
Read more: Hayat Book Writer Uzma Zia
Hayat is a paid book written by Uzma Zia, centred around a criminal psychologist named Hayat. The story is shaped by various characters that alter her life trajectory. It blends crime elements with courtroom drama and social media news, alongside police investigations and other serious issues. Hayat’s fiancé is Qasim Khan, but her story ultimately concludes with Azlan Alam Shah, her greatest adversary. How does this enemy become a love interest? To order your copy, visit Instagram ID: Uzmaziaofficial1.
SneakPeak
اگلے ہی لمحے حیات کے موبائل پہ میسج بیپ ہوئی ۔ ”باجی۔۔ایک ایمرجنسی ہوگئی ہے ۔ویٹر کو بھی بھجوایا ہے ۔۔میں گاڑی میں باہر آپکا انتظار کررہا ہوں۔۔ پلیز جلدی آجائیں۔۔“ پیغام ذرامبہم اندازمیں تھا۔
اس نے فوراً سے اسے کال لگائی مگر دوسری طرف سے جواب موصول نہیں ہورہاتھا۔گمان ہورہا تھا کہ وہ اسے میسج کرنے کے بعد نمبر بند کرچکا ہے ۔اسی اثناء میں ویٹر کی طرف سے بھی اسے انٹرکام پہ کامل کے آنے کی اطلاع دی گئی۔
”یااللہ خیر۔۔۔“ اس کا دل خوف میں مبتلا ہوکررہ گیا تھا۔ کئی وسوسوں نے اسے آگھیرا تھا۔اس نے مینیجر سے اجازت لی اور وہاں سے نکلنے کی ہی کی۔
بھورے رنگ کی شال کندھوں تک اوڑھے بالوں کو کندھوں پہ پھیلائے وہ لان میں آئی۔ہاتھ میں موبائل پاؤچ تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں موبائل جس سے وہ بار بار کامل کو فون ملارہی تھی مگر بے سود۔وہ نہ تو اسکا فون اٹھارہا تھا اور نہ ہی اسکا کہیں کوئی نام و نشان نظر آرہا تھا۔اس نے تھوڑا سا آگے بڑھ کر اسے تلاش کرنا چاہا تو اسے اپنی گاڑی کی ہیڈلائٹ نظر آئی ۔وہ سمجھ چکی تھی کہ کامل گاڑی میں موجود ہے ۔تیز تیزقدم بڑھاتے ہوئے وہ گاڑی کی جانب آئی ۔گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا اور اسکی پچھلی نشست پہ آبیٹھی۔
”ہاں کامل؟کیا بات ہے ؟ فون کیوں نہیں اٹھارہے تھے ؟ سب ٹھیک ہے ؟“بیٹھتے ہی وہ اس سے بولی مگر گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ موجود شخص نے اسکو جواب دینے کی بجائے گاڑی کا گئیر گھمایا اور گاڑی کو ریس دے کر ہوائی جہاز کی طرح اڑالے گیا۔
”امتحان ختم ہوگئے؟ “
وہ خاموش رہا۔
جیسے ہی اسے گاڑ ی کی رفتار مزید بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی وہ چلااٹھی۔ ”کامل ۔۔کیا ہوگیا ہے ؟ تم ٹھیک ہو؟کیسی ایمرجنسی ہوئی ہے ؟اور یہ تم کس رخ میں گاڑی کو لے کرجارہے ہو؟ جواب تو دو۔۔“
جواب پھر سے نہ دیا گیا۔
”اوہ۔۔۔ہیلو۔۔۔ کچھ پوچھ رہی ہوں تم سے۔۔“ وہ ذرا آگے کو ہوکر بولی ۔ فرنٹ مرر سے اسکی کانچ سی بھوری مگر دلفریب آنکھیں دیکھ کر وہ ٹھٹھر کررہ گئی۔
”تم۔۔۔“ اسکی آنکھیں پھیل گئیں۔وہ اچھل پڑی تھی۔ ”یہ کیا پاگل پن ہے ؟ ؟ “ وہ اسے خوب سنا رہی تھی لیکن اسکی سماعت پہ کوئی اثر نہیں ہورہا تھا۔
”میں کہتی ہوں گاڑی روکو۔۔ اذلان۔۔سن رہے ہو مجھے؟؟ اذلان۔۔۔“ وہ اسکی نشست کو جھنجوڑ رہی تھی لیکن وہ دنیا ومافیہا سے بے خبر گاڑی کو بس دوڑائے جارہا تھا۔
”یقین مانو اگلے ایک منٹ میں تم نے اگر گاڑی نہ روکی تو ٹرسٹ می ۔۔میں کود جاؤں گی۔۔“ وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولی تو اس نے آناً فاناً گاڑی کے سارے دروازوں کا لاک بند کیا۔
لاک بند ہونے کی آواز اسکے کانوں میں پہنچی تو وہ چِلا اٹھی۔ ”یہ کیا بدتمیزی ہے ؟ چاہتے کیا ہو تم آخر؟؟“ وہ گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہی تھی مگر بے سود۔
”یہ میں تمہیں بتاچکا ہوں۔۔“ وارفتگی سے وہ بولا تو اسکا دماغ مزید پھول گیا۔
”تمہارا دماغ خراب ہوچکا ہے۔۔“
”نہیں۔۔ہوا تو نہیں البتہ ۔۔اگر تم سکون سے بیٹھی نہیں تو ۔۔کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔“ دھمکی آمیزلہجہ لیے اس نے جیسے تنبیہہ کی توخوف کے مارے اسکا سانس پھول سا گیا۔
گاڑی تیز رفتار کے باعث ہچکولے کھاتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی ۔گمان ہورہا تھا جیسے گاڑی پہاڑی سے نیچے ہی گرجائے گی۔
”گاڑی کی اسپیڈ کم کرو۔۔ دیکھ نہیں رہے سڑک پہ کتنی پھسلن ہے۔۔ “
”کیوں ڈر لگ رہا ہے ؟؟“ وہ ہنسا تو اس نے قہرآلودنگاہیں لیےلب بھینچےاسےدیکھا۔
اس نے بھی فرنٹ مرر سے اسے دیکھا۔اسکے چہرے پہ پھیلی سنسناہٹ دیکھ کروہ محظوظ ہوئے بناء نہ رہ سکا۔
”مارنا چاہتے ہو مجھے؟؟ “
اتنا سننا ہی تھا کہ یکدم اسکاپیر گاڑی کی بریک پہ آرُکا۔ اسکے دل میں درد کی ایک ٹیس اٹھی تھی ۔ اسکی بے اعتباری اسے گھائل کر گئی تھی ۔وہ اسی لمحے گاڑی سے باہر آیا اسکی طرف کا دروازہ کھول کر اسے بازو سے پکڑکرباہر نکالا۔ پہاڑوں سے گھِری خوبصورت سڑک پہ ایک دوسرے سےمتنفردولوگ دنیا و مافیہا سے بے خبرآمنے سامنے تھے ۔
”دیکھ رہی ہو مجھے۔۔۔ دیکھ رہی ہو۔۔کیا حال ہوگیا ہے میرا؟ میں وہ جو دنیا جہاں کی ہر چیز سے بے نیاز تھا۔دنیا کی ہر چیز کو حاصل کرنا میرے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔۔ لیکن تمہارے میری زندگی میں آنے سےمیں کہیں کا نہیں رہا ہوں۔۔ مررہا ہوں میں اندر سے ۔۔اور تم کہتی ہو کہ میں تمہیں مارنا چاہتا ہوں۔۔حیات ہو میری تم حیات خانم۔۔حیات۔۔ “ وہ اسکا بازو پکڑے اسے جھنجوڑ کر بولتا چلاجارہا تھا اور وہ منہ کھولے اسکا منہ دیکھے جارہی تھی ۔ اسکے اس شدید ردِ عمل کے لیےوہ ہرگز تیار نہیں تھی ۔اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی اذلان عالم شاہ ہے جو اس سے شدید نفرت کرتا تھا۔
آہستہ آہستہ اسکی گرفت اسکے بازوؤں سے ہلکی ہوتی گئی تو وہ اس سے چندقدم دورہوئی۔ آنکھوں میں بے شمار آنسو نمودار ہونے لگے جو اسکی آنکھوں سے متواتر بہتے ہوئے اسکے گالوں کو بھگو رہے تھے ۔تبھی وہ دوبارہ اس کے قریب آیا اور ہاتھ آگے بڑھا کر اسکی گالوں پہ بہنے والے آنسوؤں کو صاف کرنے کی کوشش کرنے ہی لگا کہ وہ چیخ اٹھی۔
”ہٹو پیچھے۔۔مت لگاؤ مجھے ہاتھ۔۔ گھٹیا ہو تم۔۔ پہلے میرے قاسم کو تم نے ماردیااور اب مجھے بیوقوف بناچاہتے ہو۔۔اب اور نہیں اذلان عالم شاہ۔۔اب اور نہیں۔۔“ اسکی گرجدار آواز کے ساتھ ہی بادلوں کی گرج بھی زور پکڑنے لگی ۔جیسے جیسے بادل گرجتے جارہے تھے اسکے اندر سنسناہٹ دوڑنے لگی جس کے باعث اسکی آنکھیں آنسوؤں میں ڈوب سی گئیں اور حلق بھاری سا ہوگیا مگر پھر بھی وہ بڑی ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کررہی تھی۔
”یہی تو میں کہہ رہاہوں۔اب اور نہیں۔۔ نہیں ہورہا مجھ سے برداشت۔۔نہیں ہورہایار۔۔۔“ وہ نحیف سی حالت میں قدرے لاچاری سے بولا۔
اسکے سامنے کھڑے شخص کاغرورپارہ پارہ ہورہاتھا۔کسی سائل کی طرح وہ اس سے بھیک مانگ رہاتھامگرحیات کو اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑرہاتھا۔ ”تمہاری کسی بھی بات میں اب حیات خانم نہیں آنے والی۔۔سمجھے۔۔“ لہجے میں بلاکی جرات تھی۔
وہ کئی بار یہ کہہ چکی تھی ۔اسکانشترآمیزیہ جملہ اسکےدل کوکتنازخمی کررہاتھاکاش وہ جان پاتی۔وہ اندرتک گھائل ہوچکاتھا مگر اسے اس پہ ذراسابھی رحم نہیں آرہاتھا۔
بادل پھرسے زورسے گرجاتو وہ ایک بارپھرسے سنسنائی مگرحوصلہ گویاابھی بھی برقرارہی تھا۔اسکی کیفیت کو وہ اچھےسے محسوس کرسکتاتھا۔آناً فاناً بارش ہونے لگی۔دونوں بارش میں خوب بھیگنےلگے۔آسمان سے برستی بارش بھی آج اسکےآگ آلودلہجےکو ٹھنڈاکرنے کے لیے ناکافی تھی۔
”تم نے آج جوحرکت کی ہے اسکے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔سمجھے۔۔“ کہتے ہی بناء اس بات کی پرواہ کیے کہ بارش زوروشورسے ہورہی ہے ،وہ تن فن کرتی آگے بڑھی۔
”کہاں جارہی ہو؟؟“
بارش کے شور میں اسے اسکی اونچی آواز بھی کم سنائی دی تھی ۔ایک پل کے لیے وہ رُکی مگر پھر اگلے ہی پل لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ آگے بڑھی۔
تیزتیزقدم بڑھاتا ہوا وہ آگے بڑھا۔ ”حیات؟؟؟کہاں جارہی ہو؟؟حیات؟؟رکو۔۔۔ کیا پاگل پن ہے یہ۔۔“
”میں چلی جاؤں گی خود۔۔نہیں جانا تمہارے ساتھ۔۔“ وہ ایک ہی جھٹکے سے پلٹی اورتھرتھراتے ہونٹوں سے کاٹ دارلہجے میں بولی۔
اذلان نے سرتاپااسکی جانب گہرے غور سے دیکھا ۔اسکا پوراجسم سردی کی شدت سے کانپ رہاتھامگر وہ اسکے سامنے خودکو آہنی دیوارثابت کرنے پہ تلی ہوئی تھی۔وہ جو ابھی اسکی منت کررہاتھااب عاجزآچکاتھا۔اگلے ہی لمحے اسے کچھ سمجھ نہ آیاتواس نے یکدم اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے گاڑی میں جا بٹھایا۔وہ ہاتھ پاؤں مارتی رہی لیکن اسکی گرفت کے آگے وہ کمزور پڑ ہی گئی تھی ۔
”بدتمیز ہو تم۔۔“ زہرخندلہجہ لیےوہ بولی۔
”تم میرے بارے میں کیا رائے رکھتی ہو ۔۔اچھے سے جانتا ہوں۔۔ لیکن اس وقت موسم ٹھیک نہیں ہے ۔۔بہتر یہی ہے کہ خاموشی سے بیٹھو۔۔“ کہتے ہی وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ آیا ۔
بیٹھتے ہی اس نے اپنی واٹر پروف جیکٹ اتاری اور دوسری نشست پہ موجود گرم شال کندھوں پہ اوڑھی۔ اس سے پہلے وہ گاڑی چلاتاو ہ بولی ۔
”موسم کی جسٹیفیکیشن دینے کی ضرورت نہیں تمہیں۔۔تم تو شاید پتھر کے بنے ہو ۔۔کسی چیز کا بھی تم پہ اثر ہی نہیں ہورہا۔۔“ آوازمیں نمی کی لغز ش تھی۔ہونٹ بری طرح سے کانپ رہے تھے۔
وہ گاڑی کاگیئر لگاتے لگاتے رُکا تھا۔ ”میرا پگھلنا تمہارے پگھلنے سے منسوب ہے۔۔“
اسے اسکا ہر مکالمہ سستالگا تھا ۔دانت بھینچتے ہوئے وہ اسے بس دیکھ ہی سکتی تھی ۔ ”کچھ کہو گی نہیں۔۔“ فرنٹ مرر سے اسکے آگ بگولہ چہرے کو دیکھتے ہوئے وہ نیم انداز میں مسکرایا ۔
وہ بری طرح سے کانپ رہی تھی مگر اسکےسامنےخودکونارمل کرنے کی ہرممکن کوشش کررہی تھی۔
”جیکٹ اتاردو۔۔خاصی گیلی ہوگئی ہے۔۔ٹھنڈ لگ جائے گی۔۔“
”تم سے مطلب۔۔گاڑی چلاؤ۔۔۔“ وہ غصہ سے پھنکاری تھی۔
باہر بارش کی بوندیں سردی کی شدت میں اضافہ کررہی تھیں تو یہاں وہ اندر جل بھن رہی تھی ۔اسکی اشتعال زدہ آنکھیں دیکھ کر وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگا ۔اسکی اس غیرمعمولی حرکت پہ وہ خوب پیچ وتاب کھارہی تھی۔خودکو ضبط کرنے کے باوجودوہ ضبط نہیں کرپارہی تھی۔
”سامنے دیکھ کر چلاؤگے؟؟“ عاجزنظروں سےوہ جھنجلاکربولی تھی مگر اسکی نگاہیں بدستوراسی پہ زیادہ اورسامنے کم تھیں۔
تبھی اس نے اپنی آنکھیں اس پر سے ہٹاکر بند کرلیں اور نشست کی پشت کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھ گئی۔
کچھ دیرکی خاموشی ہوئی تھی۔
سردی کے مارے اسکے بجتے دانتوں کی آوازصاف تھی۔اپنے ہاتھوں کو جیکٹ میں دیئےوہ خود میں ہی سموئے بیٹھی تھی۔
”حیات۔۔ تم ٹھیک ہو؟“ اسکی حالت دیکھ کر اب وہ سہما۔
”تم جو کررہے ہو وہ ٹھیک ہے کیا؟“ ذراسیدھے کو ہوکربیٹھتےہوئےاس نے برجستگی سے پوچھا۔
”نہیں۔۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔۔جانتا ہوں لیکن ۔۔“
وہ کہتے کہتے خاموش ہوا۔اس نے بھنویں سکیڑ کر اسے دیکھا۔کچھ دیر توقف کے بعد وہ دوبارہ بولا۔
”اس وقت میرا دل و دماغ میر ے بس میں نہیں۔۔ “
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔ ”دل و دماغ تمہارا کنٹرول میں نہیں۔۔تو میں کیا کروں؟ میرا کیا قصور ہے اس میں؟؟“ زچ ہوکر وہ بولی۔
”وجہ تم ہو ناں حیات۔۔“ رسانیت سے بولتے ہوئے وہ روہانسا ہوا۔
”نام مت لو اپنی زبان سے میرا۔۔“ حقارت بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے وہ بولی۔
”تمہار ا نام میرے دل پہ لکھا جاچکا ہے ۔۔زبان پہ تو آئے گا ہی۔۔“ دوبدوجواب آیا تھا۔
”سستے عاشقوں کی طرح مجھ پہ لائن مارنے کی ضرورت نہیں ۔۔مہربانی کرکے گاڑی واپس ہوٹل کی طرف لو۔۔“دانت پیستے ہوئے آخر اس نے التجائیہ انداز میں کہا۔
”عاشق نہیں ہوں ۔۔دیوانہ ہوں تمہارا۔۔“
اس نے اپنی دونوں کن پٹیوں پہ ہاتھ رکھا اور آنکھیں موند لیں۔اسکاجسم ابھی بھی بری طرح سے کانپ رہاتھا۔اسکی حالت کے پیشِ نظر اذلان نے گاڑی کو واپس موڑا اورپی سی ہوٹل کی طرف نکل پڑا۔
بارش زوروشور سے ہورہی تھی جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہونے لگا تھا ۔ رستے میں پھسلن کے باعث ٹریفک کی نقل و حرکت میں خاصی دشواری پیش آرہی تھی۔ فوج کی بھاری تعداد میں نفری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے وہاں آپہنچی تھی ۔ رستے میں رکاوٹیں کھڑی کیے وہ لوگوں کو اسی رستے سے واپس بھیج رہے تھے جہاں سے وہ آرہے تھے ۔ پہاڑوں پہ اب بارش کے ساتھ ساتھ برفباری بھی ہونے لگی تھی ۔
اذلان نے گاڑی کو روکا اورگاڑی کے دروازے اپنا سر باہر کو نکال کر سارا معاملہ سمجھنا چاہا۔ اسکی پچھلی نشست پہ بیٹھی حیات بھی متذبذب نظروں سے گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھنے لگی ۔
فوجی کا گاڑی کو پیچھے کی جانب لے جانے کا اشارہ اسکی سمجھ میں آگیا تھا۔وہ چلا اٹھی۔ ”یہ سب کیا ہے ؟ ہم واپس نہیں جائیں گے۔۔ تھوڑا سا ہی تو دور ہیں ہم۔۔“
اسکے الفاظ اسکے کانوں میں پڑچکے تھے ۔ اس نے دوبارہ سے سر باہر نکال کر آرمی والوں سے التجا کی ۔ ”دیکھیں سر۔۔ہمارا پہنچنا بہت ضروری ہے۔۔ ہم احتیاط سے جائیں گے۔۔“
اسکی اونچی آواز بھی رم جم برستی بارش میں کم سنائی دے رہی تھی ۔ فوجی نے اپنی واٹر پروف ہُڈ سر سے تھوڑا پیچھے سرکائی اور چھتری لیے آگے بڑھا۔
”جناب۔۔ کبھی نہ پہنچنے سے بہتر ہےدیرسے پہنچنامگر خیریت سے پہنچنا۔۔آگے بہت پھسلن ہے۔۔برفباری کی وجہ سے آگے کا سارا رستہ مزید خراب ہوگیا ہے۔۔آپ واپس چلے جائیں۔۔ۙ“
”اسے سمجھ نہیں آرہا کہ ہم واپس نہیں جاسکتے۔۔ حد ہے۔۔واپس کہاں جانا ہے ؟“ وہ اپنا سر پیٹ رہی تھی جبکہ وہ کھسیانی انداز میں مسکرارہا تھا۔
”کچھ کہہ رہی ہوں تمہیں۔۔“
”ہا۔۔ہاں۔۔ہاں۔۔ “اس نے پلکیں جھپکائی تھیں۔ ” میں نے کہا تو ہے اسے۔۔ “
آرمی والے نے جیسے ہی دوبارہ اشارہ کیا تو اسے چاروناچارگاڑی کو واپس موڑنا ہی پڑا۔ اسے ایسا کرتا دیکھ حیات کی آنکھیں پھیل سی گئیں۔
”کہاں جارہے ہو؟ پاگل ہو تم؟“ ایک لمحے کے لیے تو اسے لگاکہ وہ جلد اپنادماغی توازن کھودینے والی ہے۔
”تم ہی بتاؤ اب؟کیا کروں میں ؟؟“ اس نے گاڑی کارخ موڑا اور اسے دوبارہ سے نتھیاگلی کی سڑک پہ لے گیا۔
وہ گاڑی کی نشست پہ بیٹھی اب غصہ سے اپنی انگلیاں کاٹ رہی تھی ۔اسکے اندرایک لاوا ابل رہا تھا جس نے اس کے اندرسردی کی شدت کوتو کسی حدتک کردیاتھالیکن دماغ کی نسیں بری طرح سے پھولاگیاتھا۔گمان ہورہا تھا کہ عنقریب اسکی جان نکلنے والی ہے۔ وہ بمشکل ہی سانس لے پارہی تھی۔
بیس منٹ کی مسافت کے بعد جیسے ہی اسے رستے میں ایک ریسٹ ہاؤس نظر آیا تو اس نے گاڑی کی وہاں بریک لگائی۔
”لو پانی پی لو۔۔“ ڈیش بورڈ سے بوتل اٹھاکر اس نے ہاتھ پیچھے کی جانب کیے اسے دی لیکن اس نے ناگواری سے اسے دیکھ کر بوتل کو جھٹک دیا۔
”پانی سے کیا ناراضی ہے اب؟“ وہ روہانسا ہوا۔
”مجھے کہیں نہیں جانا۔۔ یہیں ہوں۔۔رستہ جیسے ہی ٹھیک ہوگا میں چلی جاؤں گی۔۔“ اس نے جیسے ہی اپنا فیصلہ سنایا وہ لب کاٹ کر رہ گیا۔
اسکی حالت اسکے سامنے تھی جسے دیکھ کروہ گہرے تفکرمیں مبتلاتھا۔آخرکچھ دیرتوقف کے بعد وہ بولا۔ ”بھروسہ رکھو مجھ پہ حیات۔۔ دیکھو موسم ٹھیک نہیں ہے۔تمہارے کپڑے بھی خاصےگیلےہوگئےہیں بیمارپڑجاؤگی یار۔“ لہجے میں اپنائیت کوٹ کوٹ کربھری تھی جواسکےلیے اب ناقابلِ ہضم ہورہی تھی۔
”تم سے مطلب؟“ منہ پھیرے وہ کاٹ دارلہجے میں بولی۔
”حیات۔۔پلیز۔۔دیکھو۔۔ اندھیرا بھی خاصا گہرا ہورہاہے۔۔یقین مانو ۔۔بحفاظت تمہیں واپس پہنچانا میری ذمہ داری ہے۔۔پلیز۔۔یوں نہ کرو۔۔“ وہ رخ موڑے منہ بنائے اس کی بات کو ان سناکیے بیٹھی رہی۔
اس نے عاجز بھری نگاہوں سے اسے دیکھا اور گاڑی سے باہر آکر ڈکی سے چھتری نکالی اور پھر اسکی طرف کا دروازہ کھولا۔
”پلیز۔۔۔آجاؤ۔۔“
”کہہ چکی ہوں تمہیں۔۔نہیں آنا مجھے۔۔“ ضدکی وہ پکی تھی اور یہ بات وہ بھی اب تک اچھے سے سمجھ گیاتھا۔
”مجھ پہ بے یقینی تو سمجھ میں آرہی ہے۔خود پہ کیسی بے یقینی ہے تمہیں؟“اس نے اسکی انا پہ جیسے ہی وار کیا تو وہ ہار ہی گئی۔خونخوارنگاہیں لیے اس نے اسے دیکھا۔
وہ چھتری ہاتھ میں لیے اسکے باہرآنے کا منتظرتھا۔لب ایک دم ساکن تھے مگرآنکھوں میں ایک للکارتھی۔اسکے چہچہاتےللکارتےچہرےکو دیکھ کرآخر پیر پٹختے وہ باہر نکل آئی۔ اس نے ہاتھ میں لی چھتری کا سایہ اسکے سر پہ کیا ۔بھلے ہی چھتری کا سایہ اس پہ تھا لیکن پھر بھی بارش کے قطرے دونوں کے کپڑوں کو بھگو رہے تھے۔وہ کسی خادم کی طرح اسکے پیچھے پیچھے چل رہا تھا جبکہ وہ اسکے آگے آگے چلتے ہوئے اپنے دل میں اٹھنے والے وسوسوں سے الجھ رہی تھی ۔آنسوؤں کے غبار سے اسکا حلق بھاری ہوگیااورآنکھیں آنسوؤں میں ڈوبتی چلی گئیں۔
٭٭٭٭٭٭
و ہ اپنے دشمن کے ساتھ پہاڑوں سے گھِری وادی میں تھی جہاں اس نے کبھی قاسم کے ساتھ آنے کا خواب دیکھا تھا۔ خواب کی تعبیر اس صورت میں ہوگی یہ اس نے کبھی سوچا نہیں تھا۔بارش کے ساتھ ساتھ برفباری میں بھی اضافہ ہورہا تھا ۔بادلوں کی گرج سے وہ اندر ہی اندر سہم رہی تھی ۔کمرے میں وہ بھلے ہی تنہاء تھی لیکن کمرے کی تنہائی اسے ڈس رہی تھی ۔ بادلوں کی گرج اور بارش کا شوراسکے کانوں سے ہوتے ہوئے دل میں ہلچل مچارہے تھے۔وہ سردی کی شدت سے تھرتھرکانپ رہی تھی۔اس نے ہاتھ اٹھاکرسینے پہ رکھا ہی تھا کہ اسے اپنی جیکٹ گیلی محسوس ہوئی۔ ”اوہ۔۔۔۔“ اسے یادآیاکہ اس نے اسے تو اتاراہی نہیں۔
اس نےزیبِ تن کی بھورے رنگ کی جیکٹ کو اتارکرکرسی کی پشت سے ٹکایااور اپنی آستین ٹھیک کرتے ہوئے شال اوڑھی جو نیم گیلی تھی۔سردی کے باعث وہ تھرتھرکانپ رہی تھی ۔دونوں ہاتھوں کو گول کیے اس نے منہ کے قریب کیا اور ہوا بھرتے ہی اپنے ہاتھوں کو گرمائش دیناچاہی۔کچھ دیر کی تگ ودوکے بعد اسکی سردی ی شدت میں تیس فیصد کمی آئی تو وہ کمرے میں موجوکھڑکی کی جانب بڑھی۔
کمرے کی کھڑکی سے ٹیک لگائے وہ ریسٹ ہاؤس کے باہر سے رات کی تاریکی میں نظر آنےوالے منظر کو دیکھ رہی تھی جو پیلے بلبوں کی روشنی میں خاصا دلفریب لگ رہا تھا۔جیسے ہی اسے کمرے کے دروازے میں کسی کے چابی گھمانے کی آواز سنائی دی تو وہ ہل کررہ گئی ۔
وہ ہاتھ میں چند کپڑے لیے اندر داخل ہوا۔اسے جیسے ہی کھڑکی کے پاس کھڑا دیکھا تو وہ مسکرایا۔”شکر ہے جیکٹ اتاردی اس نے۔۔“ اسے اپنی جانب مسکراتا دیکھ کر حیات نے کندھے اچکاکر آنکھوں کے اشارے سے وجہ جاننے کی کوشش کی تو اس نے نفی میں سرہلایا۔
”یہ کپڑے۔کرتا اور شال ہے۔۔“ وہ بس اتنا ہی بول سکا تھا۔اس نے اسے بغور دیکھا جو خود بھی کپڑے تبدیل کرکے آیا تھا۔
”کیا؟؟“ وہ کاٹ دار لہجے میں بولی۔
”بارش سے کپڑے گیلے ہوگئے ہیں۔۔ٹھنڈ لگ جائے گی تو۔۔“
”نہیں چاہیئے۔۔ “
”دیکھو۔۔بیمار ہونے سے بہتر ہے ضد چھوڑواور۔۔“
”یہاں تک لے آؤ ہو مجھے ۔۔اب اور کیا چاہتے ہو تم ؟“ وہ لب بھینچ کر بولی تھی۔
”میں کیا چاہتا ہوں ۔۔بتا تو چکا ہوں۔۔“ اسے تنگ کرنے کی خاطر وہ مضحکہ خیز انداز سے بولا۔
”بڑی ہنسی آرہی ہے۔۔ہاں؟؟“
”بحث نہ کرو۔۔پلیز۔۔کپڑے بدل لو۔۔میں نہیں چاہتا کہ تم بیمار پڑو۔۔“
”تو سب بندوبست تم نے پہلے ہی کیا ہوا تھا؟“ تشکی آمیز نظروں سے وہ بولی ۔
”افف ۔۔تمہاری یہ بے یقینی۔۔“ وہ قدرے تاسف سے بولا۔ ” جو سمجھنا ہے سمجھو۔۔“ وہ خاصا تنگ آچکا تھا۔ ” کھانا لینے جارہاہوں۔۔تب تک کپڑے بدل لینا۔۔“ کہتے ہی یہ جا وہ جا۔
”تماشا بنا رکھا ہے مجھے۔۔ چھوڑوں گی نہیں تمہیں۔۔“ اسکی بے نیازی اور بے پرواہی دیکھ کر وہ خوب آگ بگولہ ہورہی تھی ۔اس نے بستر پہ رکھے کپڑو ں کو اٹھایا اور زمین پہ دے مارا۔کڑھائی اور ستارے موتی سے بنا جوڑااورشال اب زمین کی دھول چاٹ رہا تھا لیکن اسکی بے نیازی ابھی بھی قائم تھی ۔
٭٭٭٭٭٭٭
”کتنا عرصہ ہوا شادی کو بچے؟؟“ یہ خان بابا نے پوچھا تھاجو ٹرے میں کھانے کے لوازمات رکھتے اب تھرماس اور چائے کے دوکپ جوڑرہے تھے ۔ انکا سوال سنتے ہی وہ پانی پیتا پیتا رُکا ،ہاتھ میں موجود پانی کا گلاس یکدم نیچے آگرا۔شیشے کا گلاس زمین پہ گرتے ہی پارہ پارہ ہوچکاتھا۔
اپنے منہ میں موجود پانی کووہ بمشکل ہی نگل پایاتھا۔ ”جی؟؟؟؟؟“ اسکی آنکھیں باہر کو آگئیں۔
”بیٹی کو فراک پسند آیا؟؟“
”جی۔۔“ اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے اس نے یک حرفی جواب دیااور جھک کر کانچ کے ٹکروں کو اکٹھاکرنے لگا۔
”ارے بچہ۔۔۔رہنے دو۔۔زلفی کرلیتا ہے۔۔“انہوں نے زلفی کی طرف اشارہ کیا جو دھلے برتنوں کو خشک کرتے ہوئے الماری میں جوڑ رہا تھا۔ زلفی نے آگے بڑھنا ہی چاہا تھا کہ اتنی دیر میں وہ گلاس کے ٹوٹے ٹکڑوں کو اکٹھا کر چکا تھا۔اچانک ایک باریک سا کانچ کا ٹکڑا اسکے داہنے ہاتھ میں چبھ گیا۔خون کا ایک فوارہ پھوٹ نکلا تھا۔ خان بابا نے فوراً سے آگے بڑھتے ہوئے اسکے ہاتھ کی ہتھیلی سے کانچ کا چبھا ٹکڑا نکالا۔
”ہم آپ سے کہہ رہا تھا کہ زلفی کرلیتاہے۔۔اوہ۔۔ہو۔۔۔“ انہوں نے فوراً سے اسکے ہاتھ پر سے بہنے والا خون صاف کیا ۔ زلفی بھاگتا ہوا سفید کپڑا اور مرہم لے آیا جس سے انہوں نے اسکی عارضی پٹی کی۔
”ٹرے زلفی رکھ آتا ہے۔۔“
”نن۔۔نہیں۔۔میں لے جاؤں گا۔“
”نہیں زلفی۔۔۔زلفی جاؤ۔۔۔ “ خان بابا نے حکمیہ انداز میں جیسے ہی اسے کہا تو اس نے اپنا کام چھوڑا اور فوراً سے ٹرے ہاتھ میں لیے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر تک آگیا۔
اذلان نے کمرے کا دروازہ کھولا تو زلفی اندر داخل ہوا۔ ٹرے اس نے میز پہ رکھا اور واپس جانے ہی لگا تو اسکا دھیان زمین پہ پڑے کُرتے اور شال پہ پڑا۔ وہ آگے بڑھا او ر جھک کر کُرتا اور شال زمین سے اٹھاتے ہوئے اذلان کی طرف آیا جو اس سے نظریں چرارہا تھا۔
”صاحب۔۔بی بی کو یہ نہیں پسند تھا تو بتادیتے۔۔ ہم مرجینا کا دوسرا جوڑا آپکو لادیتا۔۔“
”نہیں ۔۔یہ بات نہیں۔۔وہ اصل میں برتھ ڈے تھا ناں آج انکا۔۔تو کیک کا بندوبست نہیں ہوا اس لیے ناراض ہوگئیں یہ۔۔اور اس لیے۔۔بس۔۔“ اس نے بہانہ گڑھا ہی تھا کہ حیات نے آنکھوں میں غصہ لیے قدرے برہمی سے اسے دیکھا جو آنکھوں کے اشارے سے اب اسکی منت کررہاتھا۔
وہ سردی کی شدت سے کانپ رہی تھی لیکن اذلان کی اس خود ساختہ بات پہ اب اسکاپارہ چڑھنے لگا ۔غصہ کے مارے اسکا درجہ حرارت آسمان کی بلندی کو چھورہا تھاجسے وہ سردمزاجی سے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہی تھی۔
”ہاں۔۔لیکن زمین پہ پھینکنے کی کیا ضرورت تھی بھلا۔۔خیر۔۔“اداسی سے منہ پھلائے وہ وہاں سے جانے کی غرض سےدروازے کی جانب بڑھا ہی تھا کہ حیات سرعت سے آگے بڑھی۔
”نہیں۔۔ اچھا ہے۔۔ لاؤ۔۔دو۔۔“ اس نے فوراً سےجوڑا اسکے ہاتھ سے لیا اور پیار سے اسکا گال تھپتھپایا۔جیسے ہی اسکا دھیان اذلان پہ گیا اسکے ہاتھ پہ بندھی پٹی کو دیکھ اس نے اسے گہرے تاثر سے دیکھامگر کچھ بھی پوچھنے سے گریز ہی کیا۔
زلفی وہاں سے جاچکا تھا۔
”تم چینج کر لو ۔۔۔“ کہتے ہی وہ جانے لگا تو وہ بولی۔
”ضرورت نہیں۔۔“
وہ جاتے جاتے رُکا۔ اس نے قدرے حیران کن نگاہوں سے اسے دیکھا۔کیا وہ اسکے سامنے کپڑے بدلے گی؟ اسکے دماغ میں اسخرافاتی سوال نے ابھی جنم لیا ہی تھا کہ اس نے اپنا سر جھٹک دیا۔
”زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔۔“ اس نے کرتے کو بیڈ پہ رکھا اورشال کو کھولاتو وہ منہ پلٹ کر کھڑا ہوگیا۔
جیسے ہی اس نے اپنی گیلی شال کو اتارکر مرجینا کی شال کو اوڑھا تو چلتے چلتے خود اسکے قریب آئی۔اب حیرت اسے ہورہی تھی کہ آخر اذلان عالم شاہ جیسا انسان کیسے رخ پلٹ کر کھڑا ہوسکتا ہے ؟وہ بھی اس صورت جب وہ صرف شال اوڑھ رہی تھی۔
جیسے ہی اسے اپنے پاس اسکے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی تو وہ پلٹا۔اسکے گیلے بالوں کی لَٹیں اسکے رخساروں کو چھورہی تھیں۔ایک لمحے کے لیے وہ اسکے چاند کی مانند سفید روشن چہرے میں کھو گیامگر اگلے ہی لمحے اس نے آئی برو اچکا کر سر ہلایا تو اسکے حواس بحال ہوئے۔
”کھانا کھالو۔۔“ کہتے ہی وہ اسکے سامنے سے ہٹ گیا۔
اسکا دوبارہ دھیان اسکے ہاتھ کی طرف گیا جس پہ بندھی پٹی سے خون رِس رہا تھا۔اسکے دل میں ہلچل مچی توضرور تھی لیکن وہ اسکے سامنے خود کو کسی بھی صورت کمزور پڑنے نہیں دے سکتی تھی۔دماغ ویسے ہی خاصا الجھا ہوا تھا اور اوپر سے یہ سب۔۔اسکا دماغ کھول رہا تھا۔صبح اس نے صرف چائے اور بسکٹ کا ہی ناشتہ کیا تھا اسی لیے ابھی بھوک کے باعث اسکا سر چکرارہا تھا۔کھانے کی ٹرے میں رکھا گیا گرما گرم قورمہ بھاپ اڑارہا تھا جسکی خوشبو سے ناچاہتے ہوئے بھی وہ میز پہ رکھے گئے ٹرے کی جانب بڑھی۔ روٹی کا ایک نوالا توڑتے ہی اس نے شوربے میں ڈبو کر کھایا ۔ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا۔ اسے ایسا کرتا دیکھ کر اذلان کی ہنسی نکل گئی۔ ”پیٹ خالی تھا میڈم کا اسی لیے دماغ بھی خالی تھا۔“ تمسخریہ انداز میں اس نے خود گوئی کی ۔
دوسری طرف حیات کی انرجی بحال ہونے لگی تھی ۔تبھی اسے خیال آیا کہ وہ تو وہیں کھڑا ہے۔اس نے اسکی جانب دیکھا جو پہلے سے ہی اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔
”کھانا کھالو۔۔“ اس نے قدرے پرسکون ہوکر کہا تھا۔
”نہیں ۔۔تم کھاؤ۔۔بعد میں ۔۔بعد میں کھالوں گا۔۔“ کہتے ہی وہ کھڑکی کی جانب بڑھا۔ اب ہلکی ہلکی بونداباندی ہورہی تھی۔
اذلان جیسا انسان آخر کیسے ایسا ہوسکتا ہے ؟اسکا بچا کھانا وہ بعد میں کیسے کھاسکتا ہے ؟ وہ انسان جس نے ہمیشہ برینڈ پہنا ۔۔برینڈ کھایا ۔۔نازونخرہ ہمیشہ اسکے ماتھے پہ چمکتا تھا لیکن آج وہ سب خاک ہوچکاتھا۔ کیا یہ سب واقعی اسکے لیے ہے؟ اسکی ہنوز نگاہیں اسی کی جانب تھیں جو اپنے ہاتھوں پہ بندھی سفید پٹی کو بائیں ہاتھ سے کھولنے کی کوشش میں پٹی سے الجھ رہا تھا۔اسکا دل اسکے لیے پگھلنےلگا تھاکہ اسکے ہاتھ سے رستہ خون دیکھ کرقاسم کے سینے سے بہتا خون یکدم اسے اپنے ہاتھوں میں دکھائی دیا۔ابھی یہی نہیں اسکی آنکھوں کے سامنے بدر صاحب کے سینےسے بہتا خون آگیا۔اس نے جھٹ سے آنکھیں جھپکائیں اور تیز تیز قدم بڑھاتے ہوئے اسکی جانب آئی۔ ہاتھ آگے بڑھا کر اس نے اسکے ہاتھ پہ بندھی پٹی کو کھولا۔اسکے انداز میں اپنے لیے پرواہ یکھ کر وہ چونک اٹھا۔
”رہنے دو۔۔میں کرلوں گا۔۔“ اس نے مزحمت کی لیکن وہ پھر بھی ٹس سے مس نہ ہوئی۔
پٹی کھولتے جیسے ہی وہ اپنے دوپٹے سے اسکی ہتھیلی پر سے بہتا ہوا خون صاف کرنے لگی تو اسکی حیرانی میں مزید اضافہ ہوا۔اسکے ہاتھ سے رستا خون دیکھ کراس پہ ایک عجیب سی کپکپی طاری ہونے لگی تھی ۔ اسکی حالت دیکھ کر وہ بھی گھبرا گیا تھا۔
”حیات رہنے دو۔۔میں کرلوں گا۔۔“ اس نے مکرر کہا لیکن وہ لمحہ بھر بھی پیچھے نہیں ہٹی تھی۔
”جانتے ہو۔۔قاسم کا خون بھی میرے انہی ہاتھوں میں تھا۔ آخری سانس تک اس نے میری حفاظت کی لیکن میں۔۔میں اسکے لیے کچھ نہ کرسکی اور ماموں جان۔۔ وہ بھی بے موت مارے گئے۔۔جب بھی خون دیکھتی ہوں تو اپنے ہاتھوں پہ لگا ان کا خون یاد آجاتا ہے۔۔ایسا لگتا ہے جیسے میں ہی انکی قاتل ہوں۔۔ “ اس پہ ایک عجیب سی کپکپی طاری ہوئی جس سے اسکی زبان بری طرح سے لڑکھڑانے لگی۔
”اور۔۔تم۔۔“ اس نے تیزی سے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسوؤں کو صاف کیاجوگالوں پہ لڑھک رہے تھے۔
”اور تم۔۔ تم نے مجھے بچانے کی کوشش کی اور ۔۔“ ضبط کے باوجود بھی وہ خود پہ قابو نہ رکھ سکی۔
اس نے ہاتھ آگے بڑھاکر اسکے آنسوؤں کو صاف کرنا چاہا لیکن رُک گیا۔
”کیوں کیا تم نے ایسا؟ کیوں؟ مجھے ہرانے کے لیے تم نے اپنی جان کی بازی لگادی؟ کیوں؟؟“
اس کی بے یقینی اور بے اعتباری اب بھی قائم تھی ۔ اس نے تلملا کراپنا ہاتھ اسکے ہاتھ کی گرفت سے نکالا۔
”تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں نے یہ سب صرف تمہیں ہرانے کے لیے کیا؟؟“
اس نے اسکا ہاتھ دوبارہ سے پکڑنا چاہا جس میں سے خون ابھی بھی رِس رہا تھالیکن اس نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔
”تمہیں اس بہتے لہو کی فکر ہےلیکن جو لہوتمہاری اعتباری کی وجہ سے میرے دل کی سرزمین پہ بہہ رہا ہے اسکا کیا؟“ اس نے سوالیہ نگاہیں اسکی آنکھوں میں گاڑھتے ہوئے بے حداذیت سے پوچھا۔
اس نے دوبارہ سے اسکا ہاتھ پکڑا اورقریب رکھی کرسی کی پشت سے ٹکائی اپنی جیکٹ کی جیب سے اپنا سرخ رومال نکال کر اسکے ہاتھ پہ ذرا مضبوطی سے باندھا جس سے اسکی ہتھیلی پہ بہتا لہو کسی حد تک رُک سا گیا۔
”یہ ہرانا نہیں تو اور کیا ہے اذلان عالم شاہ!تم نے مجھے بچانے کی کوشش بھی کی تو صرف میرا دل جیتنے کے لیے۔تم پروف کرنا چاہتے تھے کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے اور بس۔۔ “
”مطلب کیا ہے اس بات کا؟؟“ وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے وہ سمجھ نہیں پارہا تھا۔وہ خاصا الجھ چکا تھا کہ اسکے دماغ کی نسیں پھول گئیں۔
”مطلب صاف اور واضح ہے۔۔تمہیں محض گولی لگی ۔۔ لیکن تمہیں ہوا تو کچھ بھی نہیں۔۔بالکل ٹھیک ہو۔۔ٹھیک حالت میں کھڑے ہو میرے سامنے۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کوئی اپنی موت کا ڈرامہ کیسے کرسکتا ہے ؟کیسے؟؟ “اسکی آواز بھِرائی اورآنکھیں آنسوؤں سے ڈوب سی گئیں۔
” لیکن تم۔۔تم تو اذلان عالم شاہ ہو ناں۔۔جو چیز تمہارے لیے چیلنج بن جائے تم اسے ہرانے کے لیے اپنی جان پر سے بھی گزرنے سے گریز نہیں کرتے۔۔“ وہ بے ضبط بے اختیار بناء سوچے سمجھےبولتی چلی گئی ۔اسکے الزامات کی بوچھاڑ وہ برداشت نہیں کرپارہا تھا۔
وہ اسے دھتکارے یہ تو وہ برداشت کرسکتا تھا لیکن وہ اسکی محبت پہ شک کرےیہ برداشت کرنا اسکے بس سے باہر تھا۔
اسکی سانس ساکن ہوکر رہ گئی تھی ۔وہ ساکت حالت میں کھڑا اسکا منہ دیکھنے لگا تھا۔وہ اس حد تک اس سے متنفر ہوسکتی ہے اسے واقعی
اندازہ نہیں تھا۔اگلے ہی لمحے اس نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی قمیص کی جیب میں ڈالا اور پسٹل نکالتےہی اسکا ہاتھ اپنی جانب کھینچ کراس پہ پسٹل کو بڑی قوت سے رکھا۔
”لو۔۔ اب کر لو یہ حسرت پوری۔۔ “
اسکی طرف سے اس ردِ عمل کے لیے وہ ہرگزتیارنہ تھی۔اسکے ہاتھ کپکپانے لگے تھے ۔وہ حیات خانم جو کبھی ان چیزوں کو بے خوف وخطر چلایا کرتی تھی آج اسکو پکڑتے ہی خوف میں مبتلا ہوکر رہ گئی تودوسری طرف وہ اسکے سامنے کھڑااسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گولی چلنے کا انتظارکررہاتھا۔
”کم آن۔۔ شوٹ می۔۔“ اسکے ہاتھ میں موجود پسٹل کواپنے ماتھے سے لگاتے ہوئے وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈا ل کر ذرا نیچی آواز میں چیخ کر بولامگر بے سود۔ اسکا کہا ایک ایک لفظ اسکی سماعت سے ٹکرانے سے قاصرہی تھا۔
البتہ حیات کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو وہ اچھے سے محسوس کرسکتا تھا تبھی اس نےاپنے دونوں ہاتھ اوپر کیےاورالتجائیہ انداز میں بولا۔ ”کم ۔۔آن۔۔حیات۔۔کم آن۔۔شوٹ می۔۔“
گھبراہٹ کے مارے اب اسکا سانس پھول گیاتھا کہ آناً فاناً پسٹل اسکے ہاتھ سے نیچے زمین پہ جاگری۔
”کیا ہوا؟؟ لو۔۔ مار دومجھے۔مجھے مارنے سے ہی آخر تمہیں سکون ملتا ہے تو تمہیں سکون دینے کی خاطر میں اپنی جان پر سے بھی گزرنے کی ہمت رکھتا ہوں۔ٹرسٹ می۔لیکن ۔۔خدارا۔حیات !مجھ پہ یہ الزام مت لگاؤ کہ میں نے اپنی محبت کو ثابت کرنے کے لیے اپنی موت کا جھوٹا ڈرامہ کیا۔۔“ اس نے تیزی سے گردن کے گرد لپیٹا مفلر ہٹایا۔
”دیکھو۔۔۔یہ ڈرامہ ہے کیا؟؟ “ اسکے گلے پہ ابھی بھی زخم صاف نظر آرہا تھا۔ زخم شہ رگ کے قریب تھاجوکافی گہرامعلوم ہورہاتھا۔اسکا گھاؤدیکھ کراسکاتو دماغ جیسےماؤف ہوکررہ گیااورہاتھ پاؤں سُن ہوکررہ گئے۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کرپارہی تھی ۔
”بولو۔۔حیات۔۔؟ آئی تھیں ناں تم ہسپتال مجھ سے ملنے ۔۔مجھے دیکھنے آئی تھی ناں۔۔ حالت میری تمہارے سامنے تھی۔۔ پھر بھی تم۔۔“
حیات نے چونک کر اسے دیکھا۔اس سے پہلے وہ انکار کرتی وہ جھٹ سے بولا۔
”اب پلیز۔۔یہ مت کہنا کہ تم نہیں آئی۔۔ جانتی ہو۔۔میں تم سے بدظن بھی ہوگیا تھا۔۔ تمہارے ہاتھوں میں اپنی اکھڑتی سانسیں لی تھیں میں نے۔۔ اور تم نے میرا حال تک نہ پوچھا۔۔“ اس نے گہری سردآہ بھری۔
” لیکن پھر۔۔“ اسکی آنکھوں کے سامنے منظر دھندلایا۔
”جانتے ہیں۔۔وہ آئی تھیں آپ سے ملنے۔۔“ نیلسن سے رہنے نہ ہوا تو بول پڑا۔
وہ جو ٹانگ پہ ٹانگ رکھے پاشاجمال کی دھمکی کو سوچ رہا تھا جھٹ سے ٹیک ہٹا کر سیدھا ہوکر بیٹھا۔ ”کیا؟؟کب؟“
”ہسپتال میں ۔۔ بدرصاحب کی تدفین کے بعد۔۔رات میں۔۔“
اس نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ آنکھوں میں چھپی اداسی اب خوشی میں بدل گئی تھی ۔وہ پھوٹ پھوٹ کررونے لگا تھا۔
نیلسن تیزی سے آگے بڑھا۔ ”شاہ صاحب۔۔ سنبھالیئے خود کو۔۔ “
”مجھ سے کیوں چھپایا تم نے یہ سب؟؟ مجھے تو لگا کہ شاید۔۔وہ سب محض یکطرفہ تھا۔۔“
”یکطرفہ ہی تھا۔۔“ حیات تیزی سے بول اٹھی تو وہ منظرِ عام پہ واپس آیا۔
آنکھوں کے سامنے دھندلایا منظر اب صاف ہوچکا تھا۔ وہ اسکے سامنے کھڑی تھی جس سے اسے یکطرفہ محبت تھی لیکن یہ محض اسکی سوچ تھی۔
”تھا؟؟“ ہونٹوں پہ نیم مسکراہٹ سجائےاس نے سوالیہ نگاہیں لیے پوچھا۔
”نہیں۔۔ یکطرفہ ہے۔۔تمہارے دل میں جو کچھ بھی ہے ۔۔وہ یکطرفہ ہے۔۔ “ اس نے جیسے باور کیا تو اسکی ہنسی نکل گئی۔
”یکطرفہ۔۔۔یہ یکطرفہ ہے۔۔“ وہ مزید قہقہہ لگا کر ہنسا۔ ”حالت دیکھو ذرا اپنی۔۔“ اسے کندھوں سے پکڑتے ہوئے وہ اسے آئینے تک لے گیا۔ ”دیکھو ذرا اپنی آنکھوں کو۔۔ ان آنکھوں میں میری فکر دیکھو کیسے جھلک رہی ہے۔۔اور دیکھو ان آنسوؤں کو جو جھلملاکر تمہاری آنکھوں سے باہر آرہے ہیں۔۔صرف میرے لیے۔۔ہاں۔۔حیات صرف میرے لیے۔۔“
This Novel is available only in BOOK Form. Inbox on INSTA at UZMAZIAOFFICIAL1











