمائش پہ وہ چونکا ضرور تھا مگر پھر اگلے ہی لمحے اس نے فون اٹھایا اور اسکے ہاتھ میں دیا۔

”وائے ناٹ میری جان؟“

اس نے چونک کر ذرا ہڑبڑاکراسے دیکھا۔

”پاسورڈ ہے۔تیمور کے پاس زیادہ تر ہوتا ہے۔اسی نے ہی لگایاتھا۔“ اگلے ہی لمحے اس نے اسکا تجسس دور کیا۔

بناء کچھ کہےاس نے پاسورڈ ٹائپ کیا اور ڈائریکٹ اسکی انسٹاگرام سٹوری پہ گئی ۔ اسٹوری پہ لگی ویڈیو میں اسے

ماہ پارہ شیخ کی کمرکے گرد حالہ بنایا دیکھ کر اسکے تن من میں آگ لگی تھی ۔وہ خود کی حالت کو سمجھنے سے قاصر تھی کہ آخر ماہ پارہ کو اسکے اتنے قریب دیکھ کر اسے کیوں برا لگ رہا ہے؟ اور عالیہ آنٹی نے یہ سب دیکھانے کے لیے اسے انسٹاسٹوری دیکھنے کا کہاتھا۔واقعی حیرانی کی بات تھی۔

”جب آپ کی نئی شادی ہو اور اوپر سے رومینٹک سین کسی ہیروئن کے ساتھ فلمانا ہو۔۔ نام پھر منہ سے بیوی کا ہی نکلتا ہے۔۔“  اسٹوری پہ لگے عنوان کو دیکھ کر وہ الجھن کا شکار ہوئی۔ ویڈیو اور عنوان دونوں ہی الگ الگ معنی بیان کررہے تھے۔

عادل اسے ناسمجھی والے انداز میں دیکھ رہا تھا آخر اس نے کرسی کو آگے کھینچا اور اس پہ ہاتھ باندھے اسکے سامنے بیٹھ گیا ۔وہ موبائل میں کیا ٹٹولنا چاہتی ہے ؟یہ سوال اسکے دماغ کو الجھارہا تھا۔

اس سے پہلے وہ اسے موبائل واپس کرتی اس نے موبائل کی آواز اونچی کی اور اسٹوری پہ لگی ویڈیو کو دوبارہ دیکھا۔

”تم نہیں جانتی کہ میں نے کتنا انتظار کیا ہے اس پل کا۔۔آج تم میری بانہوں میں ہو آفرین۔۔لیکن سچ کہوں تو آج صرف تمہیں دیکھنے کو جی چاہ رہا ہے۔۔ جی بھر کے دیکھنا چاہتا ہے تمہیں بختیار ملک۔۔۔اتنا جی بھر کرکہ۔۔تمہاری روح میں میری روح سماجائےاور پھر ہم دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی جدا نہ کرسکے۔۔لیکن ایک وعدہ کرو مجھ سے ۔۔کچھ بھی ہوجائے۔۔چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے تم مجھے سے کبھی دور نہیں ہوگی۔۔وعدہ کرو مجھ سے عروہ۔۔وعدہ کرو۔۔“

اپنے شوٹنگ پہ کہے الفاظ اسکے کانوں میں بھی گونجے تھے ۔اس نے سرعت سے آگے بڑھ کر اپنا موبائل اسکے ہاتھ سے لیا ۔

”یہ۔۔یہ سب۔۔“  اسکا دماغ ماؤف ہوکررہ گیا تھا۔ اس نے فوراً سے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے نوٹیفیکیشن پہ نظر ڈالی جہاں اسے مختلف ریلز ،پوسٹ اور اسٹوری پہ مینشن کیا گیا تھا۔

”یہ سب تیمور نے کیا ہوگا۔۔تم چھوڑو اسے۔۔کھانا کھاؤ۔۔“وہ بوکھلایا بوکھلایا سا تھا۔

بناء آنکھوں کو جھپکائے وہ اسے دیکھتی چلی جارہی تھی جبکہ وہ اس سے برابر نظریں چرانے لگا تھا۔

”جانتی ہو وہ تمہیں لے کر سنجیدہ ہورہا ہے۔۔اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرا بیٹا تم میں انٹرسٹ لے رہا ہے۔“

عالیہ کے الفاظ اسکے کانوں میں گونجنے لگے تھے ۔وہ سمجھ نہیں  پارہی تھی کہ کیاری ایکٹ کرے۔

”عروہ؟؟  “ اس نے اسکا نام لیا لیکن وہ تھی کہ بناء آنکھوں کو جھپکائے اسے دیکھتی جارہی تھی آخروہ خود ہی آگے بڑھا اور کھیرکاباؤل ہاتھ میں لیےباؤل میں چمچ ہلاتے ہوئے کھیرا کو ٹھنڈاکرنے لگا۔

کھیر کا ایک چمچ بھرکر اس نے اسکے سامنے کیا تو چاروناچار اس نے منہ کھولا اور کھیر کھانے لگی۔

جیسے جیسے وہ اسے کھیرکھلا رہا تھا اسکے اندر آنسوؤں کا سیلاب امڈنے لگاجس سے اسکا حلق بھاری ہوگیا۔آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔

”سچ میں زہر نہیں ہے اس میں۔۔“ اپنی صفائی میں جیسے ہی وہ بولا تو وہ بچوں کی طرح ہنس دی۔

ڈھیروں آنسو اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے۔

”کاش۔۔اس میں زہر ہوتا۔۔“آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے وہ بولی۔

”امی کی یاد آرہی ہے؟؟“ قدرے بے چارگی سے اسے دیکھ کر وہ بولا۔

بناء کچھ کہے وہ پھوٹ پھوٹ کررونے لگی۔ اس نے فوراً سے باؤل ایک طرف رکھا اور اسکے پاس آبیٹھا۔

”پلیز عروہ۔۔۔  سنبھالوخود کو۔۔میں ہوں ناں۔۔“ اسے شانوں سے پکڑے جیسے ہی وہ بولا تو وہ اپنا سر اسکے سینے سے لگائے بلک بلک کررونے لگی۔

”مجھے نہیں پتہ تھا کہ امی ابا سے میں اتنا دور ہوجاؤں گی کہ انکی شکل تک دیکھنے کو ترسوں گی۔۔  میں نافرمان تھی لیکن بدکردار نہیں تھی۔۔بس اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینا چاہتی تھی۔۔یہ نافرمانی ہوگئی مجھ سے۔۔میں نہیں جانتی تھی کہ اس سب میں ابا مجھےبے آسراکردیں گے۔“

”عروہ۔۔پلیز سنبھالوخود کو ۔۔میں ہوں ناں۔۔“ اسکاسر سہلاتے ہوئے وہ بولا تھا۔

وہ اسکے سامنے اپنے دل کا غبار نکالتے ہوئے خود کو بہتر محسوس کرنے لگی تھی کہ اچانک ایک سوچ نے دوسری سوچ سے پلٹاکھایا۔ ایک ہی جھٹکے سے اس نے اسکے سینے پہ رکھا اپنا سر اٹھایاتو وہ چونک اٹھا۔

سوالیہ نگاہیں لیے چونک کر اس نے اسے دیکھا۔”تم ہو۔۔یہی تو مسئلہ ہے۔۔“ یکدم اسکا لہجہ کرخت ہوا تھا۔عادل نے آنکھیں پھیلاکر اسے دیکھا۔

اسکا بدلاتاثر اور لہجہ دیکھ کر وہ ایک لمحے کے لیے کچھ بول ہی نہ سکا۔اسکی آنکھوں میں اسے اپنے لیے حقارت صاف نظر آرہی تھی۔

”کیا مطلب ہے تمہارا؟“ آخر اپنے حواس بحال کیے اس نے پوچھا۔

”اب مطلب بھی میں بتاؤں؟ یونیورسٹی تک چلو ٹھیک۔لیکن۔تم نے مس میگی کو بھی سب بتادیاکیوں؟“  قدرے ٹھوس لہجے میں کہتے ہوئے اس کی آواز بھرائی تھی۔

”مس میگی؟؟اب یہ کون؟؟“ بھنوئیں سکیڑے وہ بولاتو اس نے منہ بسور کر اسے دیکھا۔

 

 

 

Introduction of Uzma Zia (Urdu Writer)

Uzma Zia is a contemporary Urdu writer known for her meaningful and thought-provoking literary work. She has contributed to Urdu literature through short stories, essays, and columns. Her writings mainly focus on social issues, human emotions, and the realities of everyday life, especially highlighting the experiences and struggles of women in society.

Uzma Zia’s writing style is simple, fluent, and emotionally engaging. She presents ordinary characters and common situations in a realistic manner, which allows readers to easily connect with her work. Through symbolism and deep observation, she raises important social questions and encourages readers to reflect on moral and social values.

As a writer, Uzma Zia holds a respected place in modern Urdu literature. Her work not only entertains readers but also creates awareness about social problems and human relationships. She is appreciated for her sensitivity, clarity of expression, and commitment to meaningful literature.

Complete EBOOK Paid Available PKR300/- only.

Inbox on

insta @uzmaziaofficial1

Total Episodes: 43

Ep.1-36 Published 

 

To read Full novel click on the link below:

 

 

 

 

 

 

 

 

Complete EBOOK Paid Available PKR500/- only.

Inbox on

insta @uzmaziaofficial1

 

 

Comments are closed

Related Posts