Welcome on Our Website "Aesthetic Novels Online "

To Publish Your Content on our website , Dm us on Instagram

AESTHETICNOVELS.ONLINE   FOUNDER: UZMA ZIA.    Insta ID : Uzmaziaofficial1

 

Kar chale jan nisar hum Ny Saniya Umair - Aesthetic Novels

Shopping cart

Magazines cover a wide array subjects, including but not limited to fashion, lifestyle, health, politics, business, Entertainment, sports, science,

Blog Details

Urdu Digest Novels

Kar chale jan nisar hum Ny Saniya Umair

Email :878

Novel name_ Kar chale jan nisar hum” published in Khwateen digest June_2025 January _2026

Writer _ Saniya Umair

Epi_1_8___ complete


Kidnapping based kahani hai.
درثمین کے والد خاندان کی ناراضگی مول لیکر نعیمہ (درثمین کی ماں) سے شادی کرتے ہیں،
خاندان کے لوگ کبھی اس شادی کو قبول نہیں کرتے،درثمین کے والد کی وفات کے بعد اسکی ماں اس کو لیکر وہاں سے بھاگ جاتی ہیں۔
درثمین کے دادا محراب خان علاقے کی بااثر شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ،انتہاٸی جابر،ظالم اور رعونت سے پر ہیں۔
انکے ظلم میں لپٹی مکاری بستی والوں پر قہر بن کر ٹوٹتی ہے۔
محراب خان موقعے کی تلاش میں ہوتے ہیں،موقع ملتے ہی اپنے جانثار بشار کے ذریعے درثمین کو اغوا کروا لیتے ہیں۔
یاد رہے بشار کہانی کے اہم کرداروں میں سے ایک ہے۔
درثمین کی دوست لاٸبہ۔۔۔۔
لاٸبہ کا کردار مجھے سب سے زیادہ پسند آیا ہے،جب بھی لاٸبہ کے سینز آتے ہیں خصوصا لاٸبہ اور اویس کے باہمی سینز ۔۔اوہو کہانی جی اٹھتی وہاں پر۔
بہت خوبصورت سینز۔
لاٸبہ کی شخصیت بہت چلبلی سی ہے بغیر سوچے کچھ بھی کر جاتی ہے۔
لاٸبہ اور درثمین کا وہ سین بہت خوبصورت اور مزاحیہ ہے،جہاں کالج کے فنگشن میں وہ ایک بوڑھے آدمی کا روپ دھارتی ہے۔
تو لاٸبہ درثمین کو ڈھونڈنے نکل پڑتی ہے۔
لاٸبہ مجھے اس لیے بھی پسند ہے کیونکہ اسے زندگی میں کوٸی پچھتاوا یا گلٹ نہیں ہے۔
جبکہ اسکے مقابلے میں باقی سارے کردار پچھتاٶں میں ڈوبے ہیں۔۔چاہے اویس ہو،بشار یا درثمین۔
کیا لاٸبہ،درثمین تک پہنچ پاۓ گی،یا درثمین وہیں ان اونچی فصیلوں میں قید رہ جاۓ گی،کیا بشار آخر تک محراب کا جانثار رہے گا؟
جاننے کےلیے آگے ریڈ کریں۔
خوبصورت،ہیپی اینڈنگ ہے۔❤️

SneakPeak

تادان چاہیے؟”
زندہ پہنچانا ہے کہ مردہ ؟”
“مجھ سے چاہتے کیا ہو؟”
” کہاں لے کر جارہے ہو؟”
تمہیں کیا ملے گا ؟
وہ ایک کمرہ تھا جہاں کونے میں چولہا پڑا تھا۔ باتھ روم باہر حسن میں تھا۔ مین میں ہی چار پائی تھی جس پر بشار ا کر بیٹھا تھا۔ مگر زیادہ وقت وہ اندر رو رہا تھا۔ در شین نے اسے کرید نا شروع کر دیا۔ اسے اب بھی اس سے خطرہمحسوس ہو رہا تھا۔ مگر وہ ظاہر نہیں کر رہی تھی۔
وقت آنے پر تم سب جان جاؤ گی۔ ٹھنڈا موت سا لہجہ اب بھی سالہجہ اب بھی ویسا تھا۔
بشار کی مجبوری تھی کہ اس کے سوال سننے پڑرہے تھے۔ وہ زیادہ دیر چپ رہتا تو کمزور لگتا اس لیے بول پڑا۔ میرے ان کو وہ مجھے باتھ روم جاتا ہے۔ اس نے دیے سی حکام سے کہا ہیے تھیں بچے کرنے کو کہاتھا۔

نہیں ۔ آگے سے بھی رعب سے جواب آیا۔در پھر الجھ گئی، وہ اس کی باتیں اب کیوں نہیں مان رہا تھا۔ اب نہیں مانی تو پہلے کیوں مان لی ۔۔ میں کہ رہی ہوں ، کولو میرے پاؤں ، یہ بی بی صاحب کا حکم ہے۔ اندر سے اس کا دل پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔ مروہ آنکھیں نکال کر چلائی۔۔ بشار نے ہاتھ میں موجود پیچ زور سے نیچے رکھا اور پلٹا۔ پھر آگے بڑھا۔ درثمین کی آنکھ پھڑ پھڑائی جسے تھپڑ پڑنے والا ہو۔
لگا۔ چولہے پر ۔ بشار اس کے پاس آیا اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر چابی نکالی پرشین حیران رہ گئی۔ پیار اس کا پاؤں کھولنے نلکے سے ٹپکتا پاتی ۔ سب چھوڑ کر وہ اسے صحن میں لے آیا۔ درمین کے ذہن سے ایک چھلی تو سوار لگ گئیں۔ وہ ہاتھ روم کی اور یہی سوچتی رہی۔ یہ ماجرا کیا ہے۔ جانوروں کی طرح اسے اٹھا کر گرہ ر اور رہی۔ یہ ماجرا ہے۔ کی اسے اٹھا لے آیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے خون کا پیاسا ہو۔ لیکن وہی آدمی اب کیسے اس کے حکم مان رہا تھا ؟ وہ کچھ سمجھ نہیں پارہی تھی۔ چلو اندر بہار نے غصے سے کہا۔ اب اس سرد لہجے سے اس کا خون نہیں جم رہا تھا۔ بہت کچھ بدل گیاتھا۔
در  اندر گئی ۔ ایسے بیڑی پہنا کر بشار نے دروازے کو تالا لگا دیا۔
تم کون ہو؟ در مشین کو اب اس کا خیال آیا۔ کیا یہ اس کا کوئی کزن ہے؟ لگتا تو ان کے گاؤں کا ہی ہے۔
بشار چائے کی پہلی کو پکڑ رہا تھا اس کا ہاتھ رک گیا۔
محراب خان کے کیا لگتے ہو؟ در ثمین نے اپنے دادا کا نام لیا۔
ساتھ وہ ذہن پر زور ڈال رہی تھی۔ نعیمہ ہائی تکی محراب خان جذباتی لوگوں کے بیچ میں ایک مقتل سے چلنے والا آدمی ہے۔ اس لیے اتنا کامیاب ہے۔ اس ایک کی عقل پر سینکڑوں جذباتی مرنے مارنے کو تیار ہوتے ہیں۔ وہ دوست بھی وہ بناتا ہے جو اس کے دشمن کے دوست ہوں۔ اس طرح وہ دشمن کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیتا
بشار کھانے کی پلیٹ لے کر اس کے سامنے آیا۔ درثمین نے ایک بار نظر نیچی کرنے کو کہا تھا۔

Click on three dots of this flipbook.

 
 

OR

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts